انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سرحد پار جرائم پر قابو پانے میں پولیس کا بین الاقوامی تعاون اہم

یو این ایم آئی ایل کا چینی امن دستہ لائبیریا کے ٹبمنبرگ میں بچوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
UN Photo/Albert Gonzalez Farran لائبیریا میں امن دستوں کے ساتھ خدمات سرانجام دینے والی چین کی ایک پولیس افسر گشت کے دوران بچوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے

سرحد پار جرائم پر قابو پانے میں پولیس کا بین الاقوامی تعاون اہم

امن اور سلامتی

دنیا بھر میں جرائم پیشہ گروہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو سرحد پار وسعت دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں کوئی بھی پولیس تنہا ان گروہوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال 7 ستمبر کو 'بین الاقوامی یوم پولیس تعاون' منانے کا مقصد بھی یہی ہے تاکہ رکن ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم(یو این او ڈی سی) کے مطابق، منظم جرائم ہر سال تقریباً 95 ہزار افراد کے قتل کا سبب بنتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں دانستہ قتل کی 20 فیصد وارداتیں منظم جرائم پیشہ گروہ کرتے ہیں۔

اس دن پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ نفاذ قانون کے لیے سرحد پار تعاون سے متاثرین کی بہتر معاونت، مجرموں کی گرفتاری، جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے اور سب کے لیے زیادہ سے زیادہ محفوظ ماحول کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی پولیس

گزشتہ چھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی پولیس نے امن کارروائیوں اور خصوصی سیاسی مشن کی تعیناتی جیسے اقدامات سے بہت سے ممالک میں جرائم کا قلع قمع کرنے میں مدد دی ہے جہاں مسلح تنازعات کے باعث قانون کی حکمرانی کمزور تھی اور عدالتی اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر ہو چکا تھا۔

حالیہ دنوں دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی 14 امن کارروائیوں میں 7,700 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے جانے کی منظوری دی گئی ہے جو شہریوں اور انسانی حقوق کے تحفظ، پولیس کے اداروں کو مضبوط بنانے اور جنگوں سے امن کی جانب منتقل ہونے والے ممالک کی معاونت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی پولیس تعاون

سائبر جرائم، دہشت گردی، دھوکہ دہی اور انسانی سمگلنگ جیسے جدید جرم تیزی سے سرحد پار پھیل رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بین الاقوامی پولیس تعاون قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات کے تبادلے، تحقیقات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مختلف دائرہ ہائے اختیار میں ہونے والے جرائم سے مشترکہ طور پر نمٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن(انٹرپول) اس تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے جو 196 ممالک کی پولیس کو آپس میں منسلک کرتا ہے تاکہ جرائم اور مجرموں سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے۔ تاہم، جرائم کی تحقیقات اور اپنے ملک کے اندر قانون کا نفاذ بدستور متعلقہ پولیس ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

انٹرپول کے علاوہ اقوام متحدہ پولیس کے علاقائی اداروں اور ملکی حکام کے ساتھ بھی کام کرتا ہے تاکہ پولیس کی سرحد پار کارروائی اور تعاون کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی پولیس کوئی عالمی پولیس فورس نہیں ہے جو عام طور پر نہ تو گرفتاریاں کرتی ہے اور نہ ہی ملکی اداروں کی جگہ لیتی ہے۔ اس کے اہلکار شہریوں کا تحفظ کرتے ہیں، ملکی پولیس کو مشورے اور تربیت فراہم کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ازسرنو تعمیر میں مدد دیتے ہیں۔

امن کاری میں نفاذ قانون

امن کارروائیوں کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ژاں پیئر لاکوا کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی پولیس رکن ممالک میں ایسے اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جو موثر، جواب دہ اور تمام طبقات کی ضروریات کے حوالے سے حساس ہوں۔

'یو این او ڈی سی' ان ممالک کو تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے جو منظم جرائم، انسانی سمگلنگ، بدعنوانی اور دیگر سرحد پار جرائم کی روک تھام اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی بین الاداری ٹاسک فورس برائے نفاذ قانون اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کی پولیس سے متعلق سرگرمیوں میں رابطہ کاری کرتی ہے تاکہ مربوط حکمت عملی اپنائی جا سکے اور کام میں غیر ضروری تکرار سے بچا جا سکے۔

اعتماد اور قانونی جواز

موجودہ حالات میں نفاذ قانون کے لیے یہ شراکتیں مزید اہم ہو گئی ہیں جب جنگیں، نقل مکانی اور دیگر بحران جرائم پیشہ گروہوں کو کمزور اور غیر محفوظ لوگوں کا استحصال کرنے کے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زوئیف نے کہا ہے کہ پولیس کے پیشہ ور، جوابدہ اور قابل بھروسہ ادارے ہی وہ اعتماد پیدا کر سکتےئ ہیں جس کی مدد سے لوگ تحقیقات میں تعاون کرتے اور سنگین جرائم سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

'کمزوریوں سے تحفظ، نفاذ قانون میں اعتماد اور قانونی جواز' امسال اس دن کا خاص موضوع ہے جو پولیس کے کام میں عوامی اعتماد اور اداروں کی قانونی و اخلاقی حیثیت کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

ژاں پیئر لاکوا کہتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف معاشروں کو نقصان سے محفوظ رکھیں بلکہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انصاف، جواب دہی اور شفافیت کا مظاہرہ بھی کریں۔