انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انسانیت بچاؤ: موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے پر زور

ایک بوڑھا بے قمیض آدمی گہری پھٹی ہوئی، خشک زمین کے ایک وسیع میدان پر جھک رہا ہے۔
© Adobe Stock/Johnstocker حکومتوں کو اپنے قومی موسمیاتی منصوبوں، نیٹ زیرو کے وعدوں اور اگلے اہداف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے غیرمعمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔

انسانیت بچاؤ: موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے پر زور

موسم اور ماحول

گرمی کی ریکارڈ توڑ لہریں، تباہ کن سیلاب اور شدید موسمی حالات اس حقیقت کے عکاس ہیں کہ گرم ہوتی زمین جلد حدت کی اس محفوظ حد کو عبور کر سکتی ہے جسے سائنس دانوں نے موسمیاتی تباہی سے بچنے کے لیے مقرر کیا ہے۔ اگر دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنی کوششیں فی الفور دوگنا بڑھائے تو ماحولیاتی تباہی سے بچنا ممکن ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ، فی الوقت عالمی حدت میں اضافہ روکنے کی جانب دنیا کی پیش رفت نہایت سست ہے۔ رپورٹ کے اجرا پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران شمالی نصف کرے میں پڑنے والی شدید گرمی، بے قابو جنگلاتی آگ اور جان لیوا سیلاب واضح انتباہ ہیں کہ مستقبل میں دنیا کو کیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Tweet URL

انہوں نے 2015 کے پیرس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کے تحت عالمی حدت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد میں رکھنے کی جدوجہد دراصل انسانیت کے لیے جدوجہد ہے۔ خدشہ ہے کہ دنیا آئندہ چند برس میں یہ حد عبور کرنے والی ہے 

معدنی ایندھن کا خاتمہ ضروری 

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ فوری اور موثر موسمیاتی اقدامات اب بھی دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتے ہیں۔ اس صدی کے اختتام تک عالمی حدت میں اضافے کو دوبارہ 1.5 ڈگری سیلسیئس سے نیچے لایا جا سکتا ہے۔ اس حد سے تجاوز کو ممکنہ حد تک کم اور مختصر رکھنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے معدنی ایندھن کے استعمال کو تیزی سے مرحلہ وار ختم کرنا، قابل تجدید توانائی کے انقلاب کو تیز کرنا، میتھین کے اخراج میں نمایاں کمی لانا اور زمین، جنگلات اور سمندروں کا تحفظ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو اپنے قومی موسمیاتی منصوبوں، نیٹ زیرو کے وعدوں اور اگلے اہداف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے غیرمعمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد کو تین گنا بڑھانا اور یقینی بنانا ہو گا کہ یہ امداد ان لوگوں تک پہنچے جو موسمیاتی خطرات کے سامنے سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور دیرپا نقصانات

یونیپ کی سربراہ انگر اینڈرسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی حدت میں 1.5 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ اضافہ ہوتا رہا تو اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں پہلے ہی ثابت کر رہی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات توقع سے زیادہ جلد ظاہر ہوں گے، ان کی شدت بھی زیادہ ہو گی اور وہ زیادہ دیر تک برقرار رہیں گے۔ اس کے نتیجے میں مزید جانیں ضائع ہوں گی اور نقصانات میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا، اب گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور موسمیاتی موافقت کے اقدامات کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد سے تجاوز کم سے کم اور مختصر ترین مدت کے لیے ہو۔

رپورٹ کے اہم نکات

  • عالمی حدت میں 1.5 ڈگری  سیلسیئس سے آگے معمولی سا اضافہ اور ہر گزرتا سال خطرات اور نقصانات میں مزید شدت لائے گا۔ ان میں شدید موسمی حالات، ماحولیاتی نظام کی تباہی، جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک اور نشیبی ساحلی شہروں کے ڈوبنے کے امکانات کے ساتھ انسانی صحت، غذائی تحفظ، پانی کی فراہمی، قدرتی ماحول، شہروں، بنیادی ڈھانچے اور معیشتوں کو ہونے والا شدید نقصان شامل ہے۔
  • کرہ ارض کا بلند درجہ حرارت جس قدر زیادہ ہو گا اور جتنی طویل مدت تک برقرار رہے گا، ناقابل واپسی ماحولیاتی تبدیلی کے خطرناک مرحلے تک پہنچنے کا خطرہ اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ اس میں برفانی تہوں کی شکستگی اور ایمیزون کے بارانی جنگلات کی تباہی جیسے خطرات شامل ہیں۔
  • موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے اقدامات اور ان سے مطابقت پیدا کرنے کی کوششوں کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں قدرتی ذرائع سے ماحول کو ٹھنڈا رکھنے جیسے اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
  • نیٹ زیرو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مستقل کمی بالآخر نیٹ منفی اخراج کی جانب بڑھنے کا اہم مرحلہ ہے۔
  • اس مقصد میں کامیابی کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور بین الاقوامی تعاون، موثر پالیسیاں، جامع طرز حکمرانی اور مناسب مالی وسائل کی فراہمی بنیادی شرائط ہیں۔
  • جو ممالک موسمیاتی تبدیلی کے زیادہ ذمہ دار ہیں انہیں سب سے تیز رفتار سے اور سب سے زیادہ بلند عزائم کے ساتھ اقدامات کرنا چاہییں۔