انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نیپال: سیلاب زدگان کے لیے یو این کی پانچ کروڑ ڈالر امدادی اپیل

ایک نیپالی خاتون چاول کی ایک بڑی بوری اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے عمارت کے سامنے نیلے رنگ کے WFP بینر اور آسٹریلوی امداد کے نشان کے ساتھ ہے۔
© WFP شمالی نیپال کے علاقے دھاڈنگ میں ایک خاتون اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم کردہ خوراک لے جا رہی ہے۔

نیپال: سیلاب زدگان کے لیے یو این کی پانچ کروڑ ڈالر امدادی اپیل

انسانی امداد

اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں نے گزشتہ ہفتے نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ 84 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ہنگامی مدد دینے کے لیے 4 کروڑ 96 لاکھ ڈالر مہیا کرنے کی اپیل جاری کی ہے۔

26 اگست کو نیپال اور چین کی سرحد پر ایک گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے شدید سیلاب سے اب تک 1,250 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی مقامی امدادی ٹیم کے مطابق، سیلاب سے کم از کم 84,270 شہری یا 19,284 خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب سے نیپال کے شمالی علاقے روسوا، نواکوٹ اور دھادنگ میں سڑکوں، سکولوں، بجلی کے نظام اور پانی کی فراہمی جیسے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ نیپالی حکومت کے امدادی اداروں سے مل کر متاثرہ خاندانوں کو ضروری اشیا خریدنے کے لیے نقد امداد فراہم کرنے، مقامی معیشت کی بحالی، بجلی کا نظام دوبارہ فعال کرنے، وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے اور آئندہ موسم سرما کے لیے لوگوں کو تیار کرنے میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ، ہنگامی متحرک شفاخانوں کے ذریعے علاج معالجہ اور غذائیت بھی فراہم کی جائے گی۔

مویشیوں کے تحفظ کی کوشش

نیپال میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر لیلا پیٹرز یاہیا نے کہا ہے طلب کردہ امدادی وسائل سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک نقد امداد، پناہ گاہیں، صحت کی سہولیات، صاف پانی اور تحفظ کی خدمات پہنچانے میں مدد ملے گی۔

عالمی بینک کے مطابق، نیپال کی مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 24 فیصد ہے، جس میں نصف حصہ مویشیوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے امدادی ٹیمیں مقامی لوگوں کے باقی ماندہ مویشیوں کو زندہ رکھنے اور انہیں محفوظ رکھنے میں بھی مدد فراہم کریں گی۔

یونیسف کے امدادی اقدامات

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف) بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے جبکہ دیگر ادارے بھی امدادی کارکنوں کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں مدد پہنچا رہے ہیں جہاں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

جمعے کو یونیسف اور یورپی یونین کی معاونت سے ایک فضائی پرواز 84 میٹرک ٹن امدادی سامان لے کر نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو پہنچی۔ اس سامان میں اسہال کے علاج کی ادویات، پانی کے ٹینک، حفظان صحت کا سامان، پانی صاف کرنے کے لیے درکار اشیا، سردیوں کے کپڑے اور تعلیمی مواد شامل ہے۔ ادارے کے مطابق اس امداد سے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچے گا۔

نیپال میں یونیسف کی نمائندہ ایلس اکونگا نے کہا ہے کہ یہ سامان فوری طور پر درکار مدد کے حصول اور بچوں اور خاندانوں تک ایسی خدمات پہنچانے میں معاون ہو گا جو ان کی صحت، فلاح و بہبود اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے اس صدمے سے نکلنے، صحت مند رہنے، دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے اور آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں اپنی زندگیوں کو بحال کرنے کے لیے مسلسل امداد انتہائی ضروری ہے۔ چونکہ اس تباہی کا حجم بہت وسیع ہے اس لیے ضروریات بھی بہت زیادہ ہیں اور ہر گزرتا دن اہم ہے۔