تارکین وطن کے بھیجے ترسیلات زر ایک دہائی میں دوگنا، رپورٹ
گزشتہ سال تارکین وطن نے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اپنے خاندانوں کو 728.6 ارب ڈالر بھیجے جو ایک دہائی قبل بھیجی جانے والی رقم سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیویلپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) کی نئی رپورٹ کے مطابق، ترسیلات زر کہلانے والی ان رقوم میں 2016 سے 2025 کے درمیان 94 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تعداد اس عرصہ میں صرف 28 فیصد بڑھی ہے۔
اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ محض تارکین وطن کی تعداد بڑھنے کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم لوگ اپنے گھرانوں کو پہلے سے زیادہ رقم بھیج رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں تقریباً 22 کروڑ تارکین وطن اپنے 1.1 ارب رشتہ داروں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔
'آئی ایف اے ڈی' میں شعبہ مالیاتی سہولت برائے ترسیلات زر کے سربراہ پیڈرو ویسکونسیلوس نے کہا ہے کہ اربوں ڈالر کی اس مجموعی رقم کے پیچھے عموماً 300 سے 400 ڈالر کی چھوٹی چھوٹی رقوم ہوتی ہیں جو تارکین وطن سال میں تقریباً نو یا دس مرتبہ اپنے گھر بھیجتے ہیں۔ گزشتہ سال تارکین وطن کی جانب سے بھیجی گئی رقم دنیا بھر میں فراہم کی جانے والی سرکاری ترقیاتی امداد سے چار گنا زیادہ تھی جبکہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہونے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی اس سے کم رہی۔
ترسیلاب زر، علاقائی صورتحال
ایشیا اور الکاہل گزشتہ سال مجموعی طور پر ترسیلات زر وصول کرنے والا سب سے بڑا خطہ رہا جہاں 384.9 ارب ڈالر موصول ہوئے جو عالمی مجموعے کا 53 فیصد ہیں۔ افریقہ کو 124.2 ارب ڈالر موصول ہوئے جو ایک دہائی کے دوران 86 فیصد اضافہ ہے۔
لاطینی امریکا اور غرب الہند میں ترسیلات زر دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں سب سے تیز رفتار سے بڑھیں جہاں یہ رقم 132 فیصد سے بڑھ کر 168.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تارکین وطن کی ملک بدری، روزگار پر پابندیاں یا افرادی قوت کی طلب میں کمی، رقم بھیجنے والے افراد کی تعداد اور ان کی اپنے گھر والوں کو رقم بھیجنے کی صلاحیت دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکا اور یورپ میں سخت تر ہوتی ہوئی مہاجرتی پالیسیوں کے اثرات بارے ویسکونسیلوس نے کہا ہے کہ فی الحال ترسیلات زر میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ بحرانوں کے دوران بھی خاندانوں کی ضروریات ترسیلات زر کے سلسلے کو بڑی حد تک برقرار رکھتی ہیں۔
دیہی معیشتوں کا فائدہ
ترسیلات زر کی تقریباً تین چوتھائی رقم خوراک، رہائش اور بجلی و گیس سمیت بنیادی ضروریات کو پورا کرنے پر خرچ ہوتی ہے۔ بقیہ ایک چوتھائی، یعنی سالانہ 180 ارب ڈالر سے زیادہ رقم صحت، تعلیم، گھروں کی تعمیر، بچت اور کاروبار میں استعمال ہوتی ہے۔
2025 میں تقریباً 233 ارب ڈالر، یعنی گھروں کو بھیجے جانے والے ہر تین میں سے تقریباً ایک ڈالر دیہی معیشتوں تک پہنچا جہاں روزگار، مالی خدمات اور بنیادی ڈھانچے تک رسائی اکثر انتہائی محدود ہوتی ہے۔
ترسیلات زر وصول کرنے والے خاندان ہر سال اندازاً 22 ارب ڈالر سے دیہی زرعی و غذائی نظام میں بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بحرانوں سے نمٹنے میں ترسیلات زر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خاندان ان رقوم سے نہ صرف آمدنی میں ہونے والے نقصان کو پورا کرتے ہیں بلکہ قدرتی آفات کے بعد اپنے گھروں اور روزگار کو بحال کرنے میں بھی مدد حاصل کرتے ہیں۔
رقوم بھیجنے پر بھاری اخراجات
اب نصف سے زیادہ ترسیل زر ڈیجیٹل ذرائع سے ہوتی ہے لیکن اس رقم کا بڑا حصہ وصول کنندہ کو نقد صورت میں ملتا ہے۔ گزشتہ سال جن خدمات کا جائزہ لیا گیا ان میں صرف 35 فیصد ایسی تھیں جن میں رقم بھیجنے والے سے لے کر وصول کرنے والے تک پورا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل تھا۔
ڈیجیٹل طریقے سے رقم بھیجنے کی اوسط لاگت تقریباً 4.6 فیصد ہے جبکہ غیر ڈیجیٹل خدمات کے لیے یہ شرح 7.3 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ ویسکونسیلوس کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے آبائی ممالک میں ان کے خاندانوں کو رقم وصول کرنے اور اسے استعمال کرنے کے لیے قابل اعتماد اور سستے ذرائع بھی درکار ہیں۔
'آئی ایف اے ڈی' نے ترسیلات زر کو مزید سستا اور شفاف بنانے، مالی خدمات تک رسائی کو بہتر کرنے اور خاندانوں کے لیے بچت، بیمہ اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا کرنے پر زور دیا ہے تاکہ وہ وقت کے ساتھ مالی مشکلات اور بحرانوں سے بہتر طور پر نمٹنے کے قابل ہو سکیں۔