وضاحتی رپورٹ: یو این امن کاری کا نصب العین قیام امن اور اس کا تحفظ
اقوام متحدہ کے امن مشن موزمبیق اور کمبوڈیا میں خانہ جنگی کے بعد پہلے جمہوری انتخابات کے انعقاد میں مدد دینے، سیرالیون میں ہزاروں بچوں کو مسلح گروہوں سے آزاد کرانے اور جنوبی افریقہ سے نمیبیا کی آزادی کو یقینی بنانے میں معاونت سمیت دنیا بھر کے ممالک میں پائیدار امن کے لیے گرانقدر کام کر رہے ہیں۔
دنیا کو 1945 کے بعد سب سے بڑی تعداد میں جنگوں اور خطرناک تنازعات کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں اب اقوام متحدہ کے امن مشن عموماً جنگ بندی یا امن معاہدوں پر عملدرآمد کے بجائے بڑھتے ہوئے تشدد کو قابو میں رکھنے کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بدھ کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال اقوام متحدہ اور اس کے رکن ممالک سے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کا تقاضا کرتی ہے تاکہ یہ مشن مستقبل میں بھی موثر و متعلقہ رہیں۔
سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے امن مشن بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے ناگزیر ذرائع ہیں، تاہم انہیں زیادہ موثر بنانے کے لیے بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بات جنرل اسمبلی کو ادارے کے ہر مشن کے مستقبل کے حوالے سے پہلی جامع جائزہ رپورٹ بعنوان 'مستقبل کے لیے معاہدے' پیش کرتے ہوئے کہی۔ سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک کو بدلتی ضروریات اور مستقبل کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے مختلف ذرائع اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے سے متعلق سفارشات بھی پیش کیں۔
اقوام متحدہ کے امن مشن کیا ہیں؟
سیکرٹری جنرل کی جائزہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی وسیع اقسام کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان میں سیاسی مشن اور سلامتی کونسل کی اجازت سے کام کرنے والے نفاذ امن کے مشن شامل ہیں۔ یہ مشن کسی جگہ خصوصی ایلچی کی معاونت کرنے والے دو افراد پر مشتمل دفتر سے لے کر بڑی اور کثیرالجہتی امن کارروائیوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ مشن بحرانوں کا خاتمہ کرنے، تنازعات کو روکنے، جنگ بندی برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں اور مسلح تنازعات کو ختم کرنے کی غرض سے مذاکرات کے لیے ماحول پیدا کرتے اور امن کی جانب راہ ہموار کرتے ہیں۔
بلیو ہیلمٹ کا کردار
1948 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تنازعات کے فریقین کو سیاسی حل تک پہنچنے، اختلافات کو جنگوں میں تبدیل ہونے سے روکنے اور مسائل کے سیاسی حل کی تلاش کے دوران مسلح تشدد کم کرنے کے لیے امن فوج تعینات کرتی آ رہی ہے۔ اس وقت دنیا میں اقوام متحدہ کے 11 فعال امن مشن موجود ہیں۔
اپنی مخصوص وردی کی وجہ سے 'بلیو ہیلمٹس' کہلانے والے اقوام متحدہ کے امن کار تین بنیادی اصولوں کے تحت کام کرتے ہیں جن میں تنازع کے فریقین کی رضامندی سے تعیناتی، غیر جانبدار اور اپنے دفاع یا ذمہ داریوں کے تحفظ کے علاوہ طاقت کا عدم استعمال شامل ہیں۔
امن کاروں کا کام انتہائی خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف امن کارروائیوں کے دوران 4,500 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ 1988 میں اقوام متحدہ کے امن کاروں کو اجتماعی طور پر نوبیل امن اعزاز دیا گیا تھا۔
خصوصی سیاسی مشن
اس مشن میں ایسے غیرفوجی اہلکار شامل ہوتے ہیں جو سلامتی کونسل کی تفویض کردہ ذمہ داری کے تحت تنازعات کی روک تھام، امن مذاکرات میں ثالثی اور انتقال اقتدار یا سیاسی تبدیلی کے عمل میں معاونت کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔
یہ مشن افواج پر انحصار نہیں کرتے بلکہ حکومتوں، تنازعات کے فریقین، علاقائی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے شعبہ قیام امن و سیاسی امور کے ایک جائزے کے مطابق، اقوام متحدہ نے 1948 سے اب تک ایسے 167 خصوصی سیاسی مشن تعینات کیے ہیں جن میں 2024 تک تقریباً 40 مشن فعال تھے۔
امن نافذ کرنے والے مشن
سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتمکے تحت نفاذ امن کی کارروائیوں کی اجازت دیتی ہے۔ اس کے تحت کئی طرح کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں جن میں فوجی طاقت کا استعمال بھی شامل ہے۔
امن مشن اور خصوصی سیاسی مشن کے برعکس، نفاذ امن کی کارروائیوں کے لیے تنازع کے فریقین کی رضامندی ہمیشہ ضروری نہیں ہوتی اور اقوام متحدہ کے بلیو ہیلمٹس براہ راست ان کارروائیوں میں حصہ نہیں لیتے۔
حالیہ برسوں میں ہیٹی، مالی اور صومالیہ جیسے ممالک میں امن مشن نے سلامتی کونسل کی اجازت سے کام کرنے والی ایسی فورسز کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے جن کی تعیناتی اقوام متحدہ کی جانب سے عمل میں ںہیں آئی۔ ایسے ہر مشن کی توجہ سیاسی عمل کی حمایت اور وسیع تر امن واستحکام پر مرکوز رہی ہے۔
قیام امن کے لیے مشکل حالات
سیکرٹری جنرل نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امن کارروائیوں کے لیے ماحول پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ تنازعات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں، جامع امن معاہدے کم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے لیے مالی وسائل میں بھی کمی آ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حالیہ مالی کٹوتیوں کے نتیجے میں امن کارروائیوں کے لیے تقریباً 50 کروڑ ڈالر جبکہ خصوصی سیاسی مشنز کے لیے 9 کروڑ 63 لاکھ ڈالر کی کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امن مشن تنازع ختم کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کی سیاسی خواہش کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ اس وقت بعض مشن ایسے علاقوں میں کام کر رہے ہیں جہاں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور تشدد کی سطح بہت زیادہ ہے۔ تاہم کوئی بھی امن مشن اور اقوام متحدہ کا حمایت یافتہ کوئی بھی سیاسی عمل رکن ممالک کی مضبوط اور متحد حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔
امن کارروائیوں کو لاحق خطرات
انتونیو گوتیرش نے کہا کہ امن کارروائیوں کی ذمہ داری محدود، واضح اور قابل حصول اہداف پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہیں بدلتے حالات کے مطابق ڈھلنے کے قابل، کم لاگت، موثر اور جواب دہ ہونا چاہیے اور خاص طور پر جنسی استحصال اور بدسلوکی کے الزامات کے معاملے میں جوابدہی بہت ضروری ہے۔
رپورٹ میں نسبتاً چھوٹے اور زیادہ متحرک مشن تعینات کرنے، بہتر معلومات اور خطرات کے تجزیے، ڈرون اور غلط معلومات جیسے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور امن کاروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کولمبیا میں امن مشن کے علاوہ کیمرون اور نائجیریا کے درمیان سرحدی تنازع چکانے والے مشن کو اس کی مثال قرار دیا کہ سازگار حالات میں اقوام متحدہ کے امن مشن کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
موثر امن کاری کے لیے سفارشات
سیکرٹری جنرل کی جائزہ رپورٹ میں نئے جغرافیائی و سیاسی دور کے لیے امن کارروائیوں کو ازسرنو ترتیب دینے کے حوالے سے درجنوں سفارشات شامل ہیں۔ یہ ایسا دور ہے جس میں جنگوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مالی وسائل کی شدید کمی ہے اور امن کاری کے لیے عالمی حمایت میں تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔
رپورٹ میں درج ذیل سفارشات خاص طور پر اہم ہیں:
- سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں۔
- کسی مشن کی تعیناتی صرف ایسے مقاصد کے لیے ہونی چاہیے جن کے پیچھے قابل اعتماد سیاسی ارادہ بھی موجود ہو۔
- میزبان ممالک کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنایا جائے۔
- اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کو واضح انداز میں تقسیم کیا جائے۔
- مشن کے آغاز ہی میں ان کے اختتام اور منتقلی کے لیے واضح منصوبہ بندی یقینی بنائی جائے۔
سیکرٹری جنرل نے واضح کیا ہے کہ، امن کارروائیوں کا مستقبل رکن ممالک کے اس یقین پر منحصر ہے اپنی خامیوں کے باوجود یہ مشن تنازعات کے خاتمے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔