انسانی کہانیاں عالمی تناظر
سر پر اسکارف پہنے ایک خاتون پاکستان کے دیہی علاقوں میں کھیت میں کام کرنے کے لیے کدال کا استعمال کر رہی ہے۔

موسمیاتی بحران کا مقابلہ صرف وسائل اور عالمی تعاون سے ممکن

© UNICEF/Fasiha Sharif پاکستان کی شاہین بیگم جنہوں نے اپنے والد سے کھیتی باڑی سیکھی اب کاشتکاری میں اپنے شوہر کی مدد کرتی ہیں۔

موسمیاتی بحران کا مقابلہ صرف وسائل اور عالمی تعاون سے ممکن

موسم اور ماحول

عالمی حدت میں عارضی طور پر 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد سے متواتر تجاوز اب ناگزیر ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی، غریب ممالک کو موسمیاتی مالی وسائل کی فراہمی اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنا کر اس تجاوز کو کم از کم اور مختصر رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔

ایک دہائی قبل دنیا عالمی حدت میں صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 4 ڈگری سے زیادہ اضافے کی جانب بڑھ رہی تھی۔ اگر تمام ممالک موسمیاتی اقدامات سے متعلق اپنے موجودہ وعدوں پر مکمل عملدرآمد کریں تو یہ اضافہ کم ہو کر 2.3 ڈگری سینٹی گریڈ تک آ جائے گا۔

کرہ ارض کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ 11 برس تاریخ کے گرم ترین سال رہے جبکہ شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب، طوفان اور جنگلات کی آگ انسانی جانوں، معیشتوں اور ترقی کو بڑھتے ہوئے نقصان سے دوچار کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مزید مضبوط موسمیاتی منصوبے پیش کریں، قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی تیز کریں اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے، موسمیاتی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کی مالی ضروریات پر مزید توجہ دیں۔

مویشیوں کا ایک ریوڑ ایک کھیت میں کھڑا ہے، جو طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت چمکدار سورج اور سنہری، دھندلے آسمان کے سامنے کھڑا ہے۔
© WMO/Guillaume Louÿs ال نینو کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں شدید خشک سالی، تباہ کن سیلاب اور سخت گرمی کی لہریں آنے کا خدشہ ہے۔

1.5 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز 

اس تجاوز سے مراد صنعتی دور سے پہلے کی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت میں ہونے والا اوسط اضافہ ہے۔ اس کا تعین کسی ایک غیر معمولی گرم سال کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا۔

تجاوز کا مطلب یہ ہے کہ درجہ حرارت مخصوص مدت کے لیے اس حد سے اوپر چلا جائے، ایک بلند ترین سطح تک پہنچے اور اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں خاطر خواہ کمی کر دی جائے تو بالآخر دوبارہ کم ہونا شروع ہو جائے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کے مطابق، اگر موجودہ ملکی موسمیاتی منصوبوں پر مکمل عملدرآمد بھی کر لیا جائے تو تب بھی عالمی حدت تقریباً 1.8 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ فرق بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ درجہ حرارت جتنا زیادہ بڑھے گا اور جتنی دیر تک بلند سطح پر رہے گا خطرات بھی اتنے ہی بڑھیں گے۔

ہنگامی اقدامات کیوں ضروری ہیں؟

اس معاملے میں تیز رفتار کارروائی اس لیے اہم ہے کہ موجودہ منصوبوں اور سائنسی تقاضوں کے درمیان اب بھی بہت بڑا فرق موجود ہے۔ تقریباً 90 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ممالک نے اپنے نظرثانی شدہ ملکی موسمیاتی منصوبے اقوام متحدہ کو پیش کر دیے ہیں۔ اگر ان منصوبوں پر مکمل عملدرآمد بھی ہو جائے تو تب بھی 2035 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف 10 فیصد کمی متوقع ہے۔

1.5 ڈگری کے ہدف کو قابل حصول رکھنے کے لیے اسی عرصہ کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تقریباً 60 فیصد کمی درکار ہو گی۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے اخراج میں زیادہ تیزی سے کمی لانا ہو گی، بالخصوص میتھین گیس اور مختصر مدت تک فضا میں رہنے والی دیگر آلودگی کا اخراج کم کرنا، جنگلات کی کٹائی کو روکنا اور معدنی ایندھن سے قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنا ہو گا۔

رکن ممالک کو اس منتقلی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بھی ضرورت ہے، جس میں بجلی کے جدید گرڈ، توانائی ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولتیں اور نقل و حمل، حرارت اور صنعت میں صاف بجلی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانا شامل ہے۔

قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کی جانب تیز تر منتقلی توانائی کے تحفظ کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔ دنیا کی تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جو جتنا معدنی ایندھن برآمد کرتے ہیں اس سے زیادہ درآمد کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب تنازعات یا دیگر رکاوٹوں کے باعث عالمی رسد اور قیمتیں متاثر ہوتی ہیں تو یہ ممالک خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ قابل تجدید توانائی اس انحصار کو کم کر سکتی ہے۔

کمبوڈیا کے ایک دیہی علاقے میں دو مزدوروں نے صاف نیلے آسمان کے نیچے ایک چھت پر شمسی پینل لگایا۔
© UNDP Cambodia/Manuth Buth توانائی کے بحران سے بچنے کا ایک حل قابل تجدید توانائی (شمسی، ہوائی اور آبی توانائی) کی طرف منتقلی ہے۔

موسمیاتی وسائل کی اہمیت

ترقی پذیر ممالک کو قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیےبلند شرح سود پر قرض لینا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے ماحول دوست بجلی، بجلی کے گرڈ اور توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری مشکل ہو جاتی ہے۔

اقوام متحدہ مسلسل سستے مالی وسائل کی فراہمی، کثیرالفریقی ترقیاتی بینکوں میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

مالی وسائل یہ تعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ موسمیاتی منتقلی کے فوائد کس کو حاصل ہوں گے۔ منصفانہ منتقلی میں کارکنوں اور مقامی لوگوں کو معاشی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملنی چاہیے، باعزت روزگار کے مواقع پیدا ہونے چاہئیں اور ترقی پذیر ممالک کو تیزی سے پھیلتی ماحول دوست توانائی کی معیشت میں زیادہ بڑا کردار ملنا چاہیے۔

اس میں بیٹریوں اور دیگر ٹیکنالوجی کے لیے درکار معدنیات بھی شامل ہیں۔ ایسی معدنیات پیدا کرنے والے ممالک کو چاہیے کہ وہ محض خام مال برآمد کرنے کے بجائے اپنے وسائل سے بھرپور معاشی فائدہ حاصل کریں۔

موسمیاتی موافقت کیوں اہم ہے؟

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی مستقبل میں عالمی حدت کو محدود کرنے کے لیے ناگزیر ہے، لیکن اس سے ایسے موسمیاتی اثرات ختم نہیں کیے جا سکتے جن کا لوگ آج سامنا کر رہے ہیں۔

نیپال اور چین میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ لوگ اور بنیادی ڈھانچہ شدید موسمی حالات کے مقابلے میں کس قدر غیر محفوظ ہیں۔ حالیہ ال نینو کا اثر 2027 کے اوائل تک برقرار رہ سکتا ہے جس سے شاخ افریقہ کے ممالک اور لاطینی امریکہ و غرب الہند کے بعض علاقوں سمیت کئی خطوں میں یہ خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

اسی لیے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھلنے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ان موسمیاتی اثرات سے نمٹنے میں مدد دی جائے جن سے بچنا ممکن نہیں رہا۔

اس میں مضبوط سڑکوں، گھروں اور عوامی سہولتوں کی تعمیر، پائیدار زراعت اور ماحولیاتی نظام، پانی کا بہتر انتظام اور قدرتی آفات سے قبل از وقت خبردار کرنے کے نظام کو وسعت دینا شامل ہے تاکہ لوگوں کو سیلاب، خشک سالی، طوفان اور شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔

80 ویں اجلاس کے اختتام اور 81 ویں اجلاس کے آغاز کے دوران United Nations کے جنرل اسمبلی ہال کا وسیع زاویہ منظر، UN نشان کے نیچے روسٹرم کی طرف مڑے ہوئے قطاروں میں بیٹھے مندوبین کے ساتھ۔
UN Photo/Manuel Elías اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے اختتام پر خطاب کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی تعاون کی ضرورت

کوئی بھی ملک تنہا موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ حکومتیں اپنی موسمیاتی پالیسیاں خود طے کرتی ہیں، لیکن ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار بہت سے نظام سرحدوں سے ماورا ہیں۔ ان میں توانائی کی منڈیاں، مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور سپلائی چین شامل ہیں۔ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی ملکی سرحدوں پر رک نہیں جاتا۔

بین الاقوامی تعاون دنیا بھر کے ممالک کو قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی تیز کرنے، موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے اور مالی وسائل تک آسان رسائی میں مدد دے سکتا ہے۔

جنرل اسمبلی میں پیش رفت

یہ ترجیحات 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں سیکرٹری جنرل کی موسمیاتی سربراہی کانفرنس میں بھی زیربحث آئیں گی۔

قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنا، ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی مالی وسائل کی فراہمی اور لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ دینا اس کانفرنس کے تین بنیادی موضوعات ہوں گے۔ 

اس موقع پر حکومتیں، ترقیاتی بینک، کاروباری ادارے، مالیاتی شعبہ اور سول سوسائٹی موسمیاتی وعدوں پر عملدرآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر غور کریں گے۔ علاوہ ازیں، موسمیاتی مسائل کے حل پر اس ہفتے مباحث کا انعقاد بھی ہو گا جن میں توانائی، سمندروں، موسمیاتی موافقت، میتھین گیس، مالی وسائل، معلومات کی درستگی اور ماحول دوست صنعتی ترقی کے حوالے سے اقدامات کی رفتار تیز کرنے پر غور کیا جائے گا۔