کووڈ 19: چھ سال گزر گئے لیکن کیا اگلی وباؤں کے خلاف تیاری موجود؟
اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں عالمی رہنماؤں نے ایک اہم اجلاس میں کووڈ۔19 وبا سے حاصل ہونے والے اسباق کا جائزہ لیا اور آئندہ وباؤں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کی تیاری کے لیے ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے پر بات چیت کی۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا کہ کووڈ وبا نے یہ سبق دیا ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک تنہا اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔ یہ سبق دنیا کو بھاری انسانی اور معاشی قیمت چکانے کے بعد ملا ہے۔ اب عالمی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ اس سبق سے کام لیتے ہوئے مستقبل کی تیاری کریں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ وباؤں سے نمٹنے کے اقدامات میں مساوات، یکجہتی اور کثیرالفریقی تعاون کے اصولوں کو بنیاد بناتے ہوئے، سائنس کی طاقت، مقامی آبادیوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کے عزم سے فائدہ اٹھا کر ہی یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دوبارہ کبھی کسی وبا کو دنیا مفلوج یا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
امینہ محمد کا کہنا تھا کہ 2023 میں جنرل اسمبلی کی جانب سے وباؤں سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق سیاسی اعلامیہ کی منظوری کے بعد دنیا نے نمایاں پیش رفت کی ہے لیکن کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خطرناک جراثیم انسانوں کی اجتماعی تیاری کا مسلسل امتحان لیتے رہتے ہیں۔
وباؤں کے خلاف 3 اہم ترجیحات
نائب سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جب کوئی وائرس پہلی مرتبہ پھیلتا ہے تو بڑی مقدار میں مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو تحفظ دینے کے وعدے سامنے آتے ہیں، لیکن جیسے ہی انفیکشن کی شرح کم ہونے لگتی ہے تو عزم بھی کمزور پڑ جاتا ہے اور صحت عامہ کے نظام پر عالمی اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔ اس منفی چکر کو مزید جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ وباؤں کے لیے بہتر تیاری کے ضمن میں تین اہم شعبوں پر خاص توجہ دینا ہو گی۔
1۔ یقینی بنایا جائے کہ تمام ممالک کے پاس کسی بھی ممکنہ وبا کا بروقت سراغ لگانے، اس کی نگرانی کرنے اور اسے پھیلنے سے روکنے کی مناسب صلاحیت موجود ہو۔
2۔ 'ون ہیلتھ' کے تصور کو حقیقی طور پر اپنانا ہو گا جو انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی نظام کی صحت کے درمیان گہرے تعلق کو تسلیم کرتا ہے۔
3۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مساوات کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وباؤں سے نمٹنے کی تیاری کا بنیادی ستون ہے اور انصاف کے اصول کے تحت تمام ممالک کو زندگی بچانے والے طبی وسائل تک رسائی ہونی چاہیے۔
عالمی ادارہ صحت کا وبائی معاہدہ
گزشتہ سال مئی میں عالمی برادری نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے وبائی معاہدے کی منظوری دی تھی۔ یہ وباؤں کی روک تھام، ان پر قابو پانے کی تیاری اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے رکن ممالک کو عملدرآمد کے لیے قانونی طور پر پابند کرنے والا پہلا معاہدہ ہے۔
تاہم، مذاکرات کار تاحال اس معاہدے کے ایک ضمیمے پر اتفاق نہیں کر سکے جس کا تعلق جراثیموں تک رسائی اور ان پر تحقیق کے نتائج کا تبادلہ کرنے سے ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت وائرس کے نمونوں کا رکن ممالک کے مابین تبادلہ کیا جائے گا اور اس کے بدلے متعلقہ ممالک کو ویکسین، تشخیصی سہولیات اور علاج تک رسائی کی ضمانت دی جائے گی۔
'ڈبلیو ایچ او' کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز تنظیم 'عالمی صحت اسمبلی' کی جانب سے معاہدے کے ضمیمے کی منظوری دیے جانے تک اس پر دستخط اور رکن ممالک کی جانب سے اس کی توثیق کا عمل شروع نہیں ہو سکتا۔ نائب سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اس ضمیمے پر مذاکرات کا عمل تیز کریں تاکہ معاہدے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں دنیا کے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
اجلاس کا سیاسی اعلامیہ
اجلاس کے بعد 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے پریس کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔
صحافیوں نے ان سے اجلاس میں منظور کیے جانے والے سیاسی اعلامیے کے بارے میں سوال کیا جو امریکہ کی مخالفت کے باعث منظور نہیں ہو سکا۔ اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جنرل اسمبلی کے صدر رواں سال کے اواخر میں اس اعلامیے کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے سامنے رائے شماری کے لیے پیش کریں گے۔
ایسے اجلاسوں میں سیاسی اعلامیے عموماً اتفاق رائے سے منظور کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال غیر متعدی امراض سے متعلق ایک اعلامیے کے معاملے میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی تھی۔ اس اعلامیے کو جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا جہاں ایک ملک کی مخالفت کے باوجود اسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔