پاکستان: ہسپتال میں آتشزدگی سے 14 بچوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ہسپتال میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ملک میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ اس دلخراش سانحے میں اپنے بچوں کو کھونے والوں کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہر نومولود بچہ دنیا میں زندگی کا محفوظ آغاز پانے کا حق دار ہے اور ہر ماں اور بچے کو محفوظ اور پرامن طبی مرکز میں ضروری علاج اور نگہداشت کی سہولیات میسر ہونی چاہئیں۔
طبی مراکز کو محفوظ بنانے کا مطالبہ
آتشزدگی کا یہ واقعہ 26 اگست کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں زچہ بچہ وارڈ کی نرسری میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق، اچانک لگنے والی آگ بچوں کو آکسیجن کی فراہمی کے نظام کی موجودگی کے باعث تیزی سے پھیلی جس نے وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا۔ حادثے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے جن میں سے ایک کو ہی زندہ بچایا جا سکا۔
اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد شہر کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، آگ لگنے کے وقت وارڈ سے ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے جبکہ آگ بجھانے کے لیے درکار سامان بھی ناکافی اور غیرمعیاری تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آگ بظاہر ایئر کنڈیشنر میں برقی شارٹ سرکٹ یا پلگ پر زیادہ بوجھ آنے کے باعث لگی۔
یونیسف نے اس واقعے کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام طبی مراکز میں آگ سے بچاؤ اور حفاظتی انتظامات کے معیارات کا فوری جائزہ لے کر انہیں مزید موثر بنایا جائے تاکہ ہر ماں اور بچے کو محفوظ ماحول میں مطلوبہ طبی سہولیات اور نگہداشت فراہم کی جا سکے۔