انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور کہ افریقہ کو چھوٹا دکھانا بند کریں

روایتی بنے ہوئے کپڑے اور سفید قمیض پہنے ایک ٹوگولیس آدمی ایک سرکاری میٹنگ کے دوران اقوام متحدہ کے برانڈ والے مائیکروفون پر بات کر رہا ہے۔
UN Photo/Manuel Elías ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈسی نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں کو بریفنگ دے رہے ہیں۔

جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور کہ افریقہ کو چھوٹا دکھانا بند کریں

ثقافت اور تعلیم

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں، سکولوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ایسے نقشوں کا استعمال ترک کر دیں جن میں براعظم افریقہ کو اس کے حقیقی حجم سے کہیں زیادہ چھوٹا دکھایا جاتا ہے۔

اس قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، امریکہ نے مخالفت کی اور چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں ایسٹونیا، جارجیا، لیتھوانیا، مالدووا، سربیا اور یوکرین شامل ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ براعظموں کے حجم میں نقشہ جاتی تحریف کے علمی، تعلیمی، ثقافتی، جغرافیائی سیاسی اور سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ تحریفات تاریخی تعصبات کی عکاسی کرتی ہیں اور ان کی اصلاح سے بالخصوص افریقہ کے حوالے سے شناخت، مساوات اور ترقی کے فروغ میں مدد ملے گی۔

جنرل اسمبلی نے تسلیم کیا ہے کہ دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا مرکیٹر پروجیکشن خط استوا سے دور واقع زمینی خطوں کے حجم کو حقیقی تناسب سے زیادہ بڑا دکھاتا ہے جس کے نتیجے میں افریقہ اور بعض دوسرے خطے چھوٹے نظر آتے ہیں۔ حقیقی رقبے کی نمائندگی کرنے والے نقشہ جاتی طریقے براعظموں کے زیادہ درست حجم کو ظاہر کرتے ہیں جنہیں اپنایا جانا ضروری ہے۔

مرکیٹر پروجیکشن کیا ہے؟

1569ء میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے نقشہ ساز جیرارڈوز مرکیٹر نے نقشہ سازی کا ایک ایسا طریقہ وضع کیا تھا جس کا بنیادی مقصد سمندری سفر اور بحری جہاز رانی کا ایک مسئلہ حل کرنا تھا۔ ان کے نقشے پر سیدھی لکیریں ایک مقررہ قطب نما سمت کی نمائندگی کرتی تھیں جس کی مدد سے ملاح اپنے بحری راستے طے کرسکتے تھے۔

تاہم سمت کی درست نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے رقبے کی درستگی قربان ہو گئی۔ کوئی براعظم خط استوا سے جتنا دور ہو وہ اس نقشے میں اتنا ہی بڑا دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، بعض نقشوں میں گرین لینڈ افریقہ کے تقریباً برابر دکھائی دیتا ہے حالانکہ افریقہ کا رقبہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔ 

اگرچہ مرکیٹر پروجیکشن جہاز رانی کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن آج بھی یہ تعلیمی مواد، ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سرکاری دستاویزات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نقشوں میں موجود یہ تحریفات افریقہ کو علامتی طور پر چھوٹا دکھانے اور دنیا کے بارے میں غیر متوازن تصور کو برقرار رکھنے کا باعث بنی ہیں۔

افریقی گروپ کا موقف

ٹوگو نے افریقی گروپ کی جانب سے قرارداد کے مسودے پر مذاکرات کی قیادت کی۔ اس اقدام کو افریقی یونین کی حمایت حاصل تھی۔ ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے واضح کیا کہ اس کوشش کا مقصد مرکیٹر پروجیکشن کو مسترد کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ نقشہ بحری جہاز رانی کے لیے مفید ہے اور یہ بھی کہا کہ قرارداد کا مقصد کسی مخصوص نقشہ جاتی طریقے کو دنیا پر مسلط کرنا نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ منصفانہ نقشہ دنیا کا جغرافیہ تبدیل نہیں کرتا بلکہ اسے دیکھنے کے انداز میں تبدیلی لاتا ہے۔

امریکہ کا اعتراض

امریکہ کے نمائندے نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض نقشہ سازی میں اصلاح کی کوشش نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے سیاسی محرکات ہیں۔ نقشے میں براعظموں کے تناسب کو درست کرنے کی یہ بظاہر معصومانہ کوشش دراصل ایک بڑے اور بنیاد پرستانہ نظریاتی منصوبے کا حصہ ہے۔

انہوں نے قرارداد میں ازالہ نقصان اور علمی انصاف جیسے تصورات کے حوالوں کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات اقوام متحدہ کے کام کی راہ میں رکاوٹ اور ادارے کی ساکھ میں کمی آنے کی ایک وجہ ہیں۔