انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کووڈ 19 خلل کے بعد اوسط طول عمری دوبارہ پرانی سطح پر بحال

ایک معمر خاتون انڈونیشیا میں ایک گیلی سڑک پر بیٹھی متحرک سرخ اور سفید پھولوں کی پنکھڑیوں کی ٹوکریاں بیچ رہی ہے۔
UN Photo/Andrea Brizzi زندگی کے اضافی سال اچھی صحت اور وقار کے ساتھ گزارنا ضروری ہیں۔

کووڈ 19 خلل کے بعد اوسط طول عمری دوبارہ پرانی سطح پر بحال

صحت

عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں لوگ ایک مرتبہ پھر طویل عمر پا رہے ہیں اور کووڈ-19 وبا سے پیدا ہونے والے خلل کے بعد عمر کی متوقع عالمی اوسط تقریباً مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔

ادارے کے مطابق، 2023 میں دنیا بھر میں اوسط عمر 73.3 سال تک پہنچ گئی جو 2019 میں 73.4 سال تھی۔ تاہم صحت مند زندگی کی متوقع اوسط مدت کی بحالی نسبتاً سست رہی ہے جو 2023 میں 62.8 سال تک پہنچی اور 2019 کی سطح سے 0.4 سال کم ہے۔

Tweet URL

'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ معلومات، ڈیجیٹل صحت، تجزیات اور مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایلین لابریک نے کہا ہے کہ طویل زندگی پانا صحت عامہ کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ اب یقینی بنانا ہو گا کہ زندگی کے یہ اضافی سال اچھی صحت کے ساتھ گزارے جائیں جبکہ طبی نظام بھی آبادی کی بدلتی ہوئی ضروریات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔

'ڈبلیو ایچ او' کے یہ تخمینے 2000 سے 2023 تک دنیا بھر کے مختلف خطوں اور ممالک میں اموات اور جسمانی معذوری کے رجحانات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان کی تیاری میں مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سے کام لیا گیا ہے جن میں رکن ممالک میں پیدائش اور اموات کے سرکاری اندراجات، 'ڈبلیو ایچ او' کے تکنیکی پروگراموں کے تخمینے اور اقوام متحدہ کے شراکتی اداروں کے جمع کردہ اعداد و شمار شامل ہیں۔

متعدی بیماریوں سے اموات میں کمی

تخمینوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ2023  میں پہلی مرتبہ کم آمدنی والے ممالک میں ریکارڈ کی گئی تمام اموات میں متعدی بیماریوں کا حصہ نصف سے بھی کم ہو گیا۔ اُس سال غیر متعدی بیماریوںکے باعث 74 فیصد اموات ہوئیں جبکہ 2000 میں یہ شرح 58 فیصد تھی۔ دنیا میں اموات کی 10 بڑی وجوہات میں سے آٹھ غیر متعدی بیماریاں تھیں۔

دل کی بیماریاں اس وقت اموات اور بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ 2023 میں دل کی شریانوں میں خون کی فراہمی میں کمی کی بیماری کے باعث ہی تقریباً 95 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ اس طرح صحت مند زندگی کے تقریباً 21 کروڑ سال ضائع ہوئے۔

2000 کے بعد دنیا کے کئی علاقوں نے ان بیماریوں کی شرح کو کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم مغربی الکاہل اور جنوب مشرقی ایشیا کے خطوں میں انفرادی سطح پر خطرات میں اضافہ ہوا جو صحت کے شعبے میں برقرار عدم مساوات کی نشاندہی کرتا ہے۔

ڈیمنشیا کا بڑھتا بوجھ

دیگر دائمی بیماریاں بھی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں۔ ڈیمنشیا 2000 میں دنیا بھر میں اموات کی 19ویں بڑی وجہ تھا جو 2023 میں پانچویں بڑی وجہ بن گیا۔ اس عرصہ کے دوران ڈیمنشیا سے ہونے والی اموات تین گنا بڑھ گئیں۔

ذیابیطس سے موت کا خطرہ بھی 2000 کے بعد نمایاں طور پر بڑھا ہے بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا میں اس حوالے سے صورتحال کہیں زیادہ خراب ہے۔ 

2019 سے 2023 کے درمیان عالمی سطح پر عمر کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائے گئے تخمینے کے مطابق، ڈپریشن کے باعث صحت مند زندگی کے ضائع ہونے کی شرح تقریباً 20 فیصد بڑھی، جبکہ اضطرابی عارضوں کے باعث صحت مند زندگی ضائع ہونے کی شرح میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا۔

منشیات کے استعمال سے متعلق بیماریوں کے معاملے میں 2000 سے 2023 کے درمیان اموات اور صحت مند زندگی کے ضائع ہونے کے خطرے میں سب سے بڑا اضافہ براعظم ہائے امریکہ میں ریکارڈ کیا گیا جبکہ مغربی بحرالکاہل کے خطے میں اس حوالے سے نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

ڈاکٹر لابریک نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ اور مختلف خطوں میں اموات کی وجوہات اور بیماریوں کا بوجھ کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ اس طرح یہ رکن ممالک کو ایسے شواہد بھی مہیا کرتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ اپنی صحت کی پالیسیوں اور ترجیحات کا تعین کر سکتے ہیں۔