یمن کشیدگی میں اضافہ بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا سبب، ڈبلیو ایم پی
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے بتایا ہے کہ یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بھوک کے پھیلاؤ اور شدت میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ افراد کو گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنا پڑی ہے، تجارتی نظام متاثر ہوا ہے اور انسانی امداد کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔
ادارے کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر میتھیو ہولنگ ورتھ نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑائی میں حالیہ شدت آنے سے پہلے ہی یمن کو دنیا کے ایک بڑے انسانی بحران کا سامنا تھا۔ اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ درپیش ہے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ آٹے کے ذخائر محدود ہو گئے ہیں۔ خوردنی تیل کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے جس کے باعث لوگوں کے لیے ان اشیا کی خریداری مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
غذائی مدد کی فراہمی میں مشکلات
'ڈبلیو ایف پی' نے یمن میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ لحج اور تعز میں بے گھر افراد کے دو بڑے مراکز میں 70 ہزار سے زیادہ لوگوں کو تیار کھانا اور دیگر ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ادارہ لڑائی میں حالیہ شدت سے پہلے بھی حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں 15 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی مدد کر رہا تھا۔
ہولنگ ورتھ نے بتایا کہ اب محاذ کے قریب واقع علاقوں تک خوراک پہنچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لڑائی کے باعث تعز اور حدیدہ کے بعض علاقوں تک رسائی منقطع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے 'ڈبلیو ایف پی' اور اس کے شراکت دار ایسے تین لاکھ 50 ہزار لوگوں تک نہیں پہنچ سکتے جنہیں وہ پہلے امداد فراہم کرتے تھے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے عائد کردہ وقفے کے باعث امدادی ٹیمیں ان علاقوں میں کام نہیں کر سکتیں کیونکہ ان پر حوثیوں کا تسلط ہے۔
محدود وسائل، مخدوش مستقبل
غذائی تحفظ کے بحران کے پیش نظر 'ڈبلیو ایف پی' یمن میں وسیع تر امدادی کارروائیوں کے لیے پہلے سے مختص کردہ ذخائر سے کام لے رہا ہے۔ ہولنگ ورتھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے یمن کی مدد کے لیے جلد قدم نہ اٹھایا تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق، کم از کم 3,700 یمنی شہری نقل مکانی کی غرض سے آبنائے باب المندب کو عبور کرکے جبوتی پہنچ چکے ہیں جہاں ادارہ حکومت کے تعاون سے ان کی مدد کر رہا ہے۔
ہولنگ ورتھ نے کہا ہے کہ باب المندب کے گرد عدم استحکام ناصرف بڑے خطے بلکہ پوری دنیا میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی عدم تحفظ میں شدت کا سبب بن سکتا ہے۔ یمن کا بحران ایسے وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب باب المندب کے علاوہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ اسود پر بھی دباؤ ہے۔
جب یہ تینوں راستے بیک وقت دباؤ کا شکار ہوں اور اس کے ساتھ ال نینو موسمیاتی صورت حال کے اثرات بھی شامل ہو جائیں تو دنیا بھر کے غذائی نظام نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔