حکومتوں کو دہشتگردانہ پروپیگنڈا کا توڑ کرنے میں مشکل، رپورٹ
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنی بھرتیوں، مالی وسائل جمع کرنے اور تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی تک اپنے کام کے ہر مرحلے میں پروپیگنڈے کو شامل کر رہے ہیں جبکہ حکومتوں کو اس کا توڑ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے سیکرٹریٹ 'کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ' (سی ٹی ای ڈی) کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا پروپیگنڈا محض پیغام رسانی سے کہیں آگے بڑھ کر اب ان کے عملی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے جس سے انہیں اپنی تمام سرگرمیوں میں مدد ملتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دہشت گروہ پروپیگنڈے کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کو تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ گیمنگ پلیٹ فارم اور مختلف مشترکہ دلچسپیوں کے گرد قائم آن لائن گروہوں تک بھی پھیل چکی ہیں۔
دہشت گردوں کی بدلتی حکمت عملی
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی پروپیگنڈا حکمت عملی جس رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے اس کے نتیجے میں حکومتوں کے قوانین و پالیسیوں کے درمیان رفتار کا خلا پیدا ہو گیا ہے۔
ماضی میں القاعدہ جیسی تنظیمیں زیادہ تر مرکزی نوعیت کے پیغامات پر انحصار کرتی تھیں جو عموماً روایتی اور طباعتی ذرائع سے پھیلائے جاتے تھے۔ لیکن 2010 کی دہائی کے وسط میں داعش کے ابھرنے کے ساتھ یہ صورتحال بدل گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر، متعدد زبانوں میں اور ڈیجیٹل ذرائع سے پھیلنے والے پروپیگنڈے کے ایک وسیع ماحولیاتی نظام نے جنم لیا ہے۔
پرتشدد آن لائن مواد
رپورٹ میں اس مسئلے سے متعلق کئی نئے رجحانات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن میں مصنوعی ذہانت، گیمنگ پلیٹ فارمز، ڈسکارڈ، ٹوئچ اور دیگر متبادل آن لائن پلیٹ فارم شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بعض گروہ پرتشدد انتہا پسندانہ موضوعات پر مبنی فرسٹ پرسن شوٹر گیمز تیار کر رہے ہیں جبکہ بعض پہلے سے موجود گیمز میں تبدیلیاں کرکے ان میں پرتشدد انتہا پسندانہ بیانیے شامل کر رہے ہیں تاکہ تشدد پر مبنی پیغامات کو تفریح کے مانوس اور پرکشش انداز میں پیش کیا جا سکے۔
اسی دوران، انتہائی ہولناک پرتشدد مواد بھی انتہاپسندی کی جانب مائل کرنے میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس میں پھانسیوں کی ویڈیوز اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی تصاویر جیسا مواد شامل ہے۔ اس کے ساتھ، آن لائن دنیا میں ایسی ذیلی ثقافتیں بھی اہم ہوتی جا رہی ہیں جو مایوسی، بے معنویت اور زندگی سے بیزاری جیسے رجحانات پر مبنی ہیں۔
انتہاپسندانہ بیانیوں کا امتزاج
رپورٹ میں ایک اور اہم رجحان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو کہ ڈیجیٹل دنیا میں مختلف پرتشدد انتہا پسندانہ نظریات کا ایک دوسرے کے ساتھ بڑھتا ہوا امتزاج ہے۔
اس طرز عمل میں مختلف پس منظر رکھنے والے بیانیوں، علامتوں اور شکایات یا محرومیوں کو ملا کر ایسا مواد تیار کیا جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرے اور وسیع تر سامعین تک پہنچ سکے۔
پروپیگنڈا: دہشت گردی کا اہم جزو
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے پروپیگنڈے اور ان کی دیگر بنیادی سرگرمیوں کے درمیان تعلق تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے خصوصاً افریقہ کے ساہل خطے میں القاعدہ سے وابستہ(جے این آئی ایم)، صومالیہ میں الشباب، وسطی و جنوبی ایشیا میں داعش۔خراسان اور پاکستان میں تحریک طالبان پاکستانکی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
دہشت گرد گروہ اپنی حکمت عملی تیزی سے تبدیل کر لیتے ہیں جبکہ حکومتوں کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹںے کی پالیسیوں پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی اور انتظامی عمل زیادہ وقت لیتا ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ دہشت گرد پروپیگنڈے کو محض ایسے مواد کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے جسے روکا یا ہٹایا جانا چاہیے بلکہ اسے دہشت گردی کے ایک بنیادی عملی معاون کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، انسداد دہشت گردی کے اقدامات اس انداز میں کیے جانا چاہئیں کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہیں۔