انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پائیک کی سزائے موت پر عملدرآمد کی مزید کوششیں ترک کریں، وولکر ترک

پس منظر میں پہاڑوں کے ساتھ، جیل کی عمارت کے سامنے حفاظتی باڑ پر استرا کے تاروں کا قریبی منظر۔
Unsplash/Hédi Benyounes امریکہ میں سزائے موت پر عملدرآمد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

پائیک کی سزائے موت پر عملدرآمد کی مزید کوششیں ترک کریں، وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک اور مختلف النوع حقوق پر ادارے کے مقرر کردہ نو غیرجانبدار ماہرین نے امریکی ریاست ٹینیسی کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قتل کی مجرم کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کی مزید کوشش نہ کریں جو زہریلا انجیکشن دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی تھیں۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ کرسٹا پائیک کے مقدمے نے سزائے موت کے حوالے سے متعدد سنگین خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ یہ سزا دینے کی متعدد ناکام کوششوں کے نتیجے میں جسمانی اور ذہنی اذیت کا طویل سلسلہ انتہائی قابل مذمت اور ظالمانہ ہے۔

Tweet URL

ہائی کمشنر نے کرسٹا پائیک کے خلاف مقدمے کی کارروائی سے متعلق ان سوالات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے جو تاحال حل طلب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سزائے موت کی ایک اور کوشش آگے بڑھانے کے حوالے سے مزید تشویش پیدا کرتی ہے۔

سزائے موت کی سخت مخالفت

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے مطابق، امریکہ میں سزائے موت پر عملدرآمد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ کرسٹا پائیک کے مقدمے نے ایک مرتبہ پھر ملک میں اس سزا کے انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات بالخصوص منصفانہ مقدمے کے لیے ضروری اقدامات اور ان افراد کے ساتھ برتاؤ کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے جنہیں بار بار سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی ہو۔ 

ہائی کمشنر نے سزا کی مخالفت میں اقوام متحدہ کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں سزائے موت کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ 

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست ٹینیسی کو کرسٹا پائیک کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرکے اس ظلم کا فوری اور ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا چاہیے۔انہیں سزائے موت دینے کی دو ناکام کوششیں تشدد کی ممانعت اور زندگی سے ناجائز طور پر محروم کیے جانے کی خلاف ورزی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ سزائے موت پر پابندی عائد کرنا کیوں ضروری ہے۔