یوکرین جنگ انسانی حقوق کی تباہی جسے ختم یونا چاہیے، وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ انسانی حقوق کی تباہی میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں خطے کو بہت بڑے سانحے کا خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے دفتر نے رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں یوکرین کے تقریباً 15,280 شہریوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح ہر ہفتے اوسطاً 400 سے زیادہ شہری ہلاک یا زخمی ہوئے جو گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں 55 فیصد بڑی تعداد ہے۔
ہائی کمشنر نے کہا کہ روس کی شروع کردہ جنگ میں ہر ہفتے سیکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں۔ حالیہ حملوں میں رہائشی عمارتوں، سکولوں، طبی مراکز، ریلوے اور بازاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ظلم کی ہولناک تصویر
وولکر ترک نے کہا کہ ان کے دفتر کی ایک حالیہ رپورٹ میں شہریوں اور جنگی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
اس حوالے سے ریکارڈ کیے گئے ایک ہزار سے زیادہ واقعات میں سے 89 فیصد کے ذمہ دار روسی حکام تھے جبکہ 11 فیصد واقعات یوکرین سے منسوب کیے گئے ہیں۔ ایسے واقعات کے زیادہ تر متاثرین حراستی مراکز میں رکھے گئے مرد تھے، تاہم خواتین اور بچے بھی اس تشدد کا نشانہ بنے جن میں زیادہ تر واقعات مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں پیش آئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اس بے رحمی کی صرف ایک شکل ہے جس نے اس جنگ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ لہٰذا امن قائم کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ حقوق کی پامالیوں پر جواب طلبی بھی ضروری ہے۔
ڈرون جنگ کی تجربہ گاہ
ہائی کمشنر نے کہا کہ یوکرین کے عوام مسلسل خوف کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز پر دارالحکومت کیئو میں صرف 48 گھنٹوں کے دوران 33 گھنٹے تک فضائی حملوں سے خبردار کیا جاتا رہا۔
محاذ جنگ کے قریبی علاقوں میں فضائی گلائیڈ بموں کے استعمال سے رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں تقریباً 2,500 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے جو گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ بڑی تعداد ہے۔ یوکرین گویا ڈرون جنگ کی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں ان ہتھیاروں سے ہونے والی تباہی کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی املاک پر حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سپر مارکیٹوں اور خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں کو نقصان پہنچنے سے یوکرین کے بعض علاقوں میں سبزیوں اور دودھ سے بنی اشیا کی عارضی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔
خوف، انکار اور عسکری معیشت
موسم سرما قریب آنے پر یوکرینی شہریوں کو خدشہ ہے کہ انہیں پہلے سے کہیں زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اولیشکی میں تقریباً 2,000 افراد ایسے حالات میں پھنسے ہیں جہاں انہیں صاف پانی، بجلی اور گیس تک رسائی حاصل نہیں۔
روس کے اندر بھی شہری ہلاکتوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں تاہم دفتر ان کی مکمل تصدیق نہیں کر سکا کیونکہ اسے وہاں رسائی نہیں دی گئی۔
روسی معاشرہ خوف، انکار اور ایسی عسکری معیشت کی گرفت میں جکڑتا جا رہا ہے جو صحت اور تعلیم کے بجائے موت اور تباہی کو ترجیح دے رہی ہے۔
وولکر ترک نے تیسرے ممالک سے آنے والے جنگجوؤں کی موجودگی سے منسلک انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
امن کی جانب اقدامات
وولکر ترک نے مذاکرات کی جانب پیش رفت بحال کرنے کے لیے انسانی حقوق کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔
ان اقدامات میں اقتصادی اہداف اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا معاہدہ، محاذ جنگ کے مختلف حصوں میں مقامی سطح پر جنگ بندی، شہریوں کو محفوظ مقامات کی جانب نکلنے کا موقع فراہم کرنا اور جنگی قیدیوں کے تبادلے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
ہائی کمشنر نے عالمی برادری بالخصوص فریقین پر اثرورسوخ رکھنے ولے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے مذاکراتی امن کے لیے کوششیں تیز کریں۔