ہنگامی حالات اور آفات میں صحافت کی اہمیت پر نئی یو این رپورٹ کا اجراء
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون میں کسی قدرتی آفت کے بارے میں رپورٹ شائع ہونے پر سرکاری امداد میں پانچ لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ زندگیاں بچانے میں آزاد صحافت کا کس قدر اہم کردار ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) کی جاری کردہ رپورٹ بعنوان 'صحافت کی قدر: معیشت، قومی سلامتی اور بحرانوں میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت کے عالمی شواہد' میں بتایا گیا ہے کہ صحافت صرف غلط معلومات کا رد ہی نہیں کرتی بلکہ قابل اعتماد صحافت حکومتوں کو جواب دہ بنانے میں مدد دیتی ہے، متاثرہ آبادیوں کو امداد تک رسائی دلاتی ہے اور حکام کو عوامی فائدے کے اقدامات پر مجبور کرتی ہے۔
تنقیدی صحافت امدادی شعبے پر بھی نظر رکھتی ہے اور اسے جوابدہ بناتی ہے جس کے نتیجے میں اصلاحات ہوتی ہیں اور امدادی سرگرمیاں زیادہ موثر انداز میں انجام پاتی ہیں۔ موسمیاتی و ماحولیاتی مسائل پر تحقیقی صحافت قدرتی ماحولیاتی نظام کے بہتر تحفظ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ تھائی لینڈ میں ایک آن لائن میگزین نے کوڑا کرکٹ جمع کرنے کی جگہ سے گندے پانی کے اخراج کی خبر شائع کی تو حکام نے اس مسئلے کو فوری حل کیا۔ اسی طرح، یوگنڈا میں ریت کی غیر قانونی کھدائی کے بارے میں تحقیقی رپورٹ سامنے آنے کے نتیجے میں ملک بھر میں اس کھدائی پر پابندی عائد کر دی گئی۔
ذمہ دارانہ صحافت کے فوائد
افریقی ملک برکینا فاسو کے بچوں میں ملیریا، نمونیا اور اسہال کے خطرات سے متعلق ریڈیو پروگراموں کے نتیجے میں والدین اور نگہداشت کرنے والوں کی جانب سے بچوں کو طبی مراکز لے جانے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں ہر سال اوسطاً 7.15 فیصد کمی آئی اور کم از کم 2,967 بچوں کی جانیں بچائی گئیں۔
امریکی شہر لاس اینجلس میں صحافیوں کی ایک مہم کے نتیجے میں عمارتوں سے متعلق ایسے نئے ضوابط متعارف کرائے گئے جنہوں نے ریاست کیلیفورنیا کے اس سب سے بڑے شہر کو زلزلوں کے مقابل میں زیادہ محفوظ بنا دیا۔
ایک بڑے زلزلے کے بعد ریڈیو کی افادیت کے جائزے سے سامنے آیا کہ اس پر نشر ہونے والے پروگراموں نے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملانے میں مدد دی، بچوں کو دوبارہ سکول جانے کی ترغیب دی اور تحفظ، حفظان صحت، پینے کے صاف پانی اور پناہ گاہوں سے متعلق اہم معلومات عام کیں جس سے مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن ہوا۔
نائجیریا میں کووڈ-19 سے متعلق غلط معلومات کا ابطال کرنے اور ویکسین کے حوالے سے ہچکچاہٹ دور کرنے کے لیے نشر کیے گئے ریڈیو پروگراموں کے جائزے سے معلوم ہوا کہ انہیں باقاعدگی سے سننے والے لوگ جھوٹے بیانیوں کو پہچاننے اور ان کا مقابلہ کرنے میں زیادہ کامیاب رہے۔
جعلی خبروں کا توڑ
جھوٹے بیانیے، افواہیں اور گمراہ کن معلومات بحرانوں کی شدت میں اضافہ کر رہی ہیں اور قدرتی آفات کے لیے تیاری، ان سے نمٹنے اور بحالی کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ بعض اوقات یہ معلومات ضرورت مند افراد تک امداد پہنچانے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، غلط اطلاعات تنازعات کو مزید بھڑکا سکتی ہیں اور امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کا سبب بھی بنتی ہے۔
کووڈ-19 جیسے طبی بحرانوں کے دوران غلط معلومات نے دنیا بھر میں لوگوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس صورتحال کو انفوڈیمک یعنی معلومات کی وبا قرار دیا تھا۔
ایک تحقیق کے مطابق، صرف امریکا میں 2021 کے دوران غلط معلومات کے باعث کووڈ کے تقریباً 23 لاکھ اضافی مریض سامنے آئے اور 66 ہزار افراد کو ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ اس طرح ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج پر دو ارب ڈالر اضافی اخراجات آئے اور تقریباً 45 ہزار ایسی اموات ہوئیں جنہیں روکا جا سکتا تھا۔
اس سے برعکس، قابل اعتماد صحافت ان جھوٹے بیانیوں کا توڑ کرنے اور ماہرین کی مصدقہ ہدایات کو عوام تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
انسانی امداد اور احتساب
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خبروں کی موثر کوریج عوام کو بڑے پیمانے پر خیراتی عطیات دینے پر بھی آمادہ کر سکتی ہے۔
1984 میں ایتھوپیا کے قحط سے متعلق برطانوی صحافی مائیکل برک کی بی بی سی کے لیے کی گئی مشہور رپورٹنگ کے نتیجے میں قحط زدگان کی امداد کے لیے 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم جمع ہوئی۔
اسی طرح، 2015ء میں ترک فوٹو جرنلسٹ نیلوفر دیمر کی جانب سے شام کے تنازع کے دوران سمندر میں ڈوبنے والے بچے ایلان کردی کی لی گئی تصویر نے اس بحران کی جانب مبذول کرائی۔ اس کے نتیجے میں عطیات میں نمایاں اضافہ ہوا اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کو ملنے والی مالی امداد 50 گنا تک بڑھ گئی۔
صحافت امدادی شعبے میں بھی نمایاں اصلاحات کا باعث بن سکتی ہے۔ 'ایڈ ٹو' سکینڈل اس کی بڑی مثال ہے جب صحافی ہیٹی میں امدادی سرگرمیوں کے دوران اختیارات کے ناجائز استعمال اور جوابدہی سے عاری ایسے ماحول کو سامنے لائے جس میں اوکسفیم اور سیو دی چلڈرن جیسی بڑی غیر سرکاری امدادی تنظیموں سے وابستہ افراد بھی ملوث تھے۔