فلسطین: غزہ میں غذائی قلت جبکہ مغربی کنارے امداد میں کمی
امدادی وسائل کی شدید کمی کے باعث عالمی پروگرام برائے خوراک(ڈبلیو ایف پی) نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی خاندانوں کے لیے غذائی امداد نصف حد تک کم کر دی ہے جبکہ دو برس میں ان لوگوں کی ضروریات دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 'ڈبلیو ایف پی' کے ڈائریکٹر شان ہیوز نے بتایا ہے کہ ادارے کے پاس مالی وسائل ختم ہو رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آج سے تقریباً دو لاکھ افراد ضروری غذائی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے، نقل و حرکت پر سخت پابندیوں، مکانات کی مسماری اور بڑے پیمانے پر بے دخلی نے فلسطینیوں کے ذرائع معاش کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور غذائی عدم تحفظ میں اضافہ کیا ہے۔
برداشت کی آخری حد
شان ہیوز نے کہا ہے کہ شدید معاشی بحران نے بھی لوگوں کو برداشت کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔ بے روزگاری دوگنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے جبکہ ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس وقت مغربی کنارے میں تقریباً 10 لاکھ افراد یعنی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ دو برس قبل یہ شرح صرف 11 فیصد تھی۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے کو روایتی طور پر غذائی بحران کا شکار خطہ نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن بڑھتے ہوئے دباؤ نے غذائی عدم تحفظ کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ ادارے جانب سے فراہم کی جانے والی فی فرد ماہانہ تقریباً 50 شیکل (20 ڈالر سے بھی کم) امداد بہت سے لوگوں کے لیے زندگی کا اہم سہارا بن گئی تھی لیکن وسائل کی کمی کے باعث اب یہ امداد بھی بند کی جا رہی ہے۔
غزہ میں غذائی عدم تحفظ
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شان ہیوز نے بتایا کہ 'ڈبلیو ایف پی' کو جولائی میں 75 ہزار خاندانوں کے لیے نقد امداد بھی کم کرنا پڑی۔ گزشتہ ماہ غذائی تحفظ کے بعض اشاریوں میں معمولی بہتری سے تحفظ کا جھوٹا احساس پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اب بھی غزہ کی دو تہائی آبادی کو انتہائی تشویشناک اور ہنگامی سطح کی بھوک کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انسانی بنیادوں پر غذائی امداد جاری نہ رہی تو اس سال کے اختتام تک 90 فیصد تک آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
شان ہیوز نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے خوراک مہیا کرنے کے لیے ادارے کو آئندہ چھ ماہ کے دوران 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر درکار ہیں جس کی فراہمی کے لیے عالمی برادری کو فوری قدم اٹھانا چاہیے۔
صحت کا نیا بحران
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی نمائندہ ڈاکٹر رینی وین ورٹ نے بتایا ہے کہ گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فضائی حملے جاری رہنے سے سلامتی کی صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے۔
انہوں نے علاقے میں پانی کی تباہ کن صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، یہ ناقابل قبول ہے کہ غزہ میں تین سال گزرنے کے باوجود بیشتر لوگ پانی کے لیے ٹینکروں پر انحصار کر رہے ہیں۔
انہوں نے آبادی تک پہنچنے والے پانی کی مقدار اور معیار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی میں جراثیمی آلودگی جنوری کے بعد تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہے جبکہ غزہ میں پانی کو جانچنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ شدید نوعیت کے اسہال میں مبتلا لوگوں کی تعداد مارچ میں تقریباً 30 ہزار تھی جو بڑھ کر اگست میں 58 ہزار سے زیادہ ہو گئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موسم سرما میں پانی اور صفائی ستھرائی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ گنجان آباد علاقوں میں گندے پانی کے بہاؤ اور بدبو کا مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔
مصنوعی اعضاء کی ضرورت
رینی وین ورٹ نے بتایا کہ غزہ میں جنگ سے متاثرہ 6,600 سے زیادہ افراد ایسے ہیں جن کے اعضا کاٹ دیے گئے ہیں اور انہیں طویل مدتی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ تاہم مئی 2024 کے بعد علاقے میں ایک بھی مصنوعی عضو نہیں لایا جا سکا جو ان افراد، خصوصاً بچوں کو چلنے پھرنے اور باوقار زندگی گزارنے میں مدد دے سکے۔ اکتوبر 2023 سے رواں سال جولائی تک ہاتھ پاؤں سے محروم ہونے والوں میں صرف 12 فیصد کو ہی مصنوعی اعضا فراہم کیے جا سکے تھے۔
انہوں نے زور دیا کہ صحت کے شعبے میں حاصل ہونے والی محدود پیش رفت کو ہر قیمت پر محفوظ بنانا اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے۔