انسانی کہانیاں عالمی تناظر

طالبان اہلکاروں کی زیادتیوں کے محاسبے پر ابہام، اقوام متحدہ

افغانستان میں UN عملے نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جب UN جھنڈا مشن ہیڈ کوارٹر پر آدھا سرک گیا۔
UN Photo/Tilak Pokharel افغانستان کے دارالحکومت کابل میں یو این کے امدادی مشن یوناما کا ہیڈ کوارٹر۔

طالبان اہلکاروں کی زیادتیوں کے محاسبے پر ابہام، اقوام متحدہ

جرائم کی روک تھام اور قانون

افغانستان میں طالبان کی حکومت کو پانچ سال مکمل ہونے کے بعد ملکی عوام کے پاس اب بھی یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ آیا اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو کبھی سزا بھی ملتی ہے یا نہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہ راز داری ریاست پر شہریوں کے اعتماد کو مسلسل مجروح کر رہی ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی نئی رپورٹ کے مطابق، طالبان نے نظم و ضبط اور نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے بعض اقدامات ضرور کیے ہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ جیسے اداروں میں نگرانی اور احتساب کے حوالے سے شفافیت کا فقدان ہے۔

Tweet URL

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طاقت کے استعمال، گرفتاری، حراست، تلاشی اور ہجوم سے نمٹنے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے اقدامات سے متعلق قواعد کو واضح کرنا ضروری ہے۔

قانون شکنی کی حوصلہ افزائی

رپورٹ میں نام نہاد سکیورٹی اینڈ فلٹریشن کمیشن اور وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے اداروں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے، جو طالبان کی جانب سے شریعت کی سخت تشریح کے مطابق قائم کیے گئے اور جنہوں نے سابق جمہوری آئین کی جگہ لے لی ہے۔

یوناما کی سربراہ اور افغانستان کے لیے سیکرٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جارجیٹ گیگنن نے کہا ہے کہ حکام یا انتظامیاہلکاروں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات، ان پر کی جانے والی تحقیقات اور متعلقہ طالبان حکام کی جانب سے کی جانے والی محکمانہ یا عدالتی کارروائیوں کے بارے میں عوامی سطح پر محدود معلومات اعتماد کو مجروح اور قانون شکنی کو روکنے کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ آئین کی معطلی کے نتیجے میں طالبان کی حکومت سے پہلے نافذ العمل تمام قوانین یکسر منسوخ کر دیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں کا احتساب کمزور پڑ گیا ہے۔

خوف اور اداروں پر عدم اعتماد

رپورٹ میں ایسے واقعات کا تذکرہ بھی شامل ہے جن میں طالبان حکام نے سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ بدسلوکی پر گرفتاریاں اور تحقیقات کیں۔ ان میں سے بعض معاملات طالبان کی فوجی عدالتوں کو بھی بھیجے گئے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق بہت سی شکایات اب بھی زیر التوا ہیں اور ان پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو شکایات سامنے لانے سے روکنے والے عوامل میں انتقامی کارروائیوں کا خوف، اداروں پر عدم اعتماد اور مختلف رکاوٹیں شامل ہیں۔ یہ رکاوٹیں خاص طور پر خواتین کے لیے کہیں زیادہ سنگین ہیں کیونکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں پہلے ہی متعدد پابندیوں کا سامنا ہے۔

موثر احتساب کا مطالبہ

جارجیٹ گیگنن نے کہا ہے کہ احتساب کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے کہ قواعد سب پر یکساں طور سے لاگو ہوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کو بھی قانون کا سامنا کرنا پڑے۔ احتساب کو بہتر بنانا طالبان حکام کی قانونی ذمہ داری اور اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کی جانب ایک ضروری قدم ہے۔ یہ افغانستان کے استحکام اور اس کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری میں معاون ثابت ہو گا اور ملک کو دوبارہ عالمی برادری کا حصہ بننے میں مدد ملے گی۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ طالبان حکام تمام سکیورٹی اداروں میں احتساب کے نظام کو مضبوط بنائیں۔ اس مقصد کے لیے واضح قواعد، طریقہ ہائے کار اور ضابطہ اخلاق نافذ کیے جائیں جو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس میں طاقت کے استعمال، گرفتاری، حراست، تلاشی اور ہجوم سے نمٹنے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے طرز عمل سے متعلق قواعد کو واضح کرنا اور پیشہ وارانہ طریقہ کار کے واضح معیار مقرر کرنا بھی شامل ہے۔