بڑھتی سطح سمندر پر قابو پانے کے اقدامات پر عالمی رہنما متفق
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سطح سمندر میں مسلسل اضافے کو روکنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اور موثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ سطح سمندر میں اضافہ ملی میٹر میں ناپا جاتا ہے لیکن اس کی قیمت برباد ہونے والی لاکھوں زندگیوں، بے گھر ہونے والی آبادیوں اور چھینے گئے مستقبل کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے یہ بات اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں سطح سمندر میں اضافے کے مسئلے پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں دنیا بھر کے رہنماؤں، ماہرین اور متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔ اجلاس میں کرہ ارض کے لیے اس وجودی خطرے پر غور کیا گیا جو تشویشناک رفتار سے بڑھ رہا ہے اور جس کے باعث پہلے ہی ناقابل بیان مصائب کے ساتھ کھربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔
ماحولیاتی ناانصافی
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسیں کرہ ارض کو جلا رہی ہیں۔ اس اضافی حدت کا 90 فیصد سمندروں میں جذب ہوتا ہے۔ 2024 میں سطح سمندر میں سالانہ اضافہ معلوم تاریخ کی بلند ترین سطح پر رہا۔ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور بڑے پیمانے پر کمی نہ کی گئی تو اس صدی کے اختتام تک سطح سمندر میں ایک میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے اور ساحلی شہروں اور آبادیوں کو درپیش خطرات 10 گنا تک بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب زمین غائب ہونے لگتی ہے اور میٹھا پانی کھارا ہو جاتا ہے تو وسائل پر مقابلہ اور تنازعات جنم لیتے ہیں جس کے نتیجے میں پوری کی پوری آبادیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی ماحولیاتی ناانصافی ہے کہ اس بحران کو پیدا کرنے میں سب سے کم کردار ادا کرنے والے لوگ ہی اس کی سب سے بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔
تین ترجیحات
سیکرٹری جنرل نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تین اہم اقدامات کی ضرورت پر زور دیا:
1۔ بنیادی وجوہات کا تدارک
انہوں نے کہا کہ عالمی حدت کو محدود رکھنے کے لیے 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 60 فیصد کمی لانا ہو گی۔ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو تین گنا بڑھانے، توانائی کی کارکردگی میں دو گنا اضافہ کرنے، میتھین کے اخراج میں نمایاں کمی لانے، جنگلات کی کٹائی روکنے، دوبارہ جنگلات اگانے اور معدنی ایندھن سے جلد از جلد اور منصفانہ انداز میں چھٹکارا پانا ضروری ہے۔
2۔ لوگوں کا تحفظ
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ سطح سمندر میں اضافے کے مقابلے میں مضبوطی پیدا کرنے کے اقدامات کو ملکی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ دنیا کی پوری آبادی کو ابتدائی انتباہی نظام کی سہولت فراہم کی جائے اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی موافقتی اقدامات اور ماحولیاتی تباہی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے بحران کے حجم کے مطابق مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔
3۔ قانونی وضاحت کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے گھر ختم ہو جائیں ان کے حقوق ختم نہیں ہو جاتے۔ ان ممالک اور آبادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی معاملات میں وضاحت ضروری ہے جو سطح سمندر میں اضافے سے متاثر ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کا اعلامیہ
اجلاس میں شریک اعلیٰ سطحی نمائندوں نے 'سطح سمندر میں اضافے سے متعلق اعلامیہ برائے اقدامات' بھی منظور کیا جو ایک مختصر مگر عملی نوعیت کی دستاویز ہے جس کی بنیاد چار اہم ستونوں پر رکھی گئی ہے:
- علم، اعداد و شمار اور سائنس
دستیاب بہترین سائنسی معلومات کی بنیاد پر اقدامات کو ترجیح دینا اور اس سلسلے میں عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا۔
- موافقت، مالی وسائل اور پائیداری
قدرتی اور ماحولیاتی نظام پر مبنی حل کو ترجیح دینا اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش مالی اور تکنیکی خلا کو دور کرنے کی ضرورت کا اعتراف۔
- روزگار، سماجی و معاشی مسائل، ثقافت اور ورثہ
سطح سمندر میں اضافے کے وسیع اور کثیر الجہتی اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے جامع اقدامات، جن میں متاثرہ آبادیوں کے لیے باوقار نقل مکانی اور رضاکارانہ منتقلی کے انتظامات بھی شامل ہوں۔
- سطح سمندر میں اضافے کے قانونی پہلو
اس اصول کی توثیق کہ کسی ریاست کی سرزمین کے ختم یا تبدیل ہو جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی تسلیم شدہ ریاستی حیثیت یا خودمختاری ختم ہو جائے گی۔ اس میں اس کے بحری علاقے اور اقوام متحدہ کی رکنیت بھی شامل ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے اس جامع دستاویز پر مذاکرات اور اتفاق رائے کے لیے رین ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب اس اہم کامیابی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔