انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غلامی ماضی کا حصہ نہیں، متاثرین کی تلافی ہونی چاہیے: اقوام متحدہ

یونیسکو ہیڈ کوارٹر، پیرس میں ہونے والے غلامی یادگار ایکسپو میں پیش کی گئی ایک آرٹ تنصیب جس میں متعدد چھوٹے، اسٹائلائزڈ انسانی فگرز دکھائے گئے تھے۔
UNESCO/P. Chiang-Joo غلامی کے موضوع پر یونیسکو کے تحت پیرس میں ہوئی ایک نمائش۔

غلامی ماضی کا حصہ نہیں، متاثرین کی تلافی ہونی چاہیے: اقوام متحدہ

انسانی حقوق

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افریقہ سے غلام بنائے گئے لوگوں کی تجارت اور نسلی بنیاد پر موروثی غلامی کے نقصانات آج بھی نسلی تفریق اور بنیادی عدم مساوات کی صورت میں موجود ہیں۔ رکن ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان تاریخی مظالم کے ازالے کے لیے تلافی پر مبنی انصاف یقینی بنائیں۔

نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی نئی عمومی سفارشات دیتے ہوئے کہا ہے کہ غلامی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے پیدا کیا گیا سیاہ فام مخالف نسل پرستانہ تصور آج بھی برقرار ہے اور اس نظام کی باقیات قوانین، پالیسیوں اور اداروں کی تشکیل پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔

Tweet URL

نسلی بنیاد پر ہونے والا تشدد، دقیانوسی تصورات اور بنیادی رکاوٹیں آج بھی تعلیم کے حصول، معاشی ترقی و خوشحالی، صحت کی سہولیات اور محفوظ ماحول تک رسائی کو محدود کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں نسل در نسل عدم مساوات برقرار ہے۔ غلامی سے جنم لینے والے نفسیاتی، طبی اور معاشی نقصانات نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں اور ایسی پالیسیوں کے ذریعے مزید مضبوطی پا رہے ہیں جو سیاہ فام افراد کے خلاف نسل پرستی کو برقرار رکھتی ہیں۔

جدید غلامی کے خاتمے کا عزم

کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ نسلی امتیاز کا اس وقت تک موثر، جامع اور پائیدار انداز میں خاتمہ نہیں ہو سکتا جب تک افریقہ سے غلام بنائے گئے لوگوں کی تجارت اور نسلی بنیاد پر قائم موروثی غلامی کے نقصانات اور ان کے جاری اثرات کے خاتمے کا پختہ عزم نہ کیا جائے۔

وقت گزر جانے کو اس امر کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے کہ رکن ممالک ان تاریخی ناانصافیوں کو تسلیم کریں یا اپنے ماضی کے جرائم کے لیے مناسب تلافی اور جواب دہی کے اقدامات اختیار کریں۔

تاریخی واقعات کی قانونی حیثیت یا درجہ بندی کچھ بھی ہو، تمام ممالک ہر طرح کے نسلی امتیاز کے خاتمے کے کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے پابند ہیں جن میں نسلی امتیاز کا خاتمہ، بنیادی عدم مساوات کا ازالہ اور نوآبادیات سے غلام بنائے گئے لوگوں کی تجارت اور نسلی بنیاد پر قائم موروثی غلامی سے جڑے دیگر اثرات سے نمٹنا شامل ہے جو آج بھی برقرار ہیں۔

ازالے اور انصاف کا مطالبہ

کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ موثر ازالے اور انصاف سے انکار خود نسلی امتیاز کی ایک الگ اور مستقل شکل اور کنونشن کے آرٹیکل 2 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

ازالے کے اقدامات میں مالی اور غیر مالی دونوں نوعیت کی تلافی شامل ہونی چاہیے جن میں بنیادی اصلاحات کے ساتھ حق کی بحالی، معاوضہ، بحالی زندگی و صحت، اعتراف و ازالہ نقصان اور دوبارہ ایسے واقعات نہ ہونے کی ضمانتیں شامل ہوں۔

کمیٹی نے رکن ممالک سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ ایسے قوانین اور پالیسیوں کا خاتمہ یا ان میں ترامیم کریں جو نسل پرستی، نسلی درجہ بندی یا امتیاز کو برقرار رکھتے ہیں یا تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس نے ایسے قوانین، پالیسیوں اور اداروں میں بنیادی اور تبدیلی پر مبنی اصلاحات پر زور دیا جو آج بھی نسلی عدم مساوات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

نجی شعبے کی ذمہ داری

کمیٹی نے زور دیا ہے کہ رکن ممالک افریقی نژاد افراد اور متاثرہ لوگوں کی مکمل اور موثر شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ تلافی اور انصاف سے متعلق پالیسیوں کی تشکیل اور ان کے عملی نفاذ میں ان کی آواز شامل ہو۔

کمیٹی نے اس معاملے میں نجی شعبے اور دیگر غیر ریاستی عناصر کی ذمہ داری کو بھی واضح طور پر تسلیم کیا ہے۔ ان میں مذہبی، تعلیمی اور کاروباری ادارے، بینک، انشورنس کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے شامل ہیں جنہوں نے افریقہ سے غلام بنائے گئے لوگوں کی تجارت، نسلی بنیاد پر قائم موروثی غلامی یا اس سے متعلق نوآبادیاتی طریقوں میں حصہ لیا، انہیں سہولت فراہم کی یا ان سے منافع کمایا۔

تاریخ محفوظ رکھنے کی ضرورت

کمیٹی کا کہنا ہے کہ غلامی اور نسلی امتیاز کے خلاف تعلیم دینا اور تاریخ کو محفوظ رکھنا بھی امتیازی رویوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے دوبارہ جنم کو روکنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ ان تاریخی ناانصافیوں اور ان کے حالیہ اثرات کو درست اور حقیقت پر مبنی انداز میں نصاب کا حصہ بنائیں، غلط معلومات اور نسلی برتری کے نظریات کا مقابلہ کریں اور یادگاروں اور عوامی مقامات کے ذریعے نہ صرف ان مظالم کو تسلیم کریں بلکہ افریقی نژاد لوگوں کی خدمات اور کردار کو بھی نمایاں کریں۔

ازالے یا تلافی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ رکن ممالک واضح مدت کے حامل قومی لائحہ عمل تیار کریں اور یہ منصوبے افریقی نژاد افراد اور تلافی و ازالے کے لیے قائم کمیٹیوں سے مشاورت کے ساتھ مرتب کیے جائیں۔