انسانی کہانیاں عالمی تناظر
فیروزی پانی سے گھرا پاپوا نیو گنی کے ایک جزیرے پر ایک ساحلی گاؤں کا فضائی منظر۔

جانیے بڑھتی سطح سمندر کا ماحول اور انسانیت پرکیا اثر ہے؟

© UNDP پاپوا نیو گنی میں اروموٹ جزیرے جیسے نشیبی علاقوں کے وجود کو سطح سمندر میں اضافے سے خطرہ لاحق ہے۔

جانیے بڑھتی سطح سمندر کا ماحول اور انسانیت پرکیا اثر ہے؟

از ڈینیئل ڈکنسن
موسم اور ماحول

سمندروں کی سطح آج جس قدر تیزی سے بلند ہو رہی ہے اس کی معلوم تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس تبدیلی کے اثرات پہلے ہی واضح ہو رہے ہیں جن سے انسانیت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

بڑھتی سطح سمندر کے نتیجے میں زمین کے بڑے حصے زیرآب آ رہے ہیں، آبادیاں سیلابوں کی زد میں ہیں اور لوگوں کے روزگار تباہ ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں لوگوں کی بڑی تعداد محفوظ اور پائیدار مستقبل کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور ہو رہی ہے۔ 

یہ مسئلہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں۔ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح انسانی حقوق، معاشی ترقی، صحت، ثقافت، متعدد ممالک کے مستقبل اور بنیادی انسانی وقار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر، دونوں ممالک میں لوگ اس مسئلے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ آج بروقت اقدامات اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت ہی یہ طے کرے گی کہ سمندر کی سطح میں اضافہ قابل انتظام مسئلہ ثابت ہوتا ہے یا آئندہ نسلوں کے لیے سنگین بحران بن جائے گا۔

تین لوگ ایک گھنے، سبز جنگل میں دریا کے کیچڑ والے کنارے پر ایک جوان مینگروو کا درخت لگا رہے ہیں۔
© UNDP جزائر سولومن کے ایک ساحلی علاقے میں شجر کاری کر رہے ہیں۔

سمندر کی سطح کیوں بڑھ رہی ہے؟

انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں والی آنے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ 2014 سے 2023 کے درمیان دنیا بھر کے سمندروں کی سطح میں اوسطاً 4.7 ملی میٹر سالانہ اضافہ ہوا۔ 2024 میں یہ اضافہ ریکارڈ 5.9 ملی میٹر تک جا پہنچا تھا۔

مستقبل کے انتہائی امید افزا حالات میں بھی امکان ہے کہ 2100 تک سمندر کی سطح 0.55 میٹر تک بلند ہو جائے گی جبکہ بدترین صورتحال میں یہ اضافہ ایک میٹر سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ اگرچہ اس کا امکان کم ہے لیکن رواں صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں تقریباً 2 میٹر تک اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

سمندری سطح بڑھنے کی وجوہات

سمندر کی سطح میں اضافے کی درج ذیل بڑی وجوہات ہیں:

  • گلیشیئروں اور برفانی تہوں کا پگھلاؤ
  • حرارتی پھیلاؤ یعنی گرم ہونے پر سمندری پانی پھیلتا اور زیادہ جگہ گھیرتا ہے۔
  • کرہ ارض کی اضافی حرارت کا تقریباً 91 فیصد حصہ سمندر جذب کر رہا ہے۔ چنانچہ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج سے عالمی حدت میں اضافے کے ساتھ سمندر کی سطح میں بھی مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔
سونامی کے بعد ساحل پر ایک تباہ شدہ عمارت ، جس میں شدید ساحلی کٹائی اور ریت پر بکھرے ہوئے ملبے دکھائے گئے ہیں۔
UN News/Daniel Dickinson پورٹو ریکو میں سمندری کٹاؤ سے ساحلوں پر تعمیر مکانات متاثر ہو رہے ہیں۔

انسانی زندگی پر اثرات

  • دنیا کی تقریباً 10 فیصد آبادی مدوجزر کی بلند ترین حد سے پانچ میٹر سے بھی کم بلندی پر رہتی ہے۔ یہ فاصلہ تشویش ناک حد تک کم ہے اور اس سنگین اثرات پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں۔
  • میٹھے پانی کے کنویں اور زرعی زمینیں کھاری ہو رہی ہیں۔
  • سیلاب ہسپتالوں، سکولوں، نکاسی آب اور صفائی کے نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
  • آبی بیماریوں کے خطرے میں اضافے سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور لوگوں میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں۔
  • ماہی گیری اور سیاحت بہت سی ساحلی معیشتوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور موجودہ حالات میں یہ دونوں شعبے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
  • اندازوں کے مطابق 2050 تک دنیا بھر میں 1.2 ارب تک لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگوں کو صرف محفوظ زمین ہی نہیں بلکہ ایسا مقام بھی درکار ہو گا جہاں وہ دوبارہ روزگار اور معاش کا بندوبست کر سکیں۔
  • بعض خطوں میں سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرات کو ماضی میں کم سمجھا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سابقہ کے اندازوں کے مقابلے میں کروڑوں مزید افراد خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

یہ معاملہ صرف مادی نقصان تک محدود نہیں۔ ثقافتی ورثے، آبائی زمینوں اور نسل در نسل چلی آنے والی روایتی طرز زندگی کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو نفسیاتی صدمے اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔

انٹارکٹیکا میں Thwaites Glacier کا ہوائی منظر جس میں برف کے شیلف کا ایک بڑا حصہ دکھایا گیا ہے جس کے نیچے گہرے نیلے پانی ہیں۔
© NASA انٹارکٹکا میں برف کی تہیں پگھلنے سے بھی سمندروں کی سطح بڑھ رہی ہے۔

اربوں ڈالر کا معاشی نقصان

اس مسئلے کے نتیجے میں ساحلی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان پہلے ہی 1.8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو سالانہ عالمی معاشی نقصانات 1.4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

1970 سے 2020 کے دوران جزائر پر مشتمل چھوٹے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی خطرات کے باعث 153 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

80 فیصد سے زیادہ عالمی تجارت ایسے بندرگاہی نظام کے ذریعے ہوتی ہے جو بڑھتی سطح سمندر اور سیلاب کے خطرے سے کہیں زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے عالمی سپلائی چین بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔

دریائے پرل کے کنارے کینٹن ٹاور اور دیگر فلک بوس عمارتوں کے ساتھ گوانگزو اسکائی لائن کا منظر۔
© Unsplash/Piko چین میں گوانگژو جیسے جدید شہروں کو سطح سمندر میں اضافے کی وجہ سے سیلابوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

سب سے زیادہ خطرہ کہاں ہے؟

افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ جن ممالک کو فوری طور پر سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں ان میں سے بیشتر کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت کم کردار ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے پاس اس خطرے سے نمٹنے کے لیے وسائل بھی محدود ہیں۔

جزائر پر مشتمل چھوٹے ممالک

بحرالکاہل کے بعض ممالک کے قریب سمندر کی سطح میں مقامی یا نسبتی اضافہ عالمی اوسط سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ ممالک متواتر آنے والے سیلاب اور دیگر خطرات کے باعث خاص طور پر غیر محفوظ ہیں۔

نشیبی ڈیلٹا کے شہر

ڈھاکا، ممبئی اور کولکتہ جیسے شہروں میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کے گھروں، روزگار اور زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

بڑے ساحلی شہر 

میامی، نیویارک اور گوانگ ژو جیسے بڑے ساحلی شہر بھی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث کھربوں ڈالر کے ممکنہ خسارے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

ناقابل تلافی نقصان

سطح سمندر میں اضافے کو مکمل طور پر نہیں روکا جا سکتا کہ کچھ اضافہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم، مستقبل میں  اضافے کا انحصار اس بات پر ہے کہ دنیا آج گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کتنی تیزی سے اور کس حد تک کمی لاتی ہے۔

انٹارکٹکا میں تھویٹس گلیشیئر اس کی نمایاں مثال ہے جو تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کے مکمل انہدام سے سمندر کی سطح میں اچانک اور ناقابل واپسی طور پر نصف میٹر سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس سطح سے واپسی ممکن نہ ہو گی۔

سمندر اور پہاڑوں کے پس منظر کے ساتھ ایک ساحل پر چلتے ہوئے دو بچوں کی سائیلیٹس۔
© Unsplash/Julie Modeste عالمی حدت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی 90 فیصد گرمی سمندر میں جذب ہوتی ہے۔

ناگزیر حالات سے نمٹنے کی تیاری

موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والے معدنی ایندھن سے دور ہونا دنیا کی سب سے اہم ترجیح ہے کیونکہ عالمی حدت میں کمی لا کر ہی سمندر کی سطح میں اضافے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ موافقت اور تحفظ کے اقدامات بھی فوری طور پر ضروری ہیں۔

ایسے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  • ابتدائی انتباہی نظام کا قیام، تاکہ آفات آنے سے پہلے ہی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
  • سمندری حفاظتی دیواروں کی تعمیر، ساحلی جنگلات کی بحالی، ریت کے ٹیلوں کا تحفظ اور خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کی مرحلہ وار اور منظم منتقلی۔
  • بہتر اور قابل اعتبار اعداد و شمار کا حصول، کیونکہ دنیا کے بہت سے خطوں میں اب بھی سمندری صورت حال کی نگرانی کا مناسب نظام موجود نہیں۔
  • ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے سالانہ 310 سے 365 ارب ڈالر درکار ہیں جبکہ 2023 میں عالمی سطح پر موافقت کے لیے فراہم کی جانے والی مالی امداد صرف 26 ارب ڈالر تھی۔

زمین انسان کے تحفظ کا راستہ

سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح بظاہر ایک ایسی قوت محسوس ہو سکتی ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس سے ہونے والے نقصان کی شدت اور اس کا بوجھ کون سے لوگوں پر پڑے گا، یہ اب بھی بڑی حد تک آج لیے جانے والے فیصلوں پر منحصر ہے۔

بالآخر دنیا کو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مالی وسائل میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ہو گا، یہ یقینی بنانا ہو گا کہ سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث کسی ملک کی ریاستی حیثیت متاثر نہ ہو اور سمندر کی بڑھتی سطح کے مسئلے سے نمٹںے کے اقدامات کو مستقل طور پر عالمی ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔

یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے لوگوں کے گھروں، تاریخ، روزگار، ثقافتی ورثے اور شناخت کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔