انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: دہائیوں پر محیط تنازع کے نفسیاتی و معاشی اثرات پر رپورٹ

دو نوجوان لڑکے، ایک سیاہ قمیض میں اور دوسرا نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں، پردوں سے کھڑکی سے باہر دیکھ رہے ہیں۔
IOM/Anna Tsybko متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ انہیں ہونے والے نقصان کو تسلیم کیا جائے

افغانستان: دہائیوں پر محیط تنازع کے نفسیاتی و معاشی اثرات پر رپورٹ

امن اور سلامتی

افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری مسلح تنازع کے متاثرین آج بھی اس کے شدید جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی اثرات برداشت کر رہے ہیں جبکہ انہیں انصاف اور ازالے تک رسائی نہیں ہے اور وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا کھل کر اعتراف بھی نہیں کر سکتے۔

ملک میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک مسلسل جنگوں کا شکار رہنے والے اس ملک میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، نقل مکانی اور تباہی ہوئی ہے۔

Tweet URL

2009 سے 2021 کے دوران غیرملکی افواج کی حمایت یافتہ افغان حکومتی فورسز، طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی میں 40 ہزار سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت ہوئی اور 77 ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔

یہ رپورٹ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے تک جاری رہنے والے اس تنازع کے دور پر مرکوز ہے اور اس کے لیے تقریباً 200 متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے بات چیت کی گئی۔

شہریوں کا طویل مدتی نقصان

رپورٹ کے مطابق، بات کرنے والے 95 فیصد افراد نے بتایا کہ ملک میں ہونے والی جنگوں کے باعث انہیں جذباتی یا نفسیاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ڈپریشن، بے چینی، یادداشت کی کمزوری، ماضی کے تکلیف دہ واقعات بار بار یاد آنے اور صدمے سے متعلق دیگر علامات کے بارے میں بتایا ہے۔

تقریباً 60 فیصد افراد جسمانی طور پر بھی ان جنگوں سے متاثر ہوئے اور ان کے اثرات کئی ماہ، برسوں اور بعض صورتوں میں کئی دہائیوں تک برقرار رہے۔ بعض متاثرین آج بھی دائمی درد اور جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن مالی مشکلات اور افغانستان میں طبی سہولیات کی محدود دستیابی کے باعث وہ مناسب علاج نہیں کرا پاتے۔

بعض افراد جسمانی زخموں اور معذوری کے باعث تعلیم جاری رکھنے یا کام کرنے سے محروم ہو گئے جس کے نتیجے میں انہیں اور ان کے خاندانوں کو سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض معاملات میں متاثرین کے رشتہ داروں کو بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے اپنی ملازمت یا تعلیم چھوڑنا پڑی۔

جنگ میں بیوہ ہونے والی خواتین کو خاص طور پر معاشی عدم تحفظ کا سامنا ہے کیونکہ افغانستان کے موجودہ حکام کی عائد کردہ پابندیاں روزگار کے مواقع تک ان کی رسائی کو محدود کرتی ہیں۔

انصاف تک عدم رسائی

اس جائزے میں بات کرنے والے 55 فیصد سے زیادہ لوگوں نے کبھی اپنے نقصان کی تلافی یا کسی بھی طرح کے قانونی ازالے کے حصول کی کوشش نہیں کی۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا جبکہ بعض کو انتقامی کارروائی کا خوف بھی لاحق تھا۔

جن افراد نے انصاف یا معاوضے کے حصول کی کوشش کی ان میں سے 64 فیصد نے بتایا کہ ان کی کوششیں ناکام رہیں۔ انہوں نے بیوروکریسی کی رکاوٹوں، حکام کی جانب سے عدم توجہ، امتیازی سلوک اور متعلقہ اداروں میں شفافیت کے فقدان کی شکایت کی۔

81 فیصد نے مالی معاوضے، 48 فیصد نے انصاف تک رسائی اور 47 فیصد نے ذاتی تحفظ کی ضمانتوں کو اپنی اہم ضرورت قرار دیا۔

یوناما کی سربراہ جارجیٹ گیگنن نے کہا ہے کہ ان لوگوں کی باتیں افغان معاشرے میں آج بھی موجود اجتماعی صدمے کی شدت اور وسعت کو واضح کرتی ہیں۔ متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ انہیں ہونے والے نقصان کو تسلیم کیا جائے اور ان کے حقوق کو مرکزی اہمیت دی جائے۔