نیپال: سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1000، سیکڑوں تاحال لاپتہ
نیپال میں گزشتہ دنوں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے اس آفت سے متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کی ضروریات کا جائزہ لینے اور انہیں طبی سہولیات تک رسائی دینے کے لیے بطور خاص کوششیں کر رہے ہیں۔
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 987 ہو گئی ہے جبکہ 4,247 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کو متاثرہ ضلع راسووا میں کئی روز کے بعد اب ایسے متاثرین تک رسائی حاصل ہوئی ہے جن کا سیلاب کے بعد دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
نیپال میں ادارے کی امدادی کارروائیوں کے منتظم میٹ بیڈن نے بتایا ہے کہ متاثرین کی تلاش اور امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ ملک میں مون سون کی بارشیں بھی ہو رہی ہیں جبکہ پانی کے راستے بدستور بند ہیں۔ ان حالات میں مزید سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔
43 ہزار خواتین مدد کی منتظر
صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ویمن' کے مطابق، اس آفت کے نتیجے میں نیپال میں تقریباً 43 ہزار خواتین اور لڑکیوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ ادارے میں ایشیا اور الکاہل خطے کی علاقائی ڈائریکٹر کرسٹین عرب نے بتایا ہے کہ متاثرہ خواتین کے پاس خوراک ختم ہوتی جا رہی ہے، محفوظ پانی تک رسائی مسلسل مشکل ہو رہی ہے اور ان کے تحفظ سے متعلق خطرات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ جب کوئی قدرتی آفت پہلے سے موجود عدم مساوات سے ٹکراتی ہے تو پسماندہ لوگ ہی عموماً سب سے پہلے اس کی زد میں آتے ہیں۔ سیلاب سے پہلے بھی راسووا کی خواتین پانی لانے کے لیے روزانہ کئی گھنٹے طویل فاصلے طے کرتی تھیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ سڑکیں اور پل تباہ ہونے کے بعد صاف اور محفوظ پانی تک رسائی مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ امدادی عمل میں خواتین اور لڑکیوں کے تجربات اور ضروریات کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ امداد ان تک پہنچنی چاہیے اور انہیں بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے والی قوت کے طور پر شامل کرنا چاہیے۔ تاہم خدشہ برقرار ہے کہ انہیں اس عمل میں جائز نمائندگی نہیں ملے گی۔
'ڈبلیو ایچ او' کے امدادی اقدامات
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان کرسچن لنڈمیئر نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی برقرار رکھنا بدستور ایک اہم ترجیح ہے۔ سیلاب میں چھ طبی مراکز کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ مزید دو مراکز تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب، نقل مکانی، گنجان رہائش گاہوں اور کھڑے پانی سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اسی تناظر میں ادارہ متاثرہ اور سیلابی پانی کے بہاؤ سے نیچے واقع علاقوں میں بیماریوں کی نگرانی کے نظام میں معاونت کر رہا ہے تاکہ ڈینگی اور دیگر متعدی امراض کے ممکنہ پھیلاؤ پر نظر رکھی جا سکے۔
ادارہ متاثرین کے لیے ادویات، بیماریوں کی نشاندہی کے لیے درکار آلات اور دیگر ضروری سامان بھی فراہم کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں، انفیکشن سے بچاؤ اور لاشوں کو محفوظ، باوقار اور مناسب طریقے سے رکھنے اور ان کی تدفین کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔