ایبولا کو قابو میں لانے کی کوششیں اس کے پھیلاؤ سے تیز ہونی چاہیں، فلیچر
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگومیں ایبولا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور دنیا کو اسے قابو میں رکھنے کے لیے مزید تیزرفتار اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے وبا سے نمٹنے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، تاہم ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی امدادی ضروریات تاحال پوری نہیں ہو سکیں۔ ایبولا کے خلاف کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے لیکن وائرس اس سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اگر فوری طور پر کوششیں نہ بڑھائی گئیں تو مزید جانیں ضائع ہوں گی اور خطرہ مزید سنگین ہو جائے گا۔
ٹام فلیچر نے کانگو اور ہمسایہ ممالک میں ایبولا سے نمٹنے اور وبا کے خلاف پیشگی تیاری کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی ہنگامی امدادی فنڈ (سی ای آر ایف) سے 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے زیادہ وسائل مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وبا کا تیزرفتار پھیلاؤ
2014 سے 2016 کے درمیان مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا کے ابتدائی 100 ایام میں گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں 635 مریض سامنے آئے تھے اور اس وائرس سے 399 اموات کی تصدیق ہوئی تھی۔ تاہم کانگو میں بنڈی بگیو ایبولا وائرس سے پھیلنے والی حالیہ وبا میں گزشتہ 100 ایام کے دوران ہی 5,515 مریض سامنے آئے اور 2,642 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔
سوموار تک ملکی حکام مجموعی طور پر 6,100 مصدقہ مریض سامنے آنے اور 2,950 اموات کی اطلاع دے چکے تھے۔
یوگنڈا میں ایبولا کا خاتمہ
ٹام فلیچر نے وبا پر قابو پانے کے لیے کانگو کی حکومت اور اقوام متحدہ کے شراکتی اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ ہفتے یوگنڈا میں ایبولا کی حالیہ وبا کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ یوگنڈا میں مریضوں کی فوری شناخت اور تشخیص، متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کا سراغ لگانے، انہیں الگ رکھنے، طبی نگہداشت، انفیکشن سے بچاؤ اور کنٹرول، وبا کے خلاف مقامی آبادی کے تعاون اور نگرانی کا نظام مضبوط بنانے کے ذریعے وائرس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے کانگو اور اس کے ہمسایہ ممالک میں دو کروڑ 30 لاکھ طبی معائنے کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے بتایا ہے کہ اس اقدام سے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، ممکنہ مریضوں کی نشاندہی اور سرحدوں کے آرپار وائرس کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
ٹام فلیچر نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ امدادی کارکن ضرورت مند افراد تک پہنچ سکیں۔ انہوں نےکہا ہے کہ تیزی سے پھیلتی ہوئی اس وبا کے خلاف جنگ کو عالمی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جانا ضروری ہے۔