انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: عام لوگوں اور شہری ڈھانچے پر حملے معمول بننا انتہائی تشویشناک

سوڈان کے شمالی دارفور میں ال بکری کے متروک گاؤں میں ایک گاڑی کا جلا ہوا ڈھانچہ اور مٹی کی اینٹوں سے بنے گھر تباہ، جو تنازعہ اور بے گھر ہونے کے بعد کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
© UNOCHA/Giles Clarke سوڈان کے الفاشر علاقے میں ایک گاؤں حملوں کے بعد تباہی کی تصویر بنا ہوا ہے (فائل فوٹو)۔

سوڈان: عام لوگوں اور شہری ڈھانچے پر حملے معمول بننا انتہائی تشویشناک

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے سوڈان میں جاری جنگ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں شہریوں، ہسپتالوں اور ایندھن کے مراکز پر حملے معمول بن گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کونسل میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کردفان، نیل ازرق اور شمالی و مغربی دارفور کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور شہری فوری و سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔

Tweet URL

سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کے حریف عسکری دھڑے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین اس جنگ کے نتیجے میں 60 لاکھ سے زیادہ افراد ملک کے اندر بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ مزید 45 لاکھ افراد سوڈان کی سرحدیں عبور کرکے دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ سوڈان میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے، بیرونی مداخلت ختم کی جائے اور ملک میں ایک ایسی جامع جمہوری حکومت کی طرف واپسی ہونی چاہیے جس میں تمام طبقات کی نمائندگی ہو۔

تنازع میں بیرونی مداخلت

ہائی کمشنر کی یہ اپیل سوڈان کے تنازع پر کونسل میں پیش کردہ ایک نئی رپورٹ جاری ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس میں شہریوں کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون کے بڑھتے ہوئے استعمال اور متحدہ عرب امارات، چاڈ، جنوب مشرقی لیبیا اور صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ میں موجود افراد اور اداروں کی جانب سے جنگجوؤں کو مبینہ طور پر فراہم کیے جانے والے عملی تعاون کا تذکرہ بھی شامل ہے۔

ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال جاننے کے لیے کونسل کے قائم کردہ مشن نے کہا ہے کہ  متحارب فریقین ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون کا استعمال تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں شہری اپنے گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، بازاروں، بے گھر افراد کے کیمپوں اور پناہ گاہوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

ڈرون حملوں میں بڑھتی ہلاکتیں

مشن کے سربراہ عثمان چانڈے نے کہا ہے کہ شمالی کردفان کے شہر الابیض میں متواتر ڈرون حملوں نے پانی و توانائی کی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ ان حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ خطرات اب بھی انتہائی سنگین ہیں کیونکہ شہریوں کی زندگی کو خطرہ ہے جو نقل مکانی اور پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار بنیادی خدمات پر مزید بڑھتے بوجھ کا سامنا کر رہے ہیں۔

مشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فریقین نے عسکری کارروائیوں میں شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں جنوبی کردفان میں ایک کنڈرگارٹن اور ایک ہسپتال پر 'آر ایس ایف' کے ڈرون حملوں میں 114 افراد ہلاک ہوئے جن میں 60 بچے بھی شامل تھے۔ اسی طرح سوڈانی مسلح افواج(ایس اے ایف) کی جانب سے ایک ٹیچنگ ہسپتال پر کیے گئے حملوں میں کم از کم 70 افراد کی ہلاکت ہوئی۔

انہوں نے کونسل کو بتایا کہ شواہد کی بنیاد پر یہ یقین کرنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ فریقین نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین پامالیوں کا ارتکاب کیا ہے جو جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔

نظام صحت کی تباہی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ سوڈان کے سب سے بڑے شہر خرطوم کے تین اہم ہسپتالوں کی تباہی کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد طبی خدمات سے محروم ہو گئی ہے۔ ملک میں ادارے کے نمائندے ڈاکٹر عبدالنصیر ابوبکر نے کہا ہے کہ ان ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹر تباہ ہو گئے ہیں، تشخیصی اور طبی تصاویر بنانے والے آلات ضائع ہو چکے ہیں اور کئی وارڈ منہدم ہو گئے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود ہسپتالوں کا عملہ اب بھی مریضوں اور زخمیوں کا علاج جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے فوری امداد کی اپیل بھی کی ہے۔