منشیات کی تیاری و تجارت میں ’مددگار‘ صنعتوں کا عالمی جائزہ
بین الاقوامی ادارہ انسداد منشیات (آئی این سی بی) نے مختلف صنعتوں کے ان شعبوں کا ایک عالمی جائزہ شائع کیا ہے جن کے بنائے آلات کو منشیات کی تیاری و تجارت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں کئی طرح کے مکسر، کیمیائی تعامل میں مدد دینے والے برتن، شیشے کے آلات، حرارتی آلے اور کیپسول بنانے والی مشینیں شامل ہیں۔
اس اشاعت میں مختلف صنعتوں کے 11 شعبوں اور ان میں تیار ہونے والے مخصوص نوعیت کے 14 آلات کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے جن سے غیرقانونی طور پر منشیات کی تیاری و تقسیم میں مدد ملتی ہے۔
یہ ادارے کے ایک وسیع تر اقدام کا پہلا حصہ ہے جس کا مقصد حکومتوں کو نجی شعبے کے ساتھ تعاون کی ترغیب دینا ہے تاکہ جائز تجارت کے تقاضوں اور ان آلات کے غلط استعمال کے خطرات کے درمیان مناسب توازن قائم کیا جا سکے۔ یہ کوشش ایسے بین الاقوامی اقدامات سے بھی ہم آہنگ ہے جو کیمیائی مواد کا غیر قانونی منشیات کی تیاری میں استعمال روکنے کے لیے کیے جاتے رہے ہیں۔
سپلائی چین کے تحفظ کا اقدام
اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ ایسے آلات بار بار استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں اور مدت استعمال کے دوران انہیں کئی مرتبہ فروخت کیا جا سکتا ہے، یہ ایک سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں اور انہیں مرمت یا ازسرنو تیار کرنے کے علاوہ دوبارہ بھی برآمد کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سپلائی چین کی نگرانی صرف ابتدائی تیاری اور فروخت تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔
ادارے نے ان آلات کی سپلائی چین میں شامل اہم فریقین کا نقشہ تیار کیا ہے جس میں آلات بنانے والے اداروں، ان کے تاجروں اور تقسیم کاروں سے لے کر انصرامی مدد فراہم کرنے والوں، استعمال شدہ آلات کے ڈیلروں، آلات کی مرمت و بحالی اور ان میں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی لانے والے اداروں، آن لائن بازاروں اور ایسے آلات کو تلف کرنے کی خدمات فراہم کرنے والوں تک سبھی شامل ہیں۔
تھری ڈی پرنٹنگ سے لاحق خطرہ
اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ استعمال شدہ آلات کی منڈیاں اور آن لائن پلیٹ فارم بعض آلات تک جائز رسائی کے لیے تیزی سے اہمیت کرتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر چھوٹی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے ان جگہوں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، اس معاملے میں دستاویزات، شفافیت اور جانچ پڑتال کے معیار میں بہت سا فرق پایا جا سکتا ہے۔ نیلامی اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ان کی کی منتقلی اور خریدوفروخت کا موثر سراغ لگانا آسان نہیں ہوتا۔ اس طرح ان کے منشیات کی تیاری میں استعمال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کا تعاون بہت ضروری ہے۔
'آئی این سی بی' نے تھری ڈی پرنٹنگ کے حوالے سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں یہ مخصوص اقسام کے خصوصی آلات کی خریدوفروخت کی نگرانی سے متعلق نئے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
یہ اشاعت ادارے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے جبکہ اس کی مزید تفصیلات حکومتوں کے لیے بھی جاری کی گئی ہیں جس سے انہیں اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔