انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ماحول دوست توانائی کو زمین چاہیے لیکن کیا یہ اس کا تحفظ بھی کرے گی؟

تعمیراتی کارکن صاف نیلے آسمان کے نیچے دھاتی فریم پر سولر پینل لگاتے ہیں۔
© Unsplash ماحول دوست قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی سے فضائی آلودگی سے ہر سال چالیس سے ستر لاکھ تک ہونے والی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔

ماحول دوست توانائی کو زمین چاہیے لیکن کیا یہ اس کا تحفظ بھی کرے گی؟

از لورا کوئنز
موسم اور ماحول

اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ اس زمین کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہو جس پر اسے قائم کیا جائے تو انسانوں اور ماحول کے لیے اس کے دور رس فوائد ہوں گے۔

ارضی بنجر پن کو روکنے کے لیے اس ہفتے منگولیا کے دارالحکومت اولان بیتور میں جاری اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ماہرین نے یہ جائزہ لیا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے فروغ کو زمینی تحفظ اور بحالی کے عمل سے کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ 

اس موقع پر دنیا کے مختلف حصوں میں جاری ایسے منصوبوں کی مثالیں بھی پیش کی گئیں۔ جنوبی افریقہ میں کان کنی سے تباہ شدہ زمین کو قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ چین کے صحراؤں میں شمسی توانائی کو پودوں کی افزائش، پانی ذخیرہ کرنے اور ریت پر قابو پانے کے اقدامات سے مربوط کیا جا رہا ہے جبکہ انڈیا میں شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی کے نظام کسانوں کو ایک ہی زمین پر خوراک کی پیداوار اور ماحول دوست توانائی حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) میں شعبہ زمین و حیاتیاتی تنوع کے سربراہ جولین بلانک نے کانفرنس میں اس موضوع پر منعقدہ اجلاس کو بتایا کہ قابل تجدید توانائی کا پھیلاؤ زمین کے استعمال سے متعلق بہت بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ قابل تجدید توانائی بڑھے گی یا نہیں۔ یہ یقینی طور پر بڑھے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا پھیلاؤ ایسے انداز میں کیسے ہو کہ اس سے زمین، ماحولیاتی نظام اور انسانوں سمیت سبھی کو مزید فائدہ پہنچے۔

دوہرے فوائد کا حصول 

ارضی ماہرین کے مطابق، شمسی پینل نصب کرنے کے لیے استعمال ہونے والی زمین سے لے کر بجلی کی ترسیل کے لیے درکار ٹرانسمیشن لائنوں تک، قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو موثر بنانے کی کنجی یہ ہے کہ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جو ایک سے زیادہ مقاصد پورے کرتے ہوئے زمین کی بحالی کو بھی ممکن بنائے۔

ارضی بنجر پن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن میں جی 20 ارضی اقدام کے ڈائریکٹر مرلی تھماروکڈی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے سے پہلے زمین کی نوعیت اور ضروریات کو سمجھنا چاہیے۔ اگر شمسی توانائی کا منصوبہ درست جگہ پر لگایا جائے تو یہ صرف توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

مقامی علم سے استفادہ

شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے بعض اوقات پودوں کو صاف کرنا پڑتا ہے جس سے جنگلی حیات متاثر ہو سکتی ہے یا زمین پر پانی کے بہاؤ کا قدرتی نظام تبدیل ہو سکتا ہے۔ بعض حالات میں اس سے سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ایک ہی علاقے میں بہت سے منصوبے شروع کرنے سے بھی مسائل جنم لیتے ہیں۔ افریقی ملک ملاوی میں دریائے شائر کا طاس اس کی نمایاں مثال ہے جہاں پن بجلی کے متعدد منصوبے مچھلیوں کے ذخائر، حیاتیاتی تنوع اور زیریں علاقوں میں آباد لوگوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

جولین بلانک نے کہا ہے کہ کوئی بھی منصوبہ مکمل طور پر بے ضرر نہیں ہوتا۔ مقامی آبادی اور اس کا روایتی علم بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ مقامی لوگ خشک سالی، سیلاب اور دیگر خطرات کے بارے میں ایسی معلومات رکھتے ہیں جو بعض اوقات تکنیکی جائزوں میں سامنے نہیں آتیں۔

کثیرالمقاصد سرمایہ کاری 

قابل تجدید توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئرینا) کی پروگرام افسر گائتری نائر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محتاط منصوبہ بندی سے ایسے مقامات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جہاں قابل تجدید توانائی اور زمین کے دیگر استعمال ایک دوسرے کے لیے نقصان دہ ہونے کے بجائے باہم معاون ہوں۔

انہوں نے انڈیا میں شمسی آب پاشی کے ایک کامیاب منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی نے زراعت کے لیے استعمال ہونے والی زمین کو خراب کرنے کے بجائے کسانوں کے لیے آمدنی پیدا کرنے کا ایک اضافی ذریعہ فراہم کیا۔ ابتدا میں کسان اپنے کھیتوں پر شمسی پینل نصب کرنے کے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے لیکن ایک شراکتی ادارے کے تعاون سے تیار کیے گئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے انہیں اپنی زمین کے ان حصوں کی نشاندہی میں مدد دی جہاں شمسی پینل لگانا زیادہ موزوں تھا۔

بعد ازاں بجلی فراہم کرنے والے مقامی ادارے نے ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام قائم کرنے میں مدد کی جس کے ذریعے کسانوں کو اضافی بجلی فروخت کرنے کے عوض رقم ملنے لگی۔ شمسی توانائی سے آب پاشی کے پمپ چلائے جا سکتے ہیں جبکہ اضافی بجلی کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ بن گئی ہے۔

ارضی بحالی میں ٹیکنالوجی کا کردار

چن کی سنگ ھوا یونیورسٹی کے محقق ہیجی جیانگ نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ چینی صحرائے تکلامکان میں شمسی توانائی سے چلنے والے پمپ آبپاشی کے لیے پانی منتقل کرتے ہیں اور ایسی نباتات کو سہارا دیتے ہیں جو سڑکوں کے ساتھ ریت کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

صحرا میں شمسی پینل زمین کے قریب بخارات بننے اور ہوا کی شدت کو کم کرتے ہیں، جبکہ جھاڑیاں اڑتی ہوئی ریت کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ پینل کے کناروں سے گرنے والے پانی کو جمع کرکے پودوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تنصیبات کے اردگرد اگنے والی نباتات کو مویشیوں کے چارے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض پودے ریت کو مستحکم رکھنے اور شہد کی پیداوار میں بھی مدد دیتے ہیں۔

قدرتی ماحول کا تحفظ

یونیپ کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں سے سامنے آنے والے یہ مثبت تجربات امید افزا ہیں لیکن انہیں ہر جگہ ایک ہی نمونے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ادارہ جلد ہی دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کے ایسے منصوبوں سے متعلق کامیاب مثالیں طلب کرے گا جن میں زمین، پانی، حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادی کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے طریقے تلاش کیے گئے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کے بقول، دنیا کو حیاتیاتی ایندھن پر انحصار ختم کرنے کے ساتھ بڑے پیمانے پر قدرتی ماحول کے تحفظ اور بحالی کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔

منگولیا میں رواں ہفتے زیربحث اہم سوال یہی ہے کہ کسی ایک جگہ ان دونوں مقاصد کو بیک وقت کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔