سعودی عرب کے مختلف ٹھکانوں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
اقوام متحدہ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں متعدد مقامات پر یمن کے حوثیوں (انصاراللہ) کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے شہری آبادی اور توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
ادارے کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے ان حملوں میں شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات اور یمن میں مختلف محاذوں پر جھڑپوں میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جن میں لوگوں کے جانی نقصان کا خدشہ ہے۔
ترجمان نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکیں، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، شہریوں یا شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں اور شہری آبادی اور املاک کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ عسکری کشیدگی میں مسلسل اضافہ یمن کے لیے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے حوالے سے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
تباہ کن انسانی نتائج
امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ یمن میں لڑائی شدت پکڑنے کے نتیجے میں آبادیوں کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا ہے۔ 3 ستمبر کے بعد صوبہ تعز اور جنوبی الحدیدہ میں 5,600 سے زیادہ خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم 11 شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ مآرب میں بے گھر افراد کے لیے قائم کیمپوں پر گولہ باری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جس سے متعدد پناہ گاہیں تباہ ہوگئیں اور متاثرہ خاندانوں کو کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑا۔
سوموار تک امدادی شراکت دار تقریباً 2,340 خاندانوں تک پہنچ چکے تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق تعز سے ہے جبکہ مآرب اور ابین میں بھی متاثرہ خاندانوں کو ہنگامی امدادی سامان فراہم کیا گیا۔
امدادی وسائل کی ضرورت
ترجمان نے اقوام متحدہ کی اپیل دہراتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریق ضرورت مند افراد تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائیں۔ امدادی کارروائیوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دینے کے لیے فوری مالی معاونت کی ضرورت ہے اور صرف ہنگامی اقدامات کے لیے ہی 70 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ پناہ گاہوں اور گھریلو ضروریات کی اشیا کے لیے مزید 30 لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کی نے 2.2 ارب ڈالر کی امدادی اپیل جاری کی ہے، تاہم اب تک اس پر صرف 20 فیصد وسائل ہی مہیا ہو سکے ہیں۔
نقل مکانی کا بحران
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ یمن کے مغربی ساحل اور تعز و الحدیدہ کے بعض علاقوں میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث ہزاروں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعداد ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔
یمن میں ادارے کے نمائندے عبدالستار عیسوی نے کہا ہے کہ ان میں بہت سے لوگ پہلے ہی کئی مرتبہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ لڑائی اور نقل و حرکت کے راستوں پر عدم تحفظ کے باعث بعض خاندان محاذ جنگ کے قریب واقع علاقوں سے محفوظ طور پر نکلنے سے قاصر ہیں۔
'آئی او ایم' بے گھر ہو جانے والے افراد کی تعداد سے متعلق معلومات کے حصول اور تصدیق کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ سب سے زیادہ ضرورت مند افراد کی نشاندہی کی جا سکے اور فوری امدادی کارروائی کے لیے درکار وسائل فراہم کیے جائیں۔
ادرے نے تنازع کے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں، لڑائی سے بچ کر نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو محفوظ راستہ فراہم کریں اور محاذ جنگ کے قریبی علاقوں میں پھنسے لوگوں تک انسانی امداد کی بلارکاوٹ رسائی میں سہولت دیں۔