خودکار ہتھیاروں کے استعمال پر پابندیوں اور ضابطہ کاری کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مکمل طور پر خودکار اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے رہنمائی حاصل کرنے والے مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر کڑی پابندیاں اور ضابطے نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے اس حوالے سے جاری کردہ عالمی اپیل میں کہا ہے کہ دنیا خطرناک حد تک اس اخلاقی سرخ لکیر کے قریب پہنچ چکی ہے جہاں مشینیں خود انسانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے یہ اپیل انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی صدر میرجانا ایگر کے ساتھ مشترکہ طور پر جاری کی ہے۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ جنگوں میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت سختی سے ممنوع ہے۔ تاہم، جنگ زدہ علاقوں میں غیر جنگجو افراد کی شناخت کرنا عموماً انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اب زندگی اور موت کے فیصلے ایسی مشینیں کرنے لگیں گی جو بدلتے حالات میں جنگجو اور عام شہری کے درمیان فرق نہیں کر سکتیں۔
یہ اپیل ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب جدید ترین اور خطرناک ہتھیار پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے اور بڑے پیمانے پر تیار اور استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طاقت اس عمل میں مزید تیزی لا رہی ہے۔ ضبط و تخفیف اسلحہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلحہ ساز کمپنیاں بھی ان ہتھیاروں کے حوالے سے واضح قوانین چاہتی ہیں۔
قانونی اور اخلاقی اصول
جنیوا میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر برائے امور تخفیف اسلحہ کی سربراہ میلانی ریجمبال نے ان خدشات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی نگرانی اور فیصلہ سازی کے بغیر خود اہداف کا انتخاب کرنے والے ایسے ہتھیار یا نظام سیاسی طور پر ناقابل قبول اور اخلاقی طور پر قابل مذمت ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔
'آئی سی آر سی' کے ماہر لاراں ژیزیل نے کہا ہے کہ جنگی حالات میں صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے اور خودکار ہتھیار یقینی طور پر بدلتے حالات کا اندازہ لگا کر انسانوں کو تحفظ نہیں دے سکتے۔
اپنی مشترکہ اپیل میں انتونیو گوتیرش اور میرجانا ایگر نے واضح کیا ہے کہ خودکار ہتھیار مستقبل بعید کی چیز نہیں بلکہ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ خودمختاری حاصل کرنے کی دوڑ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور ایسے نظام تیار کرنے والے سائنس دانوں اور انجینئروں نے بھی ان سے لاحق ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فوری اقدامات کا مطالبہ
اقوام متحدہ اور ریڈ کراس نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں محض بات چیت تک محدود نہ رہیں بلکہ ایسے قانونی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں جس میں واضح طور پر ان ہتھیاروں پر پابندی اور ان کے استعمال کے لیے سخت حدود مقرر کی جائیں۔
یہ اپیل نومبر میں جنیوا میں مخصوص روایتی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن (سی سی ڈبلیو) کے انعقاد سے قبل جاری کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے سربراہان نے اس اجلاس کو رکن ممالک کے لیے اس مسئلے پر قانونی معاہدے کے لیے مذاکرات کی جانب بڑھنے کا سب سے واضح راستہ قرار دیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ جدت اور ٹیکنالوجی کو انسانیت کے لیے خطرہ بننے کے بجائے اس کی خدمت کرنی چاہیے۔
مشترکہ اپیل میں خودکار ہتھیاروں کی دو اقسام پر پابندی کا بطور خاص مطالبہ کیا گیا ہے:
غیر متوقع نتائج دینے والے ہتھیار
ایسے خودکار ہتھیار جن کے استعمال کے خطرناک نتائج کو انہیں چلانے والے کنٹرول نہیں کر سکتے خواہ یہ ان کی بناوٹ کی وجہ سے ہو یا استعمال کے دوران پیدا ہونے والے حالات کے باعث۔ لاراں ژیزیل نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی ہتھیار کے نتائج کی پیش گوئی ہی ممکن نہ ہو تو انہیں محدود رکھنا کیسے ممکن ہو گا؟
انسانوں کو براہ راست نشانہ بنانے والے ہتھیار
لاراں ژیزیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تمام ممالک تسلیم کر چکے ہیں کہ خودکار ہتھیار عمومی طور پر طاقت کے استعمال پر انسانی کنٹرول کم ہونے کے باعث اخلاقی سوالات پیدا کرتے ہیں، تاہم سب سے زیادہ تشویش ان ہتھیاروں کے بارے میں ہے جو دانستہ کسی انسان کو نشانہ بناتے ہیں۔ ایسے ہتھیار انسانی زندگی کو محض ڈیٹا، الگورتھم، سینسر اور مشینی کارروائیوں تک محدود کر دیتے ہیں۔