انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یمن: خواتین و لڑکیوں کی صحت کے لیے یورپی یونین کی امداد

ایک سفید کوٹ پہنے ہوئے نرس نے ایک چھوٹے لڑکے کو، جو سرمئی ہوڈی پہنے ہوئے ہے، ویکسین لگائی ہے، جبکہ اس کی ماں اسے اپنی گود میں بیٹھائے رکھ رہی ہے۔ وہ لکڑی کی میزوں والے کمرے میں ہیں، جو یمن میں ایک موبائل کلینک ہونے کا امکان ہے۔
© UNICEF/Ahmed Haleem نامساعد حالات کے باوجود اقوام متحدہ کا عملہ یمن میں خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہے۔

یمن: خواتین و لڑکیوں کی صحت کے لیے یورپی یونین کی امداد

خواتین

یورپی یونین نے یمن کے جنوبی اور مشرقی اضلاع میں دو لاکھ 50 ہزار خواتین اور لڑکیوں کے لیے 30 لاکھ یورو کی انسانی امداد فراہم کی ہے جس سے انہیں تولیدی صحت، تحفظ اور ذہنی و نفسیاتی صحت کی خدمات مہیا کی جائیں گی۔

جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) نے بتایا ہے کہ یمن میں ایک کروڑ 10 لاکھ خواتین اور لڑکیوں کو کسی نہ کسی نوعیت کی انسانی امداد درکار ہے۔ یورپی یونین کی نئی مالی معاونت سے ادارے کو درج ذیل اقدامات جاری رکھنے میں مدد ملے گی:

  • اشد ضرورت والے علاقوں کے 10 طبی مراکز میں زچگی کی ہنگامی خدمات کا سلسلہ برقرار رکھا جائے گا۔
  • خواتین اور لڑکیوں کے لیے قائم آٹھ محفوظ مراکز میں انہیں تحفظ، قانونی معاونت اور نفسیاتی و سماجی مدد فراہم کی جائے گی۔
  • ذہنی صحت کے ایک خصوصی مرکز کے ذریعے صدمے سے متاثرہ افراد کو دماغی و نفسیاتی صحت کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔

امدادی وسائل کی اشد ضرورت

ادارے نے کہا ہے کہ یورپی یونین یمن میں اس کا ایک اہم امدادی شراکت دار ہے۔ 2018 سے اب تک اس کی جانب سے مہیاکردہ 6 کروڑ یورو سے زیادہ مالی معاونت کی بدولت 60 لاکھ سے زیادہ لوگوں تک ضروری خدمات پہنچائی گئی ہیں۔

ملک میں 'یو این ایف پی اے' کے نمائندے فرانسسکو گوالتیری نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملی ہے کہ یمن میں خواتین اور لڑکیوں کو انتہائی مشکل حالات میں بھی انتہائی ضروری طبی اور حفاظتی خدمات تک رسائی حاصل رہے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ رواں سال ملک کی انتہائی کمزور خواتین اور لڑکیوں تک خدمات کی رسائی برقرار رکھنے کے لیے درکار 7 کروڑ 19 لاکھ ڈالر میں سے اب تک اسے صرف 18 فیصد وسائل ہی موصول ہوئے ہیں۔

ادارے نے اپنے شراکت داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ امداد کی فراہمی جاری رکھنے کے ساتھ اس میں اضافہ بھی کریں کیونکہ مالی وسائل کی کمی کے باعث طبی مراکز اور خواتین و لڑکیوں کے لیے قائم پناہ گاہیں بند ہونے کا خطرہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ، آئندہ مہینوں میں ہنگامی اقدامات کے نظام کو معطل بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔