انسانی کہانیاں عالمی تناظر

دنیا میں بڑھتے تنازعات کو روکنے کے لیے امن پر توجہ کی ضرورت، گوتیرش

UN سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس ایک رسمی تقریب کے دوران نیویارک میں United Nations ہیڈ کوارٹر میں ایک بڑی جاپانی پیس بیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش نیو یارک میں ادارے کے صدر دفتر میں نصب ایک بڑا جاپانی گھنٹہ بجا کر امن کی اہمیت اجاگر کر رہے ہیں۔

دنیا میں بڑھتے تنازعات کو روکنے کے لیے امن پر توجہ کی ضرورت، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ امن کے لیے سرمایہ کاری کریں کیونکہ دنیا بھر میں بڑھتا ہوا تشدد، تقسیم اور تنازعات انسانی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاپانی امن گھنٹی بجانے کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کبھی خاموشی سے حاصل ہونے والی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل محنت اور عملی اقدامات درکار ہوتے ہیں، تاہم بدقسمتی سے اس وقت امن کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کمزور پڑ رہی ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ ہر سال امن گھنٹی کی آواز ہمیں قیام امن کی سب سے اہم اور دور رس نتائج کی حامل ذمہ داری کی یاد دلاتی ہے۔ تشدد اور تقسیم معاشروں کو توڑ پھوڑ رہے ہیں۔ تنازعات پھیل رہے ہیں اور شدت بھی اختیار کر رہے ہیں۔ لوگ مصائب جھیل رہے ہیں جبکہ ان مسائل کے حل کے لیے درکار مکالمہ اور یکجہتی کہیں نظر نہیں آ رہے۔

امن کے لیے موثر کوششوں سے متعلق سیکرٹری جنرل کا یہ مطالبہ 21 ستمبر کو منائے جانے والے عالمی یوم امن سے قبل سامنے آیا ہے۔ امسال 'امن میں سرمایہ کاری: ہر فرد کے لیے، ہر جگہ اور ہر روز' اس دن کا خاص موضوع ہے۔ 

عالمی رہنماؤں سے اپیل

انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر میں امن کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، سول سوسائٹی کے رہنماؤں، امن کاروں اور امن کے لیے کوشش کرنے والے افراد کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں حکومتیں امن قائم کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں وہاں عوام ایک دوسرا راستہ دکھا رہے ہیں۔ وہ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں، اختلافات ختم کرنے کے لیے پُل بنا رہے ہیں اور معاشروں کے زخم بھرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

سیکریٹری جنرل نے آئندہ ہفتوں میں اقوام متحدہ میں جمع ہونے والے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بھی ان لوگوں کی پیروی کریں اور صحت، تعلیم، غذائیت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ اس کے ساتھ ایسے ادارے اور نظام تشکیل دینے کی بھی ضرورت ہے جن پر عوام اعتماد کر سکیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کو انسانی حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا اور امن کے آزمودہ ذرائع یعنی سفارت کاری، مکالمے، مذاکرات اور قیام امن کے لیے دوبارہ عزم کا اظہار کرنا ہو گا۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ کے ساتھ کھڑے ہوں، عملی اقدامات اٹھائیں، مسائل کے حل میں سرمایہ کاری کریں اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کو مزید بہتر بنائیں۔

امن کی دیرپا علامت

امن گھنٹی جاپان کی اقوام متحدہ ایسوسی ایشن نے 8 جون 1954 کو ادارے کے لیے پیش کی تھی۔

یہ گھنٹی 60 ممالک کے مندوبین کی جانب سے عطیہ کیے گئے سکوں اور مختلف اقسام کی دھاتوں سے تیار کی گئی۔ اسے لکڑی سے بنے ایک ایسے ڈھانچے میں رکھا گیا ہے جو روایتی جاپانی شنتو عبادت گاہ سے مشابہت رکھتا ہے۔

یہ گھنٹی موسم بہار کے پہلے دن اور عالمی یوم امن پر بجائی جاتی ہے۔ رواں سال کے اختتام پر منصب سے سبکدوش ہونے والے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ آخری مرتبہ امن کی گھنٹی بجا رہے ہیں تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دنیا بھر میں امن کے علمبرداروں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔