جاپان میں ’کوکوشوبی‘ اور 2050 میں گرمی کی شدید لہر بارے پیشنگوئی
جاپان میں شدید گرمی کی لہروں میں مسلسل اضافے کی صورت میں موسمیاتی تبدیلی کے کڑے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں جن سے نمٹںے کے لیے سائنس دان، کاروباری ادارے اور پیشہ ور فٹ بال کھلاڑی متحد ہو کر بڑھتی عالمی حدت کے خطرات بارے آگاہی پھیلا رہے ہیں۔
جاپان میں موسمیاتی آگاہی کے لیے شروع کیے گئے ایک نئے اقدام کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج موجودہ رفتار سے جاری رہا تو 2050 میں زندگی کیسی ہو سکتی ہے۔
اس مہم کا مرکزی حصہ '2050 میں موسم کی پیش گوئی' کے عنوان سے تیار کی گئی ایک ویڈیو ہے، جو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک کو بڑھتی ہوئی شدید گرمی کا سامنا ہے۔
جاپان میں حال ہی میں 'کوکوشوبی' کی اصطلاح متعارف کرائی گئی ہے جس سے مراد ایسے دن ہیں جب درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ ہو جائے۔ ایسے حالات مسلسل خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔ ٹوکیو کے ایک چڑیا گھر میں گرمی سے تین شیروں کی ہلاکت کی اطلاعات نے بھی بڑھتے درجہ حرارت کے خطرناک اثرات کو مزید نمایاں کیا ہے۔
خطرے کی قبل از وقت آمد
اس مہم کے لیے تیار کی جانے والی ویڈیو ایک سابقہ موسمی پیش گوئی کو نئے انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس میں پیش کیے گئے کئی منظرنامے متوقع وقت سے کئی سال پہلے ہی حقیقت بن چکے ہیں۔ ان میں ایسے مسلسل ادوار بھی شامل ہیں جب درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیئس سے تجاوز کرتا ہے جسے اس وقت وسط صدی کے جاپان کی ممکنہ صورتحال قرار دیا گیا تھا۔
تازہ پیش گوئی میں موجودہ موسمیاتی پالیسیوں کے برقرار رہنے کی صورت میں 2050 کے جاپان کا ممکنہ منظرنامہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ملک کے 157 مقامات پر شدید گرمی کے دن آ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیرون خانہ سرگرمیوں پر پابندیوں، بچوں کو گھروں سے باہر کھیلنے سے روکنے اور تعمیراتی مزدوروں کو کھلے مقامات پر کام کی اجازت نہ دینے جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ویڈیو میں خوراک کی پیداوار اور روزمرہ زندگی پر بڑھتے دباؤ سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جاپان میں خنزیر کے گوشت کے قتلوں اور چاول سے بنا روایتی کھانا مستقبل میں ایک مہنگی غذا بن سکتا ہے۔ ویڈیو میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ زیادہ طاقتور اور تباہ کن سمندری طوفان ملک بھر میں شدید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
کاربن سے پاک ماحول کی تشکیل
یہ موسمیاتی پیش گوئی صرف خطرات کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ان کے حل کی جانب بھی توجہ دلاتی ہے۔ ان میں قابل تجدید توانائی کی جانب تیز تر منتقلی اور ماحول دوست، خصوصاً برقی گاڑیوں کا وسیع پیمانے پر استعمال شامل ہے تاکہ معاشرہ بتدریج کاربن سے پاک معیشت کی طرف بڑھ سکے۔
یہ ویڈیو ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب دنیا بھر کے ممالک سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے کوششیں تیز کریں بلکہ ایسے موسمیاتی اثرات سے بھی اپنی آبادیوں کو محفوظ بنائیں جو پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
فٹ بال کھلاڑیوں کا کردار
پیشہ ور فٹ بال کھلاڑی بھی موسمیاتی تبدیلی کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
جاپان کی فٹ بال لیگ (جے لیگ) نے کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو شدید گرمی کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں میچوں کے اوقات میں تبدیلی بھی شامل ہے تاکہ شدید گرم اور مرطوب موسم گرما میں دن کے انتہائی گرم وقت مقابلوں سے گریز کیا جا سکے۔
جے لیگ کے چھ موسمیاتی ایکشن سفیروں نے اس مہم کے لیے ویڈیو پیغامات ریکارڈ کیے ہیں۔ ان میں جاپانی کلب جوبیلو ایواتا کے نمایاں کھلاڑی ہیروکی یامادا بھی شامل ہیں۔
اپنے پیغام میں یامادا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں بچے گرمیوں کے موسم میں گھر سے باہر کھیلنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر فرد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
منتظمین کو امید ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق یہ پیغام فٹ بال شائقین اور دیگر لوگوں تک پہنچانے سے موسمیاتی اقدامات میں عوامی دلچسپی اور شمولیت بڑھ جائے گی۔