سیلاب سے تباہ حال نیپال کا موسمیاتی انصاف اور تلافی کا مطالبہ
نیپال کی جانب سے حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد موسمیاتی تبدیلی سے ناجائز طور پر متاثرہ ملک کی حیثیت سے مالی معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس مطالبے نے ایسے ممالک کو مدد دینے کی ضرورت اجاگر کی ہے جن کا موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں بہت کم حصہ ہے لیکن وہ اس سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
نیپال نے اس ضمن میں اقوام متحدہ کے 'فنڈ برائے ازالہ نقصان و تباہی' سے مالی مدد کی درخواست کی ہے جو 2022 میں ایسے ترقی پذیر ممالک کی معاونت کے لیے قائم کیا گیا تھا جو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
ملک میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر لیلا پیٹرز یاہیا نے کہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی یہ تباہی اس بات کی غیر معمولی اور واضح مثال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک کو بڑھتے نقصانات اور تباہ کاریوں کا سامنا ہے۔ نیپال کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت معمولی حصہ ہے، لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں اسے بڑے پیمانے پر انسانی اور معاشی نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
موسمیاتی انصاف کا جائز مطالبہ
نیپال میں ایک گلیشیئر پگھلنے کے باعث 26 اگست کو آنے والے سیلاب سے تقریباً 84,270 افراد متاثر ہوئے جبکہ شمالی علاقے راسووا، نواکوٹ اور دھادنگ کے علاقوں میں سڑکوں، سکولوں، بجلی کے نظام اور پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
لیلا یاہیا نے کہا ہے کہ نیپال کی جانب سے موسمیاتی انصاف کا مطالبہ عالمی موسمیاتی نظام کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے اور اس وقت ملک کی درخواست اقوام متحدہ میں زیرغور ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ جو ممالک موسمیاتی تبدیلی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں انہیں نقصانات اور تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مناسب اور آسانی سے دستیاب معاونت ملنی چاہیے۔
ڈرون کے ذریعے امدادی کارروائیاں
ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں پوری پوری آبادیاں پانی میں بہہ گئیں اور دریاؤں کے کنارے تک اپنی جگہ بدل گئے۔ انہوں نے ایسے لوگوں سے بھی ملاقات کی جو اب بھی اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں ہیں۔ ان میں بعض افراد نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیاروں کو سیلاب کی 20 میٹر بلند لہروں میں بہہ جاتے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کے شراکت داروں کی جانب سے ضرورت مند افراد کو انسانی امداد پہنچائی جا رہی ہے تاہم سب سے زیادہ متاثرہ لوگوں تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
نیپال میں ہنگامی کارروائی کے دوران عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے زمینی رابطے سے محروم ہونے والی آبادیوں تک غذائی امداد پہنچانے کے لیے پہلی مرتبہ کارگو ڈرون کا استعمال بھی کیا ہے۔
ہنگامی امداد کی اپیل
نیپال میں ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے اقوام متحدہ اور ملکی حکومت نے گزشتہ جمعہ کو چار کروڑ 96 لاکھ ڈالر کے امدادی وسائل فراہم کرنے کی اپیل کی تھی جس کا مقصد دسمبر کے اختتام تک 84 ہزار افراد تک امداد پہنچانا ہے جس میں عارضی رہائش، طبی سہولیات اور نقد مالی معاونت شامل ہو گی۔ گزشتہ روز تک اس اپیل پر 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر موصول ہوئے تھے۔
لیلا یاہیا نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام کی بحالی، حاملہ خواتین کے لیے موبائل طبی مراکز کا قیام اور اس تباہی سے متاثرہ افراد کو ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنا ترجیح ہے۔