نیو یارک میں نائن الیون دہشتگردی انسانیت پر حملہ تھا، یو این چیف
25 برس قبل، 11 ستمبر 2001 کو امریکہ کے شہر نیویارک میں ہولناک دہشت گرد حملوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ان المناک واقعات کی برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ انسانیت پر حملہ تھے۔
سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں برسی کی تقریب کے موقع پر اپنے پیغام میں ان تمام متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا ہے جو ان حملوں میں ہلاک ہوئے۔ انہوں نے ان افراد کو بھی یاد کیا جو ان حملوں میں بچ گئے اور ان امدادی کارکنوں کو بھی سلام پیش کیا ہے جو حملوں میں تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جانب مدد کے لیے دوڑ پڑے تھے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ 11 ستمبر کے سوگوار دن کی یاد مناتے ہوئے ہم ان 3,000 متاثرین کو یاد کرتے ہیں، جن کا تعلق امریکہ سمیت 90 سے زیادہ ممالک سے تھا اور ان کے اہلخانہ اور عزیزوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نیویارک کے عوام، امریکہ اور ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے جن کی زندگیاں ان حملوں سے متاثر ہوئیں۔
انتونیو گوتیرش نے یاد دلایا کہ امسال اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو رکن ممالک کی جانب سے اپنائے جانے کے 20 برس بھی مکمل ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ اور تاحال نامکمل ذمہ داری ہے۔ اس دن پر ایسی دنیا کی تعمیر کے عزم کی تجدید کرنی چاہیے جو دہشت گردی سے پاک ہو۔
انسانی حقوق پر اثرات
ان حملوں نے دنیا بھر کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا اور بہت سے ممالک نے اپنے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے۔ اقوام متحدہ کے 30 سے زیادہ آزاد ماہرین کے ایک گروپ کے مطابق، متعدد ممالک نے ایسے غیر ضروری اور غیر متناسب اقدامات بھی اٹھائے جن سے انسانی حقوق، سول سوسائٹی، شہری آزادیوں، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچا۔
ان ماہرین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگوں نے بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کو ان کی حد برداشت سے بھی آگے تک کھینچ دیا ہے۔گزشتہ 25 برس کے دوران دنیا بھر میں نگرانی اور تحقیقات نے انسداد دہشت گردی کے نام پر بین الاقوامی قانون کی سنگین ترین پامالیوں کو بھی جنم دیا ہے۔ ان میں جارحانہ جنگیں، غیر قانونی قبضے، بے شمار جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے قابل بھرسہ الزامات بھی شامل ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی آڑ میں لوگوں کو ہدف بنا کر قتل کیاگیا، تفتیش کے نام پر تشدد کا ارتکاب ہوا، خفیہ حراستی مرکز قائم کیے گئے، لوگوں کو جبراً لاپتہ کیا گیا اور غیرمنصفانہ مقدمات میں سزائیں دی گئیں۔ امریکہ کے زیرانتظام گوانتانامو بے کا حراستی مرکز بھی اس کی ایک مثال ہے۔
ان خدشات کے ازالے کے لیے ماہرین نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے قوانین اور ان پر عملدرآمد کا ازسرنو جائزہ لیں اور انہیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین سے ہم آہنگ کریں۔
'امن کی گھنٹی خاموش رہی'
11 ستمبر 2001 کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں امن کی گھنٹی بجائی جانی تھی۔ تاہم حملوں کی شدت اور تباہی کی صورتحال سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ کے عملے نے بھی نیویارک کے ہزاروں دیگر شہریوں کی طرح اپنے دفاتر کا رخ کرنے کے بجائے محفوظ مقامات کی طرف جانے کی کوشش کی۔
یو این نیوز کے موجودہ مدیراعلیٰ وکٹر ایونز ہاروے نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے فضا میں دھواں دیکھا، لیکن اس کے باوجود وہ ٹرین سٹیشن کی طرف چلے گئے تاکہ دفتر پہنچ سکیں۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایک سکیورٹی گارڈ نے انہیں روکا اور کہا کہ وہ آج کام پر نہیں جا سکتے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ عمارت کی 37ویں منزل پر اس وقت انتخابی معاونت کی ڈائریکٹر مشیل گریفن اپنے دفتر کی جانب پہنچ بھی نہیں پائی تھیں کہ انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے پہلے ٹاور کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ کام کے لیے گھر سے نکل رہی تھی تو انہوں نے اپنے ہمسائے کو چیختے ہوئے سنا جو کہہ رہا تھا 'یہ میرا دفتر ہے'۔ انہوں نے باہر نکل کر دیکھا کہ پہلی عمارت کا ایک بہت بڑا حصہ غائب ہو چکا تھا۔
عالمی اتحاد اور یکجہتی
جب حملوں کی شدت اور تباہی واضح ہونا شروع ہوئی تو اقوام متحدہ کے عملے نے عمارت کی سیڑھیوں کے راستے انخلا شروع کر دیا۔
مشیل گریفن نے بتایا کہ جب وہ لوگ عمارت سے نکل رہے تھے تو سیڑھیوں سے نیچے آتے ہوئے انہوں نے سیکرٹری جنرل کے چیف آف سٹاف اور شیڈولر کو یہ بحث کرتے سنا کہ آیا دن بھر کی سرگرمیاں اور امن گھنٹی بجانے کی تقری طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رکھی جائیں یا نہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بھی عمارت کے اندر پھیلی خوف و ہراس کی کیفیت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی قابل اعتبار اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ایک اور طیارہ اقوام متحدہ کے صدر دفتر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ چنانچہ اس وقت کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو ان کی رہائش گاہ پر ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
حملوں کے بعد اقوام متحدہ کے اندر ایک غیر معمولی اتحاد دیکھنے میں آیا جس میں سلامتی کونسل بھی شامل تھی۔ سٹیفن ڈوجیرک کے مطابق، ان تباہ کن حملوں نے اقوام متحدہ کے اندر اور دنیا بھر میں واقعات کے ایک طویل سلسلے کو جنم دیا۔ یہ ایسے تھا جیسے کوئی زبردست دھماکا ہوا ہو اور اس کی لہریں آج بھی محسوس کی جا سکتی ہیں۔