شام میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والی باہمت خواتین
یاسمین المشعان نے شام میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پر محیط لڑائی کے دوران اپنے پانچ بھائیوں کو کھو دیا۔ ان میں سے دو کو بشارالاسد کی حکومت نے جبراً لاپتا کیا اور تین بھائی پرامن احتجاج پر فوج کی فائرنگ سے مارے گئے۔
انہیں اپنے بھائی عقبہ کی ایک تصویر 'سیزر فوٹوز' میں ملی۔ یہ ان تصاویر کا ذخیرہ تھا جو 2013 میں شام سے خفیہ طور پر باہر لائی گئی تھیں۔ ان میں حکومتی حراست میں ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کی لاشوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ یاسمین کے لیے اپنے بھائی کی تصویر دیکھنا ہی وہ لمحہ تھا جس نے انہیں جبر کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ ذمہ داری اپنے ذمے لے لی کہ ان تمام متاثرین کو اپنے گمشدہ عزیزوں کا سراغ لگانے میں مدد دیں گی۔ ان دنوں وہ شام کے قومی کمیشن برائے عبوری انصاف کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
گزشتہ روز وہ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں موجود تھیں جب جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے 19 دسمبر کو لاپتا افراد کی تلاش کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کا عالمی دن قرار دیا۔
ثابت قدمی اور قربانیاں
یاسمین المشعان نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاپتا افراد کے لیے آواز اٹھانے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے والی قرارداد کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے ان کا سفر کس قدر طویل رہا۔
انہوں نے شام میں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے مل کر سیزر فیملیز ایسوسی ایشن بھی قائم کی۔ ان کا تمام خواتین کارکنوں اور اپنے عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں افراد کے لیے ایک ہی پیغام ہے کہ 'ہمت نہ ہاریں'۔
شام میں لاپتا افراد کی تعداد 130,000 سے 300,000 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہ اندازہ شام میں ان لوگوں کے حوالے سے قائم کردہ ایک آزاد ادارے کا ہے۔
خواتین کا فعال کردار
آمنہ خولانی شام کے قومی کمیشن برائے لاپتا افراد کی رکن ہیں۔ انہیں 2003 میں بشار الاسد کی حکومت میں گرفتار اور قید کیا گیا تھا۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے عزیزوں کی تلاش کا کام کبھی نہیں چھوڑا۔
انہوں نے بتایا کہ شامی انقلاب کے آغاز میں ہی وہ انسانی حقوق کی جدوجہد میں شامل ہو گئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں ان کے شوہر، چار بھائیوں اور خود انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ بعدازاں آمنہ، ان کے شوہر اور ان کے ایک بھائی کو رہائی مل گئی لیکن خاندان کے دیگر تین افراد کو صیدنایا جیل میں پھانسی دے دی گئی۔
آمنہ خولانی نے شام سے فرار ہو کر پہلے لبنان اور پھر برطانیہ میں سکونت اختیار کی۔ وہ شام میں لاپتا افراد کی تلاش کرنے والی شامی خواتین کی پہلی انجمن کے قیام میں بھی شامل رہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جنرل اسمبلی کی یہ قرارداد توثیق کرتی ہے کہ اس جدوجہد میں خواتین کا کردار ثانوی نہیں تھا بلکہ وہ جبر کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی پہلی صف میں موجود تھیں۔
امید کی طاقت
لاپتا امریکی صحافی آسٹن ٹائز کی والدہ ڈیبرا ٹائز کے لیے بھی جنرل اسمبلی کا یہ فیصلہ نہایت اہم اور جرات مندانہ اقدام ہے۔
انہوں نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی خاتون اپنے کسی عزیز کو کھو دیتی ہے تو اس کا درد نہایت منفرد اور گہرا ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں تمام لوگوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں تلاش کرنے اور یہ جاننے کی خواہش کو زندہ رکھیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔
امید کی قوت کو اجاگر کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے ابراہیم العلابی کہتے ہیں کہ لاپتا کیے گئے افراد کی تلاش میں مصروف بہت سی شامی خواتین نے بے حد بوجھ اٹھایا اور بہت بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی۔ اہم بات صرف یہ نہیں کہ ان کے دکھ کو یاد رکھا جائے بلکہ ہم ان کی ثابت قدمی اور ان کی کوششوں کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے۔