انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ملٹی پولر دنیا میں عالمی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کا تحفظ ممکن، گوتیرش

بشکیک میں 2026 SCO پلس میٹنگ کے لیے مرد سربراہان مملکت کا گروپ سوٹ میں ملبوس ایک نیلے رنگ کے پس منظر سے پہلے سرخ قالین والے اسٹیج پر کھڑا ہے جس میں SCO کا نشان، برف سے ڈھکے پہاڑ، اور کثیر لسانی متن دکھایا گیا ہے۔
United Nations/Askat Chynaly اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش (دائیں سے پہلے) کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شریک ہیں۔

ملٹی پولر دنیا میں عالمی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کا تحفظ ممکن، گوتیرش

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ بدلتی دنیا کے مطابق عالمی انتظام کی تشکیل نو میں کردار ادا کریں۔ کثیر قطبی عالمی نظام کی بدولت کثیرالفریقیت کی مضبوطی، عالمی معاملات میں انصاف کا فروغ اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہے۔

انہوں نے کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی ایسا موقع فراہم کرتی ہے جس سے مزید نمائندہ بین الاقوامی ادارے اور ایسا اقوام متحدہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو اپنے منشور کے مطابق دہرے معیار کے بغیر سب کے کام آئے۔

Tweet URL

اگرچہ دنیا میں بہت بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں لیکن بیشتر بین الاقوامی ادارے اب بھی 1945 کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ عالمی رہنماؤں کو اقوام متحدہ اور بریٹن وڈز نظام سمیت اپنے کثیرالفریقی اداروں میں اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ وہ آج کی حقیقتوں کی عکاسی کریں۔ اس ضمن میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانا ہوگا تاکہ ایک منصفانہ عالمی نظام تشکیل دیا جا سکے۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور 'ایس سی او'کی دیرینہ شراکت کو بھی سراہا اور تنظیم کو کثیرالفریقی نظام کا ایک اہم ستون قرار دیا۔

تعاون کے لیے چار ترجیحات

سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ اور 'ایس سی او' کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے چار اہم شعبوں کی نشاندہی کی۔

1۔ عالمی سلامتی

انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ میں جاری عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدوں اور دیگر سمجھوتوں کی متواتر خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے تنازع کے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس مسئلے کے ایسے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا جو خطے میں استحکام بحال کرے اور آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

غزہ کے حوالے سے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جنگ بندی پر مکمل عمل ہونا چاہیے اور تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اسرائیل اور فلسطین کو دو آزاد، خودمختار اور جمہوری ریاستوں کی حیثیت سے امن و سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیے جبکہ یروشلم دونوں ریاستوں کا دارالحکومت ہو۔

یوکرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چار سال سے زیادہ عرصہ سے جاری لڑائی کے بعد اب جنگ بندی میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ اس اقدام سے بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

2۔ ترقی کے لیے مالی معاونت

سیکرٹری جنرل نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک بدستور قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کے ذریعے انصاف اور مساوات کو فروغ دینا ہو گا اور قرض کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا ہو گا جو بہت سے غریب ممالک کی معیشتوں کا گلا گھونٹ رہا ہے۔

انہوں نے کثیرالفریقی ترقیاتی بینکوں پر بھی زور دیا کہ وہ رکن ممالک کی ترقیاتی کوششوں میں مدد کے لیے مزید بڑے، بہتر اور زیادہ جرات مندانہ کردار ادا کریں۔

3۔ موسمیاتی اقدامات

عالمی حدت میں اضافے کے 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد سے تجاوز کرنے کے خدشے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانے اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کا عمل تیز کرنے پر زور دیا۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موسمیاتی اقدامات کے لیے موسمیاتی انصاف ضروری ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی معاونت میں نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اہم معدنی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت بھی واضح کی کہ قدرتی وسائل پیدا کرنے والے ممالک کو ان سے بھرپور فوائد ملنا چاہئیں۔

4۔ مصنوعی ذہانت

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ اسے تمام ممالک کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے موثر حفاظتی ضوابط اور جدید ٹیکنالوجی کا جامع انتظام ضروری ہیں۔

ایرانی صدر سے ملاقات

اجلاس کے موقع پر سیکرٹری جنرل نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے ایران، خطے اور اس سے باہر جاری تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تباہ کن انسانی اور معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے بحران کو حل کرنے کے لیے مکالمے اور مذاکرات کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس دوران بین الاقوامی قانون، بالخصوص آبنائے ہرمز اور اس کے اردگرد بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیوں کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

سیکرٹری جنرل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ اس تنازع کے جامع اور پائیدار حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت اور ان کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔