تحفظ ماحول کے لیے کھانا اتنا ہی بنائیں جتنا کھا سکیں، یونیپ
جب آدھا کھایا سینڈوچ یا دوپہر کے کھانے میں بچا کھچا مرجھایا سلاد پھینک دیا جاتا ہے تو عالمی حدت میں اضافے کا مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
روزانہ ضائع ہونے والا کھانا دنیا بھر میں گلی سڑی خوراک کے اس بڑے ڈھیر کو اور بھی بڑھا دیتا ہے جو خراب ہونے کے بعد میتھین گیس پیدا کرتی ہے جس کا زمین کے ماحول کو خراب کرنے میں 8 سے 10 فیصد کردار ہے۔ ضائع شدہ خوراک میں وہ فصلیں بھی شامل ہیں جو کٹائی کے بعد دکانوں تک پہنچنے سے پہلے خراب ہو جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) کے مطابق، روزانہ ایک ارب سے زیادہ کھانے کھائے بغیر ضائع ہو جاتے ہیں۔ خوراک کی ضرورت سے زیادہ پیداوار، کھانے پینے کی اشیا کا خراب ہو جانا اور کھانے کی ناقص منصوبہ بندی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
تحفظ جنگلات اور پائیدار زراعت
یہ مسئلہ خوراک کے ضیاع اور نقصان سے متعلق آگاہی کے عالمی دن پر خصوصی توجہ کا مرکز ہے، جو ہر سال 29 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ امسال یہ توجہ خوراک کے ضیاع اور جنگلات کے تحفظ و پائیدار زرعی و غذائی نظام کے درمیان تعلق پر مرکوز ہے۔
کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں واقع یونیپ دفتر سے گفتگو کرتے ہوئے پروگرام مینیجر مائیکل موراتھا نے بتایا کہ خوراک کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کرکے زمین اور جنگلات پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو غذا فراہم کرنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، صحت مند جنگلات بھی کئی طریقوں سے خوراک کی پیداوار میں معاونت کرتے ہیں، جن میں مٹی کا تحفظ اور بارش کے نظام کو منظم کرنا شامل ہے۔
خوراک کو ٹھنڈا رکھنے کا فائدہ
یونیپ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے کہ خوراک کے ضیاع میں کمی کے لیے بہتر طریقہ ہائے کار اختیار کرنا ضروری ہے جن میں خوراک کو سنبھالنے، ذخیرہ کرنے اور ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے بہتر نظام میں سرمایہ کاری خاص اہمیت رکھتی ہے۔
جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کے لیے ٹھنڈک کے نظام کو مضبوط بنانا بھی انتہائی اہم ہے۔ نیروبی کے قریب 179 کسانوں پر مشتمل ایک تنظیم اپنی فصلوں کا 40 فیصد تک حصہ کٹائی کے بعد ضائع کر رہی تھی۔ جب اسے خوراک کو ٹھنڈ میں ذخیرہ کرنے اور ٹھنڈک والی گاڑیوں میں ایک سے دوسری جگہ منتقلی کی سہولت ملی تو اس ضیاع پر قابو پا لیا گیا۔
خوراک کو بہتر انداز میں ذخیرہ کرنے کی سہولیات کسانوں کو خشک سالی، سیلاب اور خوراک کی قلت جیسے موسمیاتی اثرات سے نمٹنے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ، غذائیت سے بھرپور خوراک کے ضیاع کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں 2.6 ارب افراد پھلوں اور سبزیوں کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
جدت طرازی کی ضرورت
مائیکل موراتھا کا کہنا ہے کہ جدت طرازی خوراک کے ضیاع کے مختلف مراحل پر مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر مرتبہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری نہیں۔
انہوں نے برازیل میں شروع کردہ منصوبے 'فیویلا اورگانیکا' کی مثال دی ہے جو مقامی آبادیوں، سڑک کنارے کھانے فروخت کرنے والوں اور باورچیوں کو ایسی غذائی اشیا استعمال کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے جنہیں عموماً پھینک دیا جاتا ہے جن میں کیلے کے چھلکے اور بروکلی کے ڈنٹھل جیسی چیزیں شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مصنوعی ذہانتبھی امید افزا نتائج دے رہی ہے۔ یونیپ کی معاونت سے سے 13 ہوٹلوں میں شروع کیے گئے ایک منصوبے میں ضائع ہونے والی خوراک کی مقدار کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے اندازہ لگایا گیا اور خریداری و کھانے کی تیاری کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کی گئیں۔ نتیجتاً، صرف چار ماہ میں ہی کھانے کے ضیاع میں 62 فیصد کمی واقع ہوئی۔
گزشتہ سال یونیپ اور اس کے شراکت داروں نے برازیل میں اقوام متحدہ عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 31) کے موقع پر 'فوڈ ویسٹ بریک تھرو'نامی اقدام شروع کیا تھا جس کا مقصد 2030 تک خوراک کے ضیاع میں نصف حد تک کمی لانا، میتھین کے اخراج کو کم کرنا اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
مائیکل موراتھا نے کہا ہے کہ عملی اقدامات کے ذریعے ہر سال دنیا بھر میں خوراک کے ضیاع سے ہونے والے ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ نقصان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خرچ کیا جانے والا ہر ڈالر شہروں کے لیے 8 ڈالر اور گھرانوں کے لیے 84 ڈالر کی بچت لاتا ہے۔