کانگو: ایبولا مرکز پر آتشزدگی سے وباء پر قابو پانے کی کوششوں کو دھچکا
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کا مرکز آتشزدگی کے نتیجے میں تباہ ہو گیا ہے جس سے اس بیماری کے پھیلاؤ کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔
کانگو میں اقوام متحدہ کے انسداد ایبولا پروگرام کے عہدیدار جولین ہارنس نے وبا کے گڑھ صوبہ ایتوری میں میں پیش آنے والے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ علاج معالجے کا یہ مرکز پناہ گزینوں کے کیگونزے کیمپ میں قائم تھا جو اب تشدد کے باعث خالی ہو چکا ہے۔
انہوں نے یو این نیوز کو بتایا کہ ایبولا سے متاثرہ افراد کے لیے علاج گاہیں قائم کرنا بہت بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اس کے لیے مالی وسائل درکار ہوتے ہیں اور عملہ لانا پڑتا ہے۔ کوئی مرکز کھو دینے کا مطلب یہ ہے کہ بیماری کے خلاف طبی صلاحیت کم اور سرمایہ کاری ضائع ہو جاتی ہے جبکہ لوگوں کو وہ علاج نہیں مل پاتا جس کی انہیں ضرورت ہے۔
کیگونزے کیمپ میں چند روز پہلے تک تقریباً 19 ہزار افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ یہ علاقہ روانڈا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گزشتہ دنوں فوج نے مسلح گروہوں اور ہتھیاروں کی تلاش میں کیمپ پر چھاپہ مارا اور اس دوران فائرنگ کی آوازیں بھی آتی رہیں۔
تشدد اور نقل مکانی
صوبہ ایتوری کے علاقے دجوگو میں واقع ایک اور پناہ گزین کیمپ سے بھی 3,000 افراد جان بچانے کے لیے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ یہ صورتحال 27 ستمبر کو شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد پیدا ہوئی۔ اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، اس دوران، کم از کم چار افراد کے ہلاک اور سات کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ کئی مکانات بھی نذرآتش کر دیے گئے۔
لڑائی نے ایبولا کے خلاف جاری کارروائیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور ایتوری کئی علاقوں میں انسانی امداد کی رسائی محدود ہو گئی ہے۔
امدادی کارکنوں کی ہلاکت
ایتوری کے ہمسایہ صوبے شمالی کیوو میں ایبولا کے خلاف امدادی اقدامات میں شامل دو افراد کو ہلاک کر دیا گیا ۔
اوچا اور انسانی امداد فراہم کرنے والے ادارے تمام فریقین سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ امدادی کارکنوں سمیت شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، بے گھر افراد کے کیمپوں کی حفاظت کی جائے اور انسانی امداد کی رسائی برقرار رکھی جائے۔
صوبہ جنوبی کیوو اور تانگانیکا میں بھی تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں مزید ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ امدادی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔
وسیع پیمانے پر پھیلتی وبا
مئی کے وسط میں پھوٹنے والی یہ وبا اب سات صوبوں میں پھیل چکی ہے جبکہ یہ مجموعی طور پر ملک میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے۔
کانگو میں اب تک ایبولا کے 8,000 سے زیادہ مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں تقریباً 4,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ جہاں وائرس کی منتقلی کی شرح اب بھی بہت زیادہ ہے وہاں انفیکشن کے پھیلاؤ کی رفتار روکنے کے لیے صلاحیت بڑھانا ہو گی۔ علاوہ ازیں، وبا کے نئے مراکز میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے اقدامات
'ڈبلیو ایچ او' کانگو میں مقامی محکمہ صحت کے لیے معاون ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس ضمن میں مریضوں کے علاج، بیماری کی نگرانی، محفوظ اور باوقار تدفین اور مقامی آبادی سے رابطے کے سلسلے میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ادارے کی جانب سے ایتوری کے علاقے مونگالا میں بھی یہی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں 18 مئی کے بعد اب تک 346 مصدقہ مریض سامنے آ چکے ہیں اور 149 اموات ہو چکی ہیں۔
مختلف علاقوں میں مریضوں کے لیے دستیاب بستروں کی تعداد بھی بڑھائی گئی ہے جس کا مقصد 34 علاقوں میں قائم 54 طبی مراکز میں 1,800 سے زیادہ بستروں کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے اس توسیع کو موثر بنانے کے لیے مزید 1,400 سے زیادہ طبی ماہرین اور کارکنوں کی ضرورت ہے۔