انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مقبوضہ مغربی کنارے کے تین فلسطینی کیمپوں سے جبری بیدخلی، رپورٹ

WFP عملے کا رکن عالمی خوراک کے پروگرام کے لوگو والی نیلی بنیان پہنے ہوئے، عارضی پناہ گاہوں کے قریب، مغربی کنارے کے ایریا سی، صدا الثلا میں فلسطینی خواتین اور بچوں کے ایک گروپ سے خطاب کر رہا ہے۔
© WFP/Hugh Rutherford اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے اہلکار مقبوضہ مغربی کنارے میں بے دخل فلسطینیوں سے ملاقات کر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے تین فلسطینی کیمپوں سے جبری بیدخلی، رپورٹ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے بتایا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال جنوری اور فروری میں مقبوضہ مغربی کنارے کے تین فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کی تمام آبادی کو بے دخل کر دیا اور اب بھی انہیں اپنے گھروں کو واپسی سے روک رہی ہیں جو کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

دفتر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے 'آپریشن آئرن وال' کے دوران شہریوں کو ہلاک کیا، سیکڑوں مکانات تباہ کیے، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کی اور جنین، نور شمس اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں تک انسانی امداد کی رسائی بھی روک دی۔

Tweet URL

اسرائیلی فورسز گھر گھر گئیں اور رہائشیوں کو علاقے سے نکل جانے کے احکامات دیے۔ بے گھر ہو جانے والے فلسطینیوں نےادارے کو بتایا، اسرائیلی اہلکاروں نے انہیں کہا کہ اب مزید کوئی پناہ گزین کیمپ نہیں ہو گا اور ان لوگوں کو اردن چلے جانا چاہیے۔ 

23 فروری 2025 کو اسرائیل کے وزیر دفاع نے فوج کو تینوں کیمپوں میں موجود رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ بے گھر فلسطینیوں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وسیع پیمانے پر تباہی

اکتوبر 2025 تک جنین پناہ گزین کیمپ کی 52 فیصد، نور شمس کی 48 فیصد اور طولکرم کی 36 فیصد عمارتیں تباہ یا نقصان زدہ ہو چکی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران کیمپوں سے 33 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر، طویل مدتی اور منظم انداز میں بے دخلی نے جبری منتقلی کے ارتکاب کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں جو کہ انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے۔

اسرائیلی فورسز نے فضائی حملوں، بکتر بند بلڈوزروں اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے دھماکوں کے ذریعے پورے کے پورے کیمپوں کو ناقابل رہائش بنا دیا جبکہ وہاں کوئی ناگزیر عسکری ضرورت موجود نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اقدامات اجتماعی سزا اور نسلی صفائی کے خدشات کو بھی جنم دیتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیر جائزہ مدت میں 21 بچوں سمیت 102 فلسطینی ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد اس عرصہ کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی تمام ہلاکتوں کا 46 فیصد ہے۔

اسرائیل سے قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا جس انداز میں نفاذ کیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو علاقے سے نکالنا اور مزید غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنے 59 سالہ قبضے کو ختم کرے اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی پاسداری یقینی بنائے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنی غیر قانونی موجودگی جلد از جلد ختم کرنا ہو گی۔