جنرل اسمبلی: امن، ترقی اور یو این اصلاحات موضوع بحث رہے، خلیل الرحمان
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس کے عام مباحثے کے اختتام پر جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان نے کہا کہ رکن ممالک نے عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات، مؤثر کثیرالفریقی نظام اور اقوام متحدہ کے ناگزیر کردار پر زور دیا۔
چھ روزہ مباحثے کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وفود کے نقطہ ہائے نظر مختلف تھے، لیکن اس بات پر وسیع اتفاق پایا گیا کہ موجودہ عالمی مسائل فوری کارروائی کے متقاضی ہیں اور اقوام متحدہ ان سے نمٹنے کے لیے مرکزی پلیٹ فارم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنرل مباحثے میں 194 وفود نے خطاب کیا جن میں 113 سربراہانِ مملکت و حکومت بھی شامل تھے، جبکہ "امن" وہ لفظ تھا جو دیگر تمام موضوعات سے زیادہ بار زیرِ بحث آیا۔
تنازعات اور امن کا مطالبہ
صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ مقررین نے غزہ میں انسانی مصائب، روہنگیا پناہ گزینوں کی صورتحال، اور مشرقِ وسطیٰ، یوکرین، سوڈان اور میانمار میں جاری تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وفود نے اس بات پر زور دیا کہ جنگوں کے اثرات صرف متاثرہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رکن ممالک نے شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد تک رسائی، احتساب اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد مقررین نے کہا کہ امن و سلامتی کے قیام کے لیے ثالثی، سفارت کاری اور ایک مؤثر سلامتی کونسل ناگزیر ہے۔
پائیدار ترقی کے وعدے
خلیل الرحمان کے مطابق پائیدار ترقی کا موضوع بھی بحث کے مرکزی نکات میں شامل رہا، جہاں مقررین نے خبردار کیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی رفتار ناکافی ہے اور کئی وعدے تاحال پورے نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے، موسمیاتی خطرات سے دوچار اور محدود مالی وسائل رکھنے والے ممالک نے سب سے زیادہ فوری توجہ کا مطالبہ کیا۔ مباحثے کے دوران بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات، سستی مالی معاونت کی فراہمی اور ترقیاتی سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
انسانی حقوق اور ڈیجیٹل دنیا
صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ انسانی حقوق اقوام متحدہ کے تیسرے بنیادی ستون کے طور پر مسلسل زیرِ بحث رہے۔ مقررین نے اقلیتوں کے خلاف نفرت، مہاجرین اور پناہ گزینوں کے وقار کے تحفظ، اور خواتین و لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شمولیت کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر حقوق کے تحفظ کی ضرورت بھی نمایاں موضوع رہی، جبکہ اس حوالے سے نفرت انگیز تقاریر، غلط معلومات اور جھوٹے بیانیوں کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کی گئی۔
مصنوعی ذہانت موضوع بحث
خلیل الرحمان نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس سال کے مباحثے کے نمایاں ترین موضوعات میں شامل رہی۔ ان کے مطابق چار برس پہلے صرف پانچ وفود نے اے آئی کا ذکر کیا تھا، جبکہ اس سال 128 وفود نے اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا، جو موسمیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق پر گفتگو کرنے والے وفود کی تعداد سے بھی زیادہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے AI کے فوائد کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حکمرانی، جوابدہی اور مساوی رسائی سے متعلق خدشات بھی اٹھائے، اور اس بات پر زور دیا کہ AI کا نظم و نسق انسان مرکز، جامع اور ترقی پذیر ممالک کی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
اصلاحات اور اعتماد کی بحالی
اپنے خطاب میں خلیل الرحمان نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے اقوام متحدہ میں وسیع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، جن میں سلامتی کونسل کی اصلاح اور افریقہ کی مستقل رکنیت سے محرومی کو دور کرنا شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے شفاف، جامع اور میرٹ پر مبنی عمل کی حمایت کی گئی۔
اپنی صدارت کے مرکزی موضوع "اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا نظم و نسق" کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفود نے اداروں پر اعتماد کے بحران کا خاص ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اعتماد صرف وعدوں سے نہیں بلکہ شفافیت، نمائندگی، جوابدہی اور عملی نتائج کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ امن، ترقی، انسانی حقوق، ٹیکنالوجی کے مؤثر نظم و نسق اور بامعنی اصلاحات کے فروغ کے لیے موجودہ اجلاس کو نتیجہ خیز بنائیں۔