امدادی کٹوتیوں سے 83 لاکھ پناہ گزینوں کی ضروری مدد مشکلات کا شکار
افغان مہاجر حاجی محمد شفیع نے پاکستان میں اپنی زندگی کے 44 سال گزارے لیکن بالآخر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی اور جائیداد فروخت کردی اور اپنے پانچ بچوں کے ساتھ تقریباً خالی ہاتھ افغانستان واپس چلے گئے۔
سرحد عبور کرتے وقت پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے ان کے خاندان کو ایک مرتبہ نقد امداد دی گئی جس کے بعد انہیں کسی جانب سے کوئی مدد نہیں مل سکی۔ ان کے پاس مستقل آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔
ٹانگ کی ایک چوٹ نے ان کے لیے کام کرنے کی صلاحیت بھی محدود کردی ہے۔ اب وہ کابل میں ایک عارضی جھونپڑی میں مقیم ہیں جس کی دیواریں پتھر جوڑ کر بنائی گئی ہیں اور کھڑکیوں پر پلاسٹک کی چادریں پڑی ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ جب کھانا کم ہو تو وہ اسے بچوں کو دے دیتے ہیں اور خود بھوکے رہتے ہیں۔ موسم سرما سے نمٹنے کے لیے بھی ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔
تحفظ کے نظام ٹوٹنے کا خدشہ
حاجی شفیع کا خاندان دنیا کے ان 83 لاکھ پناہ گزینوں، میزبان ممالک سے بے دخل ہونے والے مہاجرین اور بے وطن لوگوں میں شامل ہے جنہیں بنیادی تحفظ اور امدادی خدمات سے محروم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ دنیا کے بہت سے ممالک اور اداروں نے انسانی امداد میں بڑے پیمانے پر کمی کر دی ہے۔
'یو این ایچ سی آر' نے خبردار کیا ہے کہ مالی وسائل میں کمی کے باعث تحفظ فراہم کرنے کے نظام ٹوٹنے کو ہیں۔
ادارے نے 'تحفظ کا زوال: مالی وسائل میں کمی کی انسانی قیمت' کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس کے پاس ضرورت مند لوگوں کو امداد فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل 2025 میں 3.932 ارب ڈالر رہ گئے تھے جن کا حجم 2024 میں 5.178 ارب ڈالر تھا۔
ادارے کو امدادی مقاصد کے لیے رواں سال جولائی تک درکار 8.5 ارب ڈالر میں سے 32 فیصد مالی وسائل ہی موصول ہو سکے جبکہ اس سے مدد لینے والے افراد کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔
ادارے کی ڈائریکٹر برائے خارجہ تعلقات ڈومینیک ہائیڈ نے کہا ہے کہ جب رجسٹریشن کا عمل رک جاتا ہے، محفوظ پناہ گاہیں بند ہوجاتی ہیں یا بچوں کے تحفظ کی خدمات ختم ہوجاتی ہیں تو وہی خطرات دوبارہ سر اٹھانے لگتے ہیں جن سے لوگ بھاگ کر بے گھر ہوئے تھے۔
مہاجرین اور پناہ گزینوں کی مشکلات
افغانستان میں رواں سال کے دوران 10 لاکھ سے زیادہ مہاجرین واپس آچکے ہیں جبکہ انہیں سرحد پر ملنے والی نقد امداد 375 ڈالر فی فرد سے کم کرکے 170 ڈالر فی خاندان کردی گئی ہے۔ امسال اب تک صرف 175 خاندانوں کو دوبارہ آبادکاری کے لیے گرانٹ دی گئی ہے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 5,300 تھی۔
چاڈ میں 3 لاکھ 19 ہزار پناہ گزینوں کی رجسٹریشن میں تاخیر کے باعث انہیں ضروری دستاویزات سے محروم رہنے اور گرفتاری کا خطرہ درپیش ہے۔ دو لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو محفوظ مراکز تک رسائی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ دو لاکھ 33 ہزار بچے تحفظ کی خدمات سے محروم ہوسکتے ہیں۔
ایتھوپیا میں جنسی تشدد کا شکار افراد کے لیے محفوظ مراکز کی تعداد ایک سال کے دوران 29 سے کم ہوکر صرف 13 رہ گئی ہے۔ بعض علاقوں میں بچوں کے تحفظ کی خدمات میں بھی 85 فیصد تک کمی آئی ہے۔
سوڈان کے علاقے دارفور اور کردفان میں جنسی تشدد کے 50 ہزار سے زیادہ متاثرین کو زیادتی کے بعد فراہم کی جانے والی ضروری طبی سہولیات سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔
کثیرالمقاصد وسائل کی ضرورت
'یو این ایچ سی آر' کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ سال اپنی افرادی قوت میں ایک تہائی کمی کی اور 140 مقامات پر اپنے دفاتر بند کیے لیکن اب اس کے انتہائی ترجیحی کام بھی مالی بحران سے متاثر ہورہے ہیں۔
مخصوص منصوبوں کے لیے مختص کردہ وسائل کا تناسب 2022 میں 19 فیصد تھا جو رواں سال بڑھ کر 51 فیصد ہوگیا ہے۔ ڈومینیک ہائیڈ نے کہا ہے کہ تحفظ کی خدمات کو لامحدود حد تک کم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس طرح بالآخر پورا نظام ہی منہدم ہو جائے گا۔
ادارے نے عطیہ دہندگان اور امدادی شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیاد پر مالی معاونت فراہم کریں اور کثیرالمقاصد وسائل میں اضافہ کریں تاکہ لوگوں کو تحفظ کی فراہمی جاری رہے۔