دنیا بھر میں شعبہ صحت پر حملوں کی جوابدہی ندارد، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ آٹھ برس کے دوران صحت کے شعبے پر 10 ہزار سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں جن میں 5,700 افراد ہلاک اور 8,000 سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ اب تک ان جرائم پر کسی کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
ادارے کے مطابق، 2018 سے اب تک 29 ممالک اور علاقوں میں طبی سہولیات پر 10,400 حملے رپورٹ ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتیں ہوئیں۔
رواں سال جنوری سے اگست کے دوران ہی ایسے 900 سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں کم از کم 900 افراد ہلاک اور 1,400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ان میں زیادہ تر واقعات یوکرین، لبنان اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں پیش آئے، تاہم میانمار، ایران، سوڈان، جمہوریہ کانگو، جنوبی سوڈان، روس، شام اور نائجیریا بھی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں صحت کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا۔
'ڈبلیو ایچ او' نے صحت کی سہولیات پر ہونے والے حملوں کی نگرانی کے لیے ایک نظام قائم کر رکھا ہے جس کے ذریعے ہسپتالوں، طبی عملے، مریضوں، ایمبولینس گاڑیوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل اور طبی سازوسامان کے گوداموں پر ہونے والے حملے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔
حملوں کے طویل مدتی اثرات
'ڈبلیو ایچ او' میں آفات سے نمٹنے اور انسانی امداد کے شعبے کے ڈائریکٹر الطاف موسانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ رواں سال ایسے حملوں میں بڑے پیمانے پر بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔ اس عرصہ میں 44 ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے جن میں طبی عملے یا مریضوں کو اغوا، گرفتار یا حراست میں لیا گیا۔
صحت کے شعبے پر حملوں کے اثرات وسیع اور طویل مدتی ہوتے ہیں۔ شمال مغربی شام میں ہونے والے 69 حملوں کے اگلے روز بیرونی مریضوں کے طبی معائنے میں 51 فیصد کمی واقع ہوئی جو کہ 37 روز تک برقرار رہی۔
سوڈان میں گزشتہ سال 37 فیصد طبی مراکز غیر فعال قرار دیے گئے اور جن مراکز کا جائزہ لیا گیا ان میں صرف 3 فیصد میں مریضوں کے علاج کی سہولت موجود تھی۔
غزہ کے تمام 36 اسپتالوں کو نقصان پہنچ چکا ہے جن میں سے نصف ہی جزوی طور پر فعال رہ گئے ہیں جبکہ بنیادی صحت کی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد 'ڈبلیو ایچ او' نے طبی مراکز، ایمبولینس گاڑیوں، گوداموں اور طبی سامان کے ترسیلی نظام سمیت صحت کے شعبے پر 3,000 سے زیادہ حملوں کی تصدیق کی ہے۔
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا پھوٹنے کے بعد صحت کے شعبے پر 12 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے جس کے باعث اس بیماری سے نمٹنے کی کوششیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
جواب طلبی کا مطالبہ
طبی مراکز پر حملے لوگوں میں خوف بھی پیدا کرتے ہیں جس کے باعث وہ علاج کے لیے ہسپتالوں کا رخ کرنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ معالجین بھی کام پر آنے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوام اور طبی نظام کے درمیان اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔
موسانی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کے انسانی نتائج کو نمایاں کیا جائے، شواہد کے ذریعے صحت کے شعبے اور اس پر انحصار کرنے والے لوگوں کا تحفظ کیا جائے اور تنازعات میں شامل فریقین کو ان کے اقدامات پر جواب دہ بنایا جائے۔
'ڈبلیوایچ او' کے پاس مسلح تنازعات کے فریقین کو جواب دہ ٹھہرانے کا نہ تو قانونی اختیار ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے مطلوبہ مہارت موجود ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کئی مرتبہ واضح کر چکے ہیں کہ متحارب فریقین کو اپنے اقدامات کا جواب دینا ہو گا۔