یورپ میں زچگی کے دوران اموات میں دوبارہ اضافہ، ڈبلیو ایچ او رپورٹ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ یورپی خطے میں ماں بننے کی عمر میں زیادہ تر خواتین کی اموات زچگی کے عرصہ میں نہیں ہوتیں لیکن طبی نظام اب بھی خواتین کی اموات کو ریکارڈ کرنے اور انہیں روکنے کے لیے بنیادی طور پر زچگی سے متعلق وجوہات ہی پر توجہ دیتے ہیں۔
ادارے کے مطابق، 2018 سے 2022 کے درمیان یورپی خطے میں 3,500 سے زیادہ خواتین کا زچگی سے متعلق وجوہات کے باعث انتقال ہوا۔ ان میں سے تقریباً تمام اموات قابل تدارک تھیں حالانکہ 98 فیصد بچوں کی پیدائش طبی مراکز میں ہوئی اور 99 فیصد ولادتوں کے موقع پر تربیت یافتہ طبی عملہ موجود تھا۔
'ڈبلیو ایچ او' کی جانب سے یورپی خطے میں اس مسئلے سے متعلق شائع کردہ تازہ ترین جائزے کے مطابق، زچگی کی شرح اموات میں کمی آنے کا سلسلہ 2013 کے بعد رک گیا ہے اور مشرقی و شمالی یورپ میں زچگی کے دوران اموات کی شرح دوبارہ بڑھ رہی ہے۔
مشرقی اور مغربی یورپ کے درمیان گزشتہ 20 برس سے موجود اموات کا فرق تاحال ختم نہیں ہو سکا۔ اس معاملے میں وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کی خواتین کو شمالی، جنوبی اور مغربی یورپ کی خواتین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ خطرہ درپیش ہے۔
اموات کی 'غیر واضح' وجوہات
'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہے کہ، 45 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں مردوں کے مقابلے میں موت کی وجہ کو 'غیر واضح' درج کیے جانے کا امکان تقریباً 14 فیصد زیادہ ہوتا ہے جس میں جسمانی کمزوری، حرکت قلب اچانک بند ہو جانا یا غیر متعین ڈیمنشیا جیسی وجوہات شامل ہیں۔ درست معلومات کی دستیابی میں یہ خلا خواتین کی اموات کے اصل اسباب کو سامنے لانے میں رکاوٹ ہے۔
جائزے کے مطابق، یورپی خطے میں زچگی سے متعلق وجوہات کے مقابلے میں تشدد کا خواتین کی اموات میں کہیں زیادہ کردار ہے۔ یہ مسئلہ عمر بڑھنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ بڑھاپے میں بھی جاری رہتا ہے جبکہ سماجی بدنامی اور شرمندگی کے باعث ایسے تمام واقعات کی اطلاع سامنے نہیں آتی۔
طبی تحقیق: خواتین کی محدود نمائندگی
ادارے کا کہنا ہے کہ طبی تحقیق میں خواتین کی نمائندگی اب بھی کم ہے، خصوصاً دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کے حوالے سے ہونے والے تحقیقی کام سے بہت کم تعداد میں خواتین وابستہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیماری کی تشخیص اور علاج میں تاخیر جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' (یورپ) میں شعبہ نظام ہائے صحت کی ڈائریکٹر نتاشا ایزوپارڈی-مسکٹ کا کہنا ہے کہ خواتین صرف مائیں نہیں ہوتیں اور صحت کے نظام کو بھی ان کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔ یورپی خطے کے رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ طبی سہولیات تک خواتین اور لڑکیوں کی رسائی میں درپیش رکاوٹیں دور کریں، معلومات کی اس کمی کو دور کیا جائے جو خواتین کی اموات کی حقیقی وجوہات کو چھپا دیتی ہے اور تشدد کی روک تھام کو قومی طبی پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے۔