امریکی حملے: ایران میں شہری ہلاکتوں پر عالمی قوانین کے احترام کا مطالبہ
ایران میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی مشن نے حالیہ علاقائی تنازع کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور لڑائی بند کر دیں۔ مشن کی جانب سے یہ اپیل جنوبی ایران پر امریکہ کے حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بعد کی گئی ہے۔
مشن نے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق، امریکی حملوں میں ایک شادی کی تقریب اور ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ متاثرین میں ایسی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جو پہلے ہی پسماندگی اور محرومی کا شکار ہیں۔
مشن کی سربراہ سارا حسین کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ، یہ حملے اس تنازع کے انسانی نقصان کی المناک یاد دہانی ہیں۔ شہریوں کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے اور لڑائی کے دوران شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتنی چاہیے۔
مشن نے خبردار کیا ہے کہ ان ذمہ داریوں کی خلاف ورزی بین الاقوامی جرائم کے مترادف ہو سکتی ہے۔
حملے روکنے کا مطالبہ
مشن کی رکن ویویانا کرسٹیسیوک نے کہا ہے کہ شہریوں پر حملوں کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور یقینی بنایا جائے کہ حقیقت سامنے آئے، انصاف ہو اور متاثرین کے نقصان کا ازالہ ہو سکے۔ حملے جاری رہنے سے انسانی مصائب میں اضافے اور ان لوگوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی محرومی مزید گہری ہونے کا خطرہ ہے جو پہلے ہی بقا کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مشن نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کے آزاد مبصرین، صحافیوں اور تفتیش کاروں کو حملے کے مقامات پر مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی دی جائے تاکہ جوابدہی کے لیے ضروری شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔
مشن نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے انٹرنیٹ تک رسائی پر عائد غیر ضروری پابندیاں اور آن لائن مواد کی سنسرشپ ان کوششوں کو متاثر کریں گی۔
اقوام متحدہ کے مشن نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تنازع روکنے، کشیدگی کا خاتمہ کرنے اور امن، انسانی حقوق، انصاف اور سیاسی و عوامی معاملات میں مساوی شرکت جیسے مسائل پر قابل اعتماد، نیک نیتی پر مبنی اور جامع مذاکراتی عمل بحال کرنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کریں۔