انسانی کہانیاں عالمی تناظر

اگست 2026 معلوم تاریخ کا گرم ترین مہینہ رہا، ڈبلیو ایم او

غروب آفتاب کے وقت سمندر کا وسیع و عریض پھیلاؤ جس میں آتش گیر نارنجی اور سرخ بادل پانی کی سطح پر جھلکتے ہیں، جو اشنکٹبندیی بحرالکاہل میں سمندر کے ریکارڈ بلند درجہ حرارت کی عکاسی کرتے ہیں۔
© WMO/Matthew Wilson سمندری درجہ حرارت بھی اگست 2026 میں بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

اگست 2026 معلوم تاریخ کا گرم ترین مہینہ رہا، ڈبلیو ایم او

موسم اور ماحول

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ معلوم تاریخ کا گرم ترین اگست تھا جس میں عالمی حدت میں اضافہ قبل از صنعتی دور کی اوسط کے مقابلے میں 1.65 ڈگری سیلسیئس زیادہ رہا۔

اگست کے درجہ حرارت کا یہ نیا ریکارڈ یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ سروس، امریکہ کی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن(این او اے اے) اور امریکی خلائی تحقیقی ادارے (ناسا) کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔ 'ڈبلیو ایم' او نے کہا ہے کہ اس غیر معمولی گرمی کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے گئے۔

Tweet URL

شمالی نصف کرے میں رواں برس موسم گرما معلوم تاریخ کا گرم ترین موسم رہا جبکہ جنوبی نصف کرے میں موسم سرما کے دوران بھی حدت ریکارڈ حد تک بلند رہی۔ اگست کے دوران قطب شمالی اور جنوبی میں سمندری برف کی مقدار اوسط سے کم ریکارڈ کی گئی۔

گرمی کی لہریں اور خشک سالی

مغربی یورپ میں اگست کے دوران شدید گرمی کی لہریں جاری رہیں۔ یہ غیر معمولی گرمی کا وہ سلسلہ تھا جو مئی میں شروع ہوا اور مسلسل شدت اختیار کرتا رہا۔ فرانس، ہنگری، رومانیہ، سربیا اور برطانیہ میں شدید خشک سالی بھی رپورٹ ہوئی۔

وسطی اور مشرقی یورپ کے وسیع علاقوں میں بھی اگست کے دوران غیر معمولی خشکی رہی جبکہ بعض علاقوں میں یہ صورتحال مئی کے بعد برقرار ہے۔

یورپ کے بڑے دریاؤں بشمول رائن، ڈینیوب، سدرن بگ اور نیپر میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ال نینو کے اثرات

'ڈبلیو ایم او' کے مطابق، اگست میں ریکارڈ توڑ موسمیاتی حالات کی ایک بڑی وجہ ال نینو بھی ہے۔ اس موسمیاتی کیفیت کے باعث دنیا بھر کے استوائی علاقوں میں سمندری طوفانوں کی سرگرمی متاثر ہوئی جبکہ بعض ممالک میں شدید بارشیں اور سیلاب بھی آئے۔

دوسری جانب، کئی ممالک خشک سالی سے متاثر ہوئے۔ کوپرنیکس سروس کے مطابق، ال نینو کی صورتحال نے انڈونیشیا میں موسمی جنگلاتی آگ کی شدت میں اضافے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے۔

ال نینو کے آئندہ اثرات کے بارے میں پیش گوئیاں بھی تشویش ناک ہیں۔ ادارے کے مطابق، بحر الکاہل میں یہ موسمی کیفیت پوری طرح قائم ہو چکی ہے اور آنے والے مہینوں میں ایک انتہائی طاقتور ال نینو کی شکل اختیار کرے گی جس کے نتیجے میں 2027 تک بارش اور درجہ حرارت کے نظام پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

'ڈبلیو ایم او' رواں برس کی عالمی موسمیاتی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی کانفرنس 'کاپ 31' میں پیش کرے گا۔