ڈرونوں کے استعمال سے بدلتا میدان جنگ امدادی کارکنوں کے لیے خطرہ
گزشتہ سال دنیا بھر میں 350 امدادی کارکن اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگوں میں ڈرون کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ان کارکنوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
امدادی کارکنوں کے عالمی دن پر اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کی جانب سے جاری کردہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں 907 امدادی کارکنوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رواں سال دنیا بھر میں 322 کارکن زخمی اور 235 اغوا کیے جا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس دن پر اپنے پیغام میں امدادی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو موت، تشدد، دھمکیوں اور حراست جیسے خطرات کے باوجود اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کے بارے میں غلط اور گمراہ کن معلومات لوگوں کے اعتماد کو مجروح کر رہی ہیں، انسانی امداد کے لیے مالی وسائل میں کمی آ رہی ہے اور امداد تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں کو تحفظ فراہم کریں جو دنیا بھر میں لاکھوں ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
امدادی کارکنوں کے لیے خطرناک علاقہ
گزشتہ سال غزہ امدادی کارکنوں کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک خطہ رہا جب اس علاقے میں 186 کارکن مارے گئے جن میں سے 68 فیصد فضائی بمباری کا نشانہ بنے۔
سوڈان میں جاری لڑائی کے باعث امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں میں مسلسل پانچویں سال اضافہ ہوا جہاں گزشتہ برس 71 امدادی کارکن مارے گئے۔
2025 میں دیگر انتہائی غیر محفوظ علاقوں میں یوکرین، ایتھوپیا، شام، ہیٹی، چاڈ اور کیمرون شامل تھے جہاں امدادی کارکنوں کو اغوا جیسے جرم، فضائی بمباری اور تشدد کا سامنا رہا۔
رواں سال دنیا بھر میں 82 امدادی کارکن ہلاک، 97 زخمی اور 39 اغوا کیے جا چکے ہیں۔ امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ صرف تین برس میں ایک ہزار سے زیادہ امدادی کارکن مارے جا چکے ہیں اور یہ صورت حال ناقابل قبول ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صرف مسئلے کی نشاندہی کر دینے سے امدادی کارکنوں کی جان نہیں بچائی جا سکتی۔ رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے شہریوں اور امدادی کارکنوں کو ہر ممکن تحفظ دیں۔ جو لوگ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف حقیقی اور موثر کارروائی ہونی چاہیے۔
پرانے خطرے کا نیا روپ
دنیا بھر میں امدادی تنظیموں کو اب تیزی سے تبدیل ہوتے میدان جنگ کا سامنا ہے جہاں سستے، آسانی سے دستیاب اور مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے والے مسلح ڈرون کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ڈرون دھماکہ خیز مواد کو شہروں اور قصبوں کے اندر دور تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اوچا کے مطابق، رواں سال اپریل تک سوڈان میںشہریوں کی 80 فیصد ہلاکتیں مسلح ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہوئیں۔ ان حملوں میں بازاروں اور طبی مراکز سمیت مختلف شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
یوکرین میں صرف اپریل کے دوران ہی ڈرون حملوں کے نتیجے میں 80 شہری ہلاک ہوئے۔ روس میں بھی ڈرون حملوں کے باعث شہری ہلاکتیں ہوئیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
کولمبیا میں ہتھیاروں سے لیس ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں کی تعداد 2024 اور 2025 کے درمیان چار گنا بڑھ گئی۔
امدادی کارکن بھی اس بڑھتے ہوئے خطرے سے محفوظ نہیں رہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، رواں سال اب تک صحت کے شعبے پر 639 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ مسلح ڈرون ایک پرانے خطرے کا نیا چہرہ بن گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی بدل سکتی ہے لیکن جنگ کے قوانین نہیں بدلتے اور ان پر عمل ہونا چاہیے۔
امدادی کارکنوں کے تحفظ کا مطالبہ
اوچا نے کہا ہے کہ انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیمیں رواں سال دنیا بھر میں 8 کروڑ 70 لاکھ ضرورت مند افراد تک مدد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت متحارب فریقین پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ کریں اور امدادی کارکنوں کا احترام کریں جو ضرورت مند لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
امدادی کارکنوں کا عالمی دن ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کا انتخاب 2003 میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں کینال ہوٹل پر بم حملے کی یاد میں کیا گیا جس میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سرجیو ڈی میلو سمیت 22 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ امسال اس دن پر اقوام متحدہ نے دنیا بھر کے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ 'انسانیت کے لیے قدم بڑھائیں'۔