لیبیا میں الیکشن کمیشن کی تشکیل نو پر اتفاق خوش آئند، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے لیبیا میں طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں ادارے کے معاون مشن کی جانب سے وضع کیے گئے سیاسی لائحہ عمل کے تحت ملک کے انتخابی کمیشن کی تشکیل نو ہو گی اور انتخابات کے لیے آئینی و قانونی ڈھانچے سے متعلق زیر التوا معاملات کو حل کیا جائے گا۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ لیبیا میں قومی انتخابات کے انعقاد اور عبوری دور کے خاتمے کی جانب پیش رفت میں اہم قدم ہے۔
ترجمان کے مطابق، سیکرٹری جنرل نے لیبیا کے تمام سیاسی فریقین اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بات چیت کے ذریعے ہر متنازع معاملے میں اتفاق رائے ممکن ہے۔
لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے معاون مشن (یو این ایس ایم آئی ایل) نے اتوار کو اس معاہدے پر دستخط کی تقریب کا انعقاد کیا۔ مشن کے مطابق، یہ معاہدہ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور انتخابات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
معاہدے کے اہم نکات
- انتخابی نظام میں ترامیم کی جائیں گی جن میں ایک ہی انتظامی اختیار کے تحت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے انتظامات بھی شامل ہیں۔
- فریقین دو سال میں انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے پابند ہوں گے۔
- معاہدے کی قومی سطح پر منظوری کے لیے مجلس نمائندگان اور اعلیٰ سطحی ریاستی کونسل ایک ماہ کے اندر کارروائی کریں گی۔
- معاہدے پر عملدرآمد میں معاونت کے لیے نگرانی کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔
لیبیا میں سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ ہانا ٹیٹ نے دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب اس معاہدے کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے، اسے قومی سطح پر منظور کیا جائے، طے شدہ انتخابی نظام پر عملدرآمد کیا جائے اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری ادارہ جاتی اور سیاسی حالات پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سہولت کاری اور معاونت جاری رکھے گا، تاہم لیبیا کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ملک کے عوام کا حق اور اختیار ہے۔