انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی بحران: بنجرپن کی روک تھام فوری توجہ کی متقاضی، یاسمین فواد

تین افراد، دو خواتین اور ایک بچہ، موریطانیہ کے صحرا میں ریت کے ٹیلے کے پار چل رہے ہیں، جس کے بائیں جانب ببول کا ایک بڑا درخت ہے۔
© FAO/Giulio Napolitano بنجر پن ایسی کیفیت ہے جس میں زرخیز زمین اپنی پیداواری صلاحیت کھو کر صحرائی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔

موسمیاتی بحران: بنجرپن کی روک تھام فوری توجہ کی متقاضی، یاسمین فواد

موسم اور ماحول

گرمی کی لہروں میں شدت آںے کے ساتھ جنگلوں کی آگ اور دیگر آفات انسانی آبادیوں کو لپیٹ میں لے رہی ہیں جبکہ بڑھتی سطح سمندر کئی علاقوں کو صفحہ ہستی سے مٹا رہی ہے۔ ان حالات میں بنجر ہوتی زمین کی صورت میں بڑھتا ماحولیاتی بحران نظرانداز ہو رہا ہے۔

بنجر پن ایسی کیفیت ہے جس میں زرخیز زمین اپنی پیداواری صلاحیت کھو کر صحرائی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، خشک سالی اور جنگلات کی کٹائی کے باعث یہ مسئلہ دنیا بھر میں تشویشناک رفتار سے پھیل رہا ہے۔

Tweet URL

ارضی بنجر پن کے انسداد پر اقوام متحدہ کے کنونشن کی ایگزیکٹو سیکرٹری یاسمین فواد نے اس مسئلے سے نمٹنے کے معاملے پر منگولیا میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس (کاپ 17) کے افتتاحی اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ زمین انسان کی سب سے اہم ضرورت ہے جو غذائی تحفظ، پانی، روزگار اور استحکام کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بنجر پن کا مسئلہ خوراک کی پیداوار اور پانی کو متاثر کر رہا ہے اور معیشتوں کی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو کمزور کیے دیتا ہے۔ اس صورتحال میں لوگوں کے لیے محفوظ مستقبل کی تعمیر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

3.2 ارب لوگوں کے روزگار کو خطرہ

کانفرنس کے میزبان ملک منگولیا میں ارضی بنجر پن لوگوں کے روزگار کے لیے انتہائی حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔ منگولیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کا انحصار مویشی بانی پر ہے لیکن ملک کے تقریباً 77 فیصد اراضی انحطاط کا شکار ہو چکی ہے۔

2023 اور 2024 کے دوران منگولیا کے کسانوں اور مویشی پالنے والوں نے شدید گرمی، خشک سالی اور اس کے بعد آنے والی سخت سردی کے باعث 70 لاکھ سے زیادہ مویشی کھو دیے۔

تاہم یہ مسئلہ صرف منگولیا تک محدود نہیں۔ اس وقت دنیا کی تقریباً 40 فیصد زمین بنجرپن اور خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے جس سے 3.2 ارب لوگوں کے روزگار کو خطرہ لاحق ہے۔

900 ارب ڈالر کا معاشی نقصان

چراگاہیں بھی اس مسئلے سے خطرناک حد تک متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ وسیع قدرتی علاقے فصلوں کی کاشت کے لیے موزوں نہیں ہوتے لیکن دنیا کے تقریباً 70 فیصد مویشیوں کو انہی جگہوں سے خوراک حاصل ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں دو ارب افراد اپنی خوراک کے لیے ان چراگاہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ 

یاسمین فواد نے کہا کہ ان ماحولیاتی تبدیلیوں کی مالی قیمت بھی واضح ہے۔ بنجر پن اور خشک سالی عالمی معیشت کو ہر سال تقریباً 900 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 2000 کے بعد خشک سالی کے واقعات میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہوا ہے اور اندازے کے مطابق، ہر سال تقریباً 300 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔

نجی شعبے کی سرمایہ کاری

زمین کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نجی شعبے سے سرمایہ کاری کا حصول اس کانفرنس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اندازے کے مطابق، زمین کی بحالی اور اسے موسمیاتی تبدیلی کے مقابل پائیدار بنانےکے لیے ہر سال 355 ارب ڈالر درکار ہیں جبکہ موجودہ سرمایہ کاری صرف 77 ارب ڈالر ہے۔

زمین اور پانی کی قابل اعتماد فراہمی پر بہت زیادہ انحصار کے باوجود نجی شعبہ دنیا بھر میں بنجر اراضی کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے مجموعی مالی معاونت کا صرف چھ فیصد فراہم کرتا ہے۔

کانفرنس کے منتظمین 'بزنس فار لینڈ فورم' جیسے اقدامات کے ذریعے حکومتوں، ترقیاتی بینکوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی امید رکھتے ہیں۔ منگولیا کے وزیر ماحولیات اور کانفرنس کے چیئرمین سندگ اوچر تسیند نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ کانفرنس بین الاقوامی تعاون اور عالمی سطح پر تیز تر عملی اقدامات کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گی۔

اہداف کے حصول پر زور

منگولیا کے دارالحکومت میں یہ کانفرنس دو ہفتے جاری رہے گی۔ اس موقع پر رکن ممالک گزشتہ سال سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ کاپ 16 میں ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے، پائیدار زراعت کے فروغ اور زمین و مٹی کے تحفظ کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ان اقدامات میں ابتدائی انتباہی نظام، خطرات اور کمزوریوں کا جائزہ لینا اور بین الاقوامی تعاون کا فروغ شامل ہیں۔

کانفرنس کے موقع پر منگولیا کے وزیراعظم نیئم اوسرین اوچرل نے کہا ہے کہ اس کانفرنس میں باتوں سے بڑھ کر عمل کی طرف جانا ہو گا اور اہداف پر عملدرآمد کی جانب پیش رفت کرنا ہو گی۔