انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پگھلتے ہمالیہ میں طوفانی سیلاب معمول بننے لگے

ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر اگلے حصے میں ایک کھردرا، پتھریلا راستہ طے کر رہا ہے، جبکہ پس منظر میں ایک عظیم، برف سے ڈھکا ہوا پہاڑ صاف نیلے آسمان کے نیچے غالب ہے۔
© UN Nepal/Ajay Das ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ پورے نیپال تک پھیلا ہوا ہے۔

پگھلتے ہمالیہ میں طوفانی سیلاب معمول بننے لگے

از فیبریز روبینیٹ
موسم اور ماحول

نیپال اور چین کی سرحد کے ساتھ ہمالیائی وادیوں میں برف، چٹانوں اور کیچڑ پر مشتمل بہت بڑے تودے کے تباہی مچانے سے صرف ایک روز پہلے ڈاکٹر دیپیش شپاغین اپنے ایک ساتھی سے بات کر رہے تھے کہ کوئی ایسی آفت کس قدر وسیع پیمانے پر بربادی کا باعث بن سکتی ہے۔

40 سالہ ڈاکٹر شپاغین موسمیاتی تبدیلی سے متعلق امور کے ماہر ہیں۔ وہ مشرقی نیپال کے پہاڑی علاقے میں پلے بڑھے اور اب جرمنی کے شہر بون میں اقوام متحدہ کی یونیورسٹی میں پہاڑی آفات پر تحقیق کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ معاملہ ذاتی اور پیشہ وارانہ، دونوں حوالوں سے انتہائی اہم تھا۔ انہوں نے اس خطے کو درپیش بڑھتے اور بدلتے خطرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ 

بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 8 بج کر 37 منٹ پر ہمالیہ میں پہاڑ کا ایک بڑا حصہ اچانک کھسک گیا۔

یہ تودہ اس قدر بڑا تھا کہ زلزلہ پیما آلات نے ابتداً اسے 5.2 شدت کے زلزلے کے طور پر ریکارڈ کیا۔ دراصل گلیشیئر کے نیچے موجود چٹانی زمین اپنا استحکام کھو بیٹھی تھی جس کے نتیجے میں برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا حصہ تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔

اس کے بعد پانی، مٹی، تلچھٹ اور بڑے پتھر نیچے بہنے والے دریاؤں میں شامل ہو گئے جن میں آنے والے سیلاب نے قصبوں اور دیہات کو لپیٹ میں لے لیا۔ یہ علاقہ نیپال اور چین کے درمیان ایک اہم تجارتی راستے پر واقع ہے۔ قدرتی آفات کی نگرانی کے ایک مرکز پر نصف گھنٹے میں ہی پانی کی سطح نو میٹر بلند ہو گئی۔

جمعہ تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اچانک آنے والے اس سیلاب سے نیپال بھر میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1,500 سے زیادہ لاپتا ہو چکے تھے جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر شپاغین کے قریبی عزیز اس آفت میں محفوظ رہے تاہم اپنے ملک سے آنے والی خبریں ان کے لیے انتہائی صدمہ انگیز تھیں۔

انہوں نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آفت اس مسئلے کی ایک واضح مثال ہے جس کے بارے میں ماہرین موسمیات کئی برس سے خبردار کرتے آ رہے ہیں۔ ہمالیہ میں برفانی ساختیں جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ایسے خطرات کی زد میں آ رہے ہیں جن کی پیش گوئی کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہے اور بعض صورتوں میں ان کے تباہ کن نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو گئے ہیں۔

26 اگست کو آنے والے سیلاب کے بعد راسووا ضلع میں ایک نیپالی بستی کا فضائی منظر، جس میں تباہ شدہ کثیر منزلہ عمارتیں اور ملبہ زمین کی تزئین میں بکھرا ہوا ہے۔
© UNICEF تباہ کن سیلاب کے بعد کیچڑ نے وسطی شمالی نیپال کے ضلع رسووا کو ڈھانپ رکھا ہے۔

پہاڑی تودے گرنے سے سیلاب کیسے آتے ہیں؟

ماہرین تاحال بدھ کو آنے والی اس آفت سے متعلق واقعات کی کڑیاں جوڑنے میں مصروف ہیں۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ گلیشیئر کے نیچے چٹانی تہہ اچانک منہدم ہوئی جس کے نتیجے میں برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا حصہ لنڈی کھولا نامی ندی میں جا گرا۔ یہ پوتی کوشی دریا کی ایک معاون ندی ہے۔ اس کے بعد واقعات کا تباہ کن سلسلہ شروع ہو گیا۔

یہ واقعہ گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے مختلف دکھائی ہے جن کا مطالعہ ڈاکٹر شپاغین اور ان کے ساتھی ہندوکش۔ہمالیہ خطے میں 'پہاڑی تحفظ کے عالمی پروگرام' کے تحت کرتے ہیں۔ یہ پروگرام اقوام متحدہ کی یونیورسٹی کے 'ادارہ برائے تحفظ ماحول و انسان' کا حصہ ہے۔

ان کی حالیہ تحقیق میں 493 ایسے سیلابوں کا جائزہ لیا گیا جن کے دستیاب ریکارڈ قدیم زمانے سے لے کر 2024 تک کے عرصہ کا احاطہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 1950 کے بعد ایسے واقعات کی شرح تقریباً پانچ گنا بڑھ گئی ہے۔ پہلے ہر دہائی میں ایسے تقریباً سات واقعات پیش آتے تھے جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 34 فی دہائی ہو چکی ہے۔

عام طور پر یہ سیلاب اس وقت آتے ہیں جب سکڑتے گلیشیئروں کے گرد پگھلا ہوا پانی جھیلوں کی صورت میں جمع ہو جاتا ہے۔ عام طور پر یہ پانی غیر مستحکم برف، ڈھیلی چٹانوں اور مٹی سے بنی قدرتی رکاوٹوں کے پیچھے جمع ہوتا رہتا ہے۔ جب یہ رکاوٹیں ٹوٹتی ہیں تو پانی کی بہت بڑی مقدار اچانک ابل پڑتی ہے۔

تاہم، ڈاکٹر شپاغین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ درمیانی مرحلہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا، یعنی گلیشیائی جھیل پھٹنے کے بجائے چٹانوں اور برف کے بڑے حصے پہاڑ سے نیچے آ گرے اور انہوں نے نیچے شدید سیلابی ریلا پیدا کر دیا۔

محققین اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس ملبے نے عارضی طور پر دریا کا بہاؤ روک دیا تھا اور پھر رکاوٹ ٹوٹنے سے پانی یکلخت نیچے کی طرف بہہ نکلا۔ تاہم ڈاکٹر شپاغین کے مطابق، اس مفروضے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔

تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ بدھ کو پہاڑی تودہ گرنے کی براہ راست وجہ موسمیاتی تبدیلی تھی یا نہیں۔ تاہم عالمی حدت بلند پہاڑی علاقوں میں ان تبدیلیوں کو تیز کر رہی ہے جہاں ایسی آفات کا خطرہ پہلے ہی موجود ہے۔ گلیشیئروں اور مستقل منجمد زمین (پرمافراسٹ) پگھلنے سے وہ چٹانیں غیر مستحکم ہو جاتی ہیں جنہیں پہلے برف سہارا دیے ہوئے تھی یا جو برف کی وجہ سے باہم جڑی ہوئی تھیں۔ پگھلے ہوئے پانی کی بڑھتی ہوئی مقدار بھی پہاڑی ڈھلانوں کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔

اس کے اثرات صرف پہاڑی دیہات تک محدود نہیں رہتے۔ ہندوکش۔ہمالیہ کا خطہ 10 بڑے دریائی طاسوں کو پانی فراہم کرتا ہے جن پر تقریباً 2.1 ارب افراد پانی، خوراک، توانائی اور روزگار کے لیے انحصار کرتے ہیں۔

وسطی شمالی نیپال کے ضلع راسووا میں مٹی سے ڈھکی ایک بستی کا فضائی منظر، سیلاب کے بعد مٹی سے بھرے دریا کے کنارے کے ساتھ تباہ شدہ عمارتوں کے ساتھ۔
© UNICEF نیپال کے راسووا ضلع کی ایک بستی تباہ کن سیلاب کے بعد کیچڑ میں گھری ہوئی یے۔

انسانی آبادی میں تبدیلیوں کے اثرات

تبدیلی صرف پہاڑوں میں نہیں آ رہی بلکہ پہاڑوں کے دامن میں انسانی زندگی کا نقشہ بھی بدل رہا ہے۔ ڈاکٹر شپاغین نے بتایا کہ،ان کے بچپن میں نیپال کے بہت سے پہاڑی علاقوں میں لوگ بلند ڈھلانوں پر گھر بناتے تھے جبکہ دریاؤں کے قریب ہموار زمین پر چاول اور دیگر فصلیں کاشت کی جاتی تھیں۔ ان کے اپنے خاندان کا باغ پہاڑ کی چوٹی پر تھا جبکہ نیچے دریا کے قریب چاول کے کھیت پھیلے ہوئے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ سڑکیں، تجارتی منصوبے، ہوٹل اور پن بجلی گھر تیزی سے دریائی وادیوں میں مرکوز ہونے لگے کیونکہ وہاں تعمیرات نسبتاً آسان اور معاشی مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلند پہاڑی علاقوں کی بعض بستیوں میں پانی کے ذرائع خشک ہو گئے ہیں جس کے باعث وہاں کے رہائشیوں کو نسبتاً نچلے علاقوں کی طرف منتقل ہونا پڑا ہے۔ اس طرح ایک خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ایک طرف عالمی حدت بلند پہاڑوں کے ماحول کو تبدیل کر رہی ہے اور دوسری طرف آبادی اور بنیادی ڈھانچہ ان وادیوں میں تیزی سے مرتکز ہو رہا ہے جہاں سے پانی اور ملبے کے سیلاب گزرتے ہیں۔

بدھ کے روز سیلاب سے تباہ ہونے والا علاقہ اس خطرناک امتزاج کی واضح مثال ہے۔

ساتھ ساتھ سیٹلائٹ تصاویر نیپال میں ایک بڑے سیلاب اور مٹی کے تودے سے پہلے اور بعد میں تیمور کے علاقے کو دکھاتی ہیں، جس کے بائیں پینل پر گاؤں دائیں طرف تلچھٹ سے دبتا دکھائی دے رہا ہے۔
Planet Labs PBC خلائی سیارچے کی مدد سے لی گئی تصاویر میں تباہ کن سیلاب سے پہلے اور بعد میں نیپال کے علاقے تیمور کو دکھایا گیا ہے۔

آفت کی قبل از وقت آمد

ڈاکٹر شپاغین کہتے ہیں کہ اس آفت نے ایک اور اہم کمزوری کو بھی اجاگر کیا ہے۔ پہاڑوں کی بلندیوں سے شروع ہونے والی کسی آفت کے آبادی تک پہنچنے سے پہلے لوگوں کو ملنے والا پیشگی انتباہ انتہائی محدود ہے۔

نیپالی حکام کو سیلاب کا علم اس وقت ہوا جب وہ لوگوں کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو فون پر تحریری پیغامات، سوشل میڈیا، فون کال اور خطرے کی گھنٹیوں کے ذریعے خبردار کیا گیا۔

ڈاکٹر شپاغین کی رائے میں خطرات کو کم کرنے کا عمل پہاڑ کی بلندی سے شروع ہونا چاہیے۔ اس کے لیے گلیشیئروں اور غیر مستحکم پہاڑی ڈھلانوں کی مسلسل نگرانی کے ساتھ سیٹلائٹ، موسمیاتی آلات اور دریاؤں میں پانی کی سطح ناپنے والے آلات کا استعمال ضروری ہے۔ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے، چونکہ دریا اور گلیشیئر ملکی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے اس لیے چین، نیپال اور نشیبی علاقوں میں واقع دیگر ممالک کو بھی معلومات اور اعداد و شمار کا تبادلہ کرنا ہو گا۔ 

تاہم، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ نہایت گھمبیر صورت اختیار کر گیا ہے۔ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بہت جلد کمی بھی ہو جائے تو تب بھی گلیشیئر آنے والی کئی دہائیوں تک اپنا حجم کھوتے رہیں گے کیونکہ موجودہ حدت اب دنیا کے موسمیاتی نظام کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا اب مستقبل کی بات نہیں رہی۔

ہمالیہ کے دامن میں آباد لوگوں کے لیے وہ مستقبل بدھ کو ہی آ پہنچا ہے۔