یمن: فریقین میں لڑائی تیز ہونے سے شہریوں کی نقل مکانی میں اضافہ
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ ہفتے یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث کم از کم 46 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جمعرات تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق، مغربی ساحلی علاقے اور تعز سے تعلق رکھنے والے بے گھر افراد کی تعداد 50 ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی، جو ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ رواں ہفتے حوثی جنگجوؤں کا بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا پر قبضہ ہونے کے بعد رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ اپنا سامان لے کر شہر سے نکلتے دیکھے گئے۔
اطلاعات کے مطابق، گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی جھڑپوں میں دونوں جانب سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے دوران حکومتی فورسز نے جمعے کو آبنائے باب المندب میں واقع ایک جزیرے پر قائم اپنا اڈہ خالی کر دیا۔ دوسری جانب، حوثی جنگجوؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ میں سعودی جہاز رانی کو نشانہ بناتے رہیں گے۔
'آئی او ایم' کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ لڑائی پھیلنے کے ساتھ متاثرہ لوگوں تک زندگی بچانے والی امداد پہنچانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لحج اور عدن میں نئے پناہ گزین آ رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگوں کے شمال میں اِب کی طرف منتقل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
انسانی امداد کی اشد ضرورت
لڑائی میں شدت آنے سے عام شہری بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز سے اب تک بچوں سمیت کم از کم 14 شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، 6 سے 24 اگست کے دوران یمن کے سات اضلاع میں 67 شہری ہلاک اور 288 زخمی ہوئے۔
'آئی او ایم' نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی امداد کی محفوظ اور بلا تعطل رسائی یقینی بنائیں۔ ملک بھر میں امدادی کارکنوں، ان کے مراکز اور سامان کی حفاظت ہونی چاہیے اور امداد کی ترسیل کے لیے ضروری مواصلاتی و سفری راستے فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
یہ اقدام اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی کارروائیوں کے بعد ہنگامی امداد کے ذخائر پہلے ہی کم ہو چکے ہیں۔
طبی نظام پر شدید دباؤ
جانی نقصان کے علاوہ، لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے یمن کا پہلے ہی کمزور طبی نظام بھی شدید دباؤ میں آ گیا ہے۔ مآرب، حضرموت اور تعز کے ہسپتالوں میں جنگی زخمیوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے جس کے باعث ہنگامی علاج، سرجری اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے جبکہ یہ شعبے پہلے ہی اپنی گنجائش سے زیادہ مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، یمن میں صرف 60 فیصد طبی مراکز مکمل طور پر فعال ہیں۔ مآرب جنرل ہسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے اضافی وسائل مختص کرنے کی خاطر زچگی اور امراض نسواں کی خدمات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد بھی ہسپتال کے مردہ خانے کی گنجائش سے تجاوز کر چکی ہے۔
ادارے نے بتایا ہے کہ وسائل کو جنگی زخمیوں کے علاج کی جانب منتقل کرنے کا اثر دیگر مریضوں پر بھی پڑ رہا ہے، جبکہ طبی مراکز پہلے ہی عملے، بستروں اور ضروری ادویات و طبی سامان کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔