فلسطینی امدادی ادارے ’انروا‘ کے کام اور مینڈیٹ کو خطرہ، گوتیرش
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے کام اور جنرل اسمبلی کی جانب سے اسے تفویض کردہ ذمہ داری کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ادارہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیرمعمولی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جس کے 400 اہلکار غزہ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران 'انروا' سے متعلق سالانہ وزارتی اجلاس سے خطاب میں کہی ہے جو اردن، سپین اور برازیل کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ادارے کے خلاف اسرائیل کے اقدامات ناقابل قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت قابض طاقت کی ذمہ داریوں اور اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت نہیں رکھتے۔
دو سال قبل اسرائیلی پارلیمان میں منظور کردہ قانون کے تحت 'انروا' کو اسرائیلی علاقے بشمول مشرقی یروشلم میں کام سے روک دیا گیا ہے اور اسرائیلی حکام نے اس کے ساتھ تعاون بھی بند کر دیا ہے۔ جنوری میں اسرائیلی حکومت نے یروشلم میں ادارے کی مرکزی عمارت پر قبضہ کر کے وہاں انہدامی کارروائی شروع کر دی تھی۔ ادارے کے خلاف تعزیری قوانین اقوام متحدہ کے منشور اور امدادی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد 2730 کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد کی رسائی ایک ایسا معاملہ ہے جسے مذاکرات کے بغیر انجام پانا چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے نیویارک اعلامیہ پر مزید پیش رفت کریں اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
'انروا' کے خلاف مہم
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ 'انروا' کو غزہ اور دیگر علاقوں میں امدادی کارروائیوں سے متعلق اسرائیلی حکام کے ساتھ ہونے والے رابطہ اجلاسوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل اب اس کے عملے کو ویزے بھی جاری نہیں کر رہا جبکہ اہلکاروں کو دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔
ادارے کو اپنے امدادی کاموں کے لیے درکار 100 ملین ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں اس کی سرگرمیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ناقابل برداشت حالات
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں اور روزانہ اوسطاً چار افراد ہلاک ہو رہے ہیں جن میں ایک چوتھائی تعداد بچوں کی ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں کی بحالی سے غزہ کے شہریوں کو کچھ سہولت ضرور ملی ہے لیکن حالات اب بھی ناقابل برداشت ہیں۔
مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں اور اسرائیلی بستیوں کو وسعت دینے کی کوششوں نے فلسطینیوں کو برداشت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے اور مسئلے کے دو ریاستی حل کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ اس غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال میں 'انروا' اب بھی استحکام برقرار رکھنے والی قوت اور لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے زندگی کا ایک اہم سہارا ہے۔
سکولوں اور طبی مراکز پر قبضہ
'انروا' کے قائم مقام کمشنر جنرل کرسچن سانڈرز نے اجلاس کو بتایا کہ غزہ میں ادارے کے 10 ہزار سے زیادہ اہلکار اب بھی 17 لاکھ افراد کی مدد کر رہے ہیں جبکہ ہر ہفتے تقریباً 70 ہزار طبی مشورے اور طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ادارے کی سرگرمیوں کے بارے میں غیر جانب داری کے جائزے کی 50 میں سے 41 سفارشات پر عمل کیا جا چکا ہے۔ مختصر اور محدود 'انروا' کا مطلب اس کی ذمہ داری میں تبدیلی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ادارے کے خلاف اسرائیلی اقدامات بالآخر اس کے ہیڈکوارٹر، پیشہ وارانہ تربیتی مرکز، سکولوں اور طبی مراکز پر قبضے تک پہنچ گئے ہیں۔ رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس کے لیے اپنی ذمہ داری کے مطابق کام کی گنجائش فراہم کرنے کے مطالبے کی حمایت کریں۔
سیاسی مفادات کا ہدف
اردن کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ایمن الصفادی نے ادارے کے مینڈیٹ میں کسی بھی تبدیلی یا اس کی ذمہ داریاں دیگر ممالک کو منتقل کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'انروا' کی ضرورت اس وقت ہی ختم ہو گی جب ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو جائے گی۔
سپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریز نے کہا کہ ان کے ملک نے گزشتہ تین برس کے دوران ادارے کے لیے 85 ملین یورو سے زیادہ امداد فراہم کی ہے اور دیگر عطیہ دہندگان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں۔
برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا نے مشرقی یروشلم میں 'انروا' کے مراکز کو بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کو درپیش بحران کی بنیادی وجہ سیاسی ہے۔